আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৪১৫৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدُ فِيهِ وَلَكِنْ لِيَقُولَنَّ تَفَسَّحُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يَتَوَلَّى مَوْلَى الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ثُمَّ كَتَبَ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے صحیفے میں ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دینار چھوڑ جائے وہ ایک داغ ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب نماز کے لئے اعلان کیا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے شام کی جانب رخ کیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے پھر عراق کی طرف رخ کیا اور یہی دعاء فرمائی اور افق کی سمت رخ کر کے اسی طرح دعاء کرنے کے بعد فرمایا اے اللہ ہمیں زمین کے پھل عطا فرما اور ہمارے مد اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بندے کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہوگا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَيْرُ كُلِّ عَبْدٍ فِي عُنُقِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے نفقہ میں اضافے کی درخواست کی اس وقت نبی ﷺ کے پاس کچھ نہیں تھا لہذا نبی ﷺ ایسا نہ کرسکے حضرت صدیق اکبر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر نے بھی آکر اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہوگئے اس وقت نبی ﷺ تشریف فرما تھے اور اردگرد ازواج مطہرات تھیں حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اگر آپ بنت زید (اپنی بیوی) ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبادوں گا اس پر نبی ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں۔ یہ سن کر حضرت صدیق اکبر اٹھ کر حضرت عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی ﷺ سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی ﷺ نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی ﷺ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گے جو نبی ﷺ کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ النَّفَقَةَ فَلَمْ يُوَافِقْ عِنْدَهُ شَيْءٌ حَتَّى أَحْجَزْنَهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أَتَاهُ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَأُذِنَ لَهُمَا وَوَجَدَاهُ بَيْنَهُنَّ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَةَ زَيْدٍ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَوَجَأْتُهَا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَأَرَادَ بِذَلِكَ أَنْ يُضْحِكَهُ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَبَسَنِي غَيْرُ ذَلِكَ فَقَامَا إِلَى ابْنَتَيْهِمَا فَأَخَذَا بِأَيْدِيهِمَا فَقَالَا أَتَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَا لَا نَعُدْ فَعِنْدَ ذَلِكَ نَزَلَ التَّخْيِيرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مجالس امانت کے ساتھ قائم رہتی ہیں سوائے تین قسم کی مجلسوں کے ایک تو وہ مجلس جس میں ناحق خون بہایا جائے دوسری وہ مجلس جس میں کسی پاکدامن کی آبروریزی کی جائے اور تیسری وہ مجلس جس میں ناحق کسی کا مال چھین کر اسے اپنے اوپر حلال سمجھا جائے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ قَالَ حُسَيْنٌ فِيمَا سِوَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے عرض کیا کہ ہمیں اسی طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی ﷺ کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) کا ایک پڑوسی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا تو حضرت جابر (رض) مجھے سلام کرنے کے لئے تشریف لائے میں انہیں یہ بتانے لگا کہ لوگ کسی طرح آپس میں افتراق کا شکار ہیں اور انہوں نے کیا کیا بدعات تیار کرلی ہیں جسے سن کر حضرت جابر (رض) رونے لگے پھر کہنے لگے میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اب فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہوگئے عنقریب اسی طرح فوج درفوج نکل بھی جائیں گے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَاءَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ افْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا أَحْدَثُوا فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے نبی ﷺ سے پیاس کی شکایت کی نبی ﷺ نے برتن منگوایا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی ﷺ نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور فرمایا خوب اچھی طرح پیو چناچہ لوگوں نے اسے پیا میں نے اس دن دیکھا کہ نبی ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں۔
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ اشْتَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْعَطَشَ قَالَ فَدَعَا بِعُسٍّ فَصُبَّ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَقَالَ اسْقُوا فَاسْتَقَى النَّاسُ قَالَ فَكُنْتُ أَرَى الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں نبی ﷺ کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کردیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی ﷺ سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی ﷺ نے نوش فرمایا اور نبی ﷺ کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا فَقَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگانے میں شہد کے ایک چمچے میں یا اس طرح آگ سے داغنے میں ہے جو مرض کے مطابق ہو لیکن میں داغنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَاءً وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ ثقیف کے لئے دعاء فرمائی کہ اے اللہ قبیلہ ثقیف کو ہدایت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی ﷺ واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی ﷺ کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی ﷺ نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا پھر ایسا کرو کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کرو کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کروں۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کرلو دوسرے حصے میں میں کرلوں گا۔ چناچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چناچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیرمارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ کیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کیے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی ﷺ نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہوتی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قِرَاءَةً حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَأُصِيبَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا وَجَاءَ زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَنْتَهِيَ حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَقَالَ مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَكُونُوا بِفَمِ الشِّعْبِ قَالَ وَكَانُوا نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنْ الْوَادِي فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ قَالَ اكْفِنِي أَوَّلَهُ فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ عَادَ لَهُ بِثَالِثٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ فَقَالَ اجْلِسْ فَقَدْ أُوتِيتَ فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنْ الدِّمَاءِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَلَا أَهْبَبْتَنِي قَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأُرِيتُكَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا
তাহকীক: