আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৩১৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي الْمَعْمَرِيَّ عَنْ سُفْيَانَ وَأَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ ملاقات کے لئے ہمارے گھر تشریف لائے وہاں آپ نے بکھرے بالوں والا ایک آدمی دیکھا تو فرمایا کہ اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ جس سے یہ اپنے سر کو سکون دے سکے اور ایک آدمی کے جسم پر میلے کچیلے کپڑے دیکھے تو فرمایا کہ اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو سکے۔
حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دباء، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ و حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَفَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ جَابِرٌ ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کیا میل باقی بچے گا۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ مَثَلُ نَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ الدَّنَسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے باغ میں کوئی شریک ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آجائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے اور وہ جلد بازی کریں گے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقِدْحِ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک چادر میں اپنے جسم کو نہ لپیٹا کرو تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے اور نہ ہی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آجانے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَلَمٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ شَكَّ هِشَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا امام کو یاد کرانے کے لئے مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آواز میں تالی بجانی چاہیے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی ﷺ نے پوچھا کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی ﷺ نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی ﷺ نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کرلیا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ قَالَ فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ فَقَالُوا تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا قَالَ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكُمْ قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ قَالَ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي قَالَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ قَالَ الْأَسْوَدُ حَسِبْتُهُ قَالَ كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شادی شدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی ﷺ نے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا میں نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب فلاں موقع پر آپ کے ساتھ شہید ہوگئے تھے اور کچھ بچیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ان میں ان ہی جیسی بچی کو لانا اچھا نہیں سمجھا اس لئے شوہر دیدہ سے شادی کرلی تاکہ وہ ان کی جوئیں دیکھ سکے اور قمیص پھٹ جائے تو سی دے نبی ﷺ نے فرمایا تم نے خوب سوچا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَثَيِّبًا نَكَحْتَ أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ قَالَ فَقَالَ لِي فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً قَالَ قُلْتُ لَهُ قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ قَالَ فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا اے گروہ مہاجرین و انصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال و دولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لئے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چناچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لئے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہوگیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس سے گذرا اس وقت وہ حضرت عائشہ کے لئے سواری تیار کر رہے تھے نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا جابر (رض) کیا ہوا میں نے عرض کیا اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہوگیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی ﷺ نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے ٹھہرنے کے لئے فرمایا اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی ﷺ نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا یہ رہا تمہارا اونٹ۔ لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی ﷺ اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر (رض) کیا کہہ رہے ہو اس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لئے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی ﷺ نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہوگیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی ﷺ نے فرمایا واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی ﷺ نے فرمایا میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی ﷺ نے پوچھا کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ اونٹ تو آپ کا ہوچکا نبی ﷺ نے فرمایا اپنے اونٹ پر سوار ہوجا میں نے عرض کیا کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی ﷺ نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہوگیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی ﷺ کو ایک اوقیہ میں فروخت کردیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی ﷺ نے اس کی لگام پکڑ کر حضرت بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر (رض) کو وزن کرکے ایک اوقیہ چاندی دیدو اور پورا تولنا چناچہ میں حضرت بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کردی میں واپس آیا اور نبی ﷺ اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بےخودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ نبی ﷺ نے پکار کر کہا اے جابر (رض) کہاں گیا ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی ﷺ نے فرمایا جاؤ اسے بلا کر لاؤ چناچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر (رض) تمہیں نبی ﷺ بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چناچہ میں نے اسے لے لیا نبی ﷺ نے فرمایا میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لئے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چناچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک اوقیہ چاندی بھی دی ہے اور میرا اونٹ بھی مجھے واپس کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ قَالَ هَذَا جَمَلُكَ قَالَ وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي قَالَ وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ قَالَ قُلْتُ يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ قَالَ فَسَمِعَ مَا قُلْتُ قَالَ فَلَحِقَ بِي فَقَالَ مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ قَالَ فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا لَهْفَاهُ أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكَمْ قَالَ قُلْتُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ قَالَ لِي بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ فَنَزَلْتُ عَنْ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُلْتُ جَمَلُكَ قَالَ قَالَ لِي ارْكَبْ جَمَلَكَ قَالَ قُلْتُ مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ قَالَ كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ قَالَ فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَقُلْتُ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا قَالَ ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ قَالَ قُلْتُ دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ثُمَّ نَادَى بِلَالًا فَقَالَ زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنْ الْوَزْنِ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ قَالَ قُلْتُ لَهُ قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ قَالَ فَنَادَى أَيْنَ جَابِرٌ قَالُوا ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ أَدْرِكْ ائْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ يَا جَابِرُ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ فَخُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذْتُهُ قَالَ فَقَالَ لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي وَبِالْوَقِيَّةِ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی ﷺ واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی ﷺ کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی ﷺ نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا پھر ایسا کرو کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کرو کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کروں۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کرلو دوسرے حصے میں میں کرلوں گا۔ چناچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چناچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیر مارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کئے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی ﷺ نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہوتی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ فِيمَا يَذْكُرُ مِنْ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِبَادَةِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ مِنْ نَجْدٍ فَأَصَابَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِلَى نَجْدٍ فَغَشِينَا دَارًا مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَأَصَبْنَا امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَجَاءَ صَاحِبُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَذُكِرَ لَهُ مُصَابُهَا فَحَلَفَ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا قَالَ فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ وَقَالَ مَنْ رَجُلَانِ يَكْلَآَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ مِنْ عَدُوِّنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَحْنُ نَكْلَؤُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ دُونَ الْعَسْكَرِ ثُمَّ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَتَكْفِينِي أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ أَمْ تَكْفِينِي آخِرَهُ وَأَكْفِيكَ أَوَّلَهُ قَالَ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ بَلْ اكْفِنِي أَوَّلَهُ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ فَنَامَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي قَالَ فَافْتَتَحَ سُورَةً مِنْ الْقُرْآنِ فَبَيْنَا هُوَ فِيهَا يَقْرَأُ إِذْ جَاءَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَ قَائِمًا عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَيَنْتَزِعُ لَهُ بِسَهْمٍ فَيَضَعُهُ فِيهِ قَالَ فَيَنْزِعُهُ فَيَضَعُهُ وَهُوَ قَائِمٌ يَقْرَأُ فِي السُّورَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ الثَّالِثَةَ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ اقْعُدْ فَقَدْ أُوتِيتُ قَالَ فَجَلَسَ الْمُهَاجِرِيُّ فَلَمَّا رَآهُمَا صَاحِبُ الْمَرْأَةِ هَرَبَ وَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نُذِرَ بِهِ قَالَ وَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ يَمُوجُ دَمًا مِنْ رَمْيَاتِ صَاحِبِ الْمَرْأَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ الْمُهَاجِرِيُّ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ قَالَ فَقَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ قَدْ افْتَتَحْتُهَا أُصَلِّي بِهَا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهَا وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ
tahqiq

তাহকীক: