আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৭৩৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حجر اسود پر آگئے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہونے کی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ الدَّنَانِيرِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی ﷺ نے اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ کر فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر دو لکیریں اس کے دائیں بائیں کھینچ کر فرمایا کہ یہ شیطان کا راستہ ہے پھر درمیان والی لکیر پر ہاتھ رکھ کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جانا ورنہ تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے یہی اللہ کی تمہیں وصیت ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ فَقَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَسْوَدِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس جانے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو وہ اپنے شریک کے ساتھ پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں نکلے راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو یہیں نماز پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مشرکین سے قتال کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر (رض) تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا واللہ اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہوتیں تو میری خواہش ہوتی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چناچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کرلے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کردیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید ہوئے تھے چناچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کردیا۔ حضرت امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر (رض) حضرت معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کردیا مجبو رہو کر میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہوگئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کردیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کریں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی ﷺ نے فرمایا اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت انشاء اللہ آؤں گا چناچہ نبی ﷺ چند صحابہ کے ساتھ آگئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی ﷺ آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی ﷺ کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی ﷺ سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کرو اور نبی ﷺ کے بیدار ہونے سے پہلے اس سے فارغ ہوجاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چناچہ نبی ﷺ کے بیدار ہونے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہوگئے میں نے اس سے کہا کہ نبی ﷺ جب بیدار ہوں تو وضو کے لئے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ان کے سامنے کھانا پیش کردیا جائے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی ﷺ نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی ﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہوگیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی ﷺ نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آگئے نبی ﷺ نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا واللہ بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی ﷺ کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لئے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی ﷺ کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کھڑے ہوگئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا کردیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کرے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا جابر (رض) پر اگلے سال تک کے لئے تھوڑی دیر آسانی کردو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی ﷺ نے فرمایا جابر (رض) کہاں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں یہاں ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ناپ کردینا شروع کردو اللہ پورا کردے گا میں نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی تو سورج ڈھل چکا تھا میں نے عرض کیا اے ابوبکر نماز کا وقت ہوگیا ہے چناچہ وہ لوگ مسجد میں چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا برتن لاؤ اور میں نے اس کو ناپ کر عجوہ کھجور دیدی اللہ نے اسے پورا کردیا اور اتنی مقدار بچ گئی میں ڈورتا ہوا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ناپ کردی تو اللہ نے اسے پورا کردیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی نبی ﷺ نے فرمایا عمر بن خطاب کہاں ہیں وہ دوڑتے ہوئے آئے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جابر (رض) سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو انہوں نے عرض کیا میں نہیں پوچھوں گا اس لئے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا تیسری مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کی بات کو رد کرنا مناسب نہیں سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر (رض) تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کردیا بلکہ اتنی کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ نبی ﷺ سے کوئی بات نہ کرنا اس نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نبی ﷺ کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لئے اور اپنے شوہر کے لئے دعا کی درخواست بھی نہ کروں گی ؟۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعْ الْقَتْلُ أَوْ الْقَتِيلُ فَوَارَيْتُهُ قَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ فَقَالَ نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ وَدَخَلَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ فَلَا أَرَيْتُكِ وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ وَلَا تُكَلِّمِيهِ فَدَخَلَ فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ قَالَ وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَكَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ يَا جَابِرُ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنِ مَعَهُ فَدَخَلُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ وَكَانَ يَقُولُ خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ وَأَخْرَجَتْ امْرَأَتِي صَدْرَهَا وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي فُلَانًا لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ وَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى فَقَالَ أَيْنَ جَابِرٌ فَقَالَ أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كِلْ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ فَكِلْتُ لَهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ كَأَنِّي شَرَارَةٌ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ فَقَالَ سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا جَابِرُ مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ قَالَ قُلْتُ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے (پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا) نبی ﷺ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ أَنْ يَصُومَ فِي السَّفَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زائد زمین ہو یا پانی ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ سے فرمایا کہ اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئے گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں نہ کریں تو وہی لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایساوجود داخل نہیں ہوسکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہوگی اے کعب بن عجرہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کردیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کردیں گے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُمَرَاءٌ سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَمْ يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَغَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ وَغَادٍ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ وَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھرمت جاؤ۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں قبر کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ سَنَةَ مِائَةٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں بنو عذرہ کا ایک آدمی فوت ہوگیا لوگوں نے اسے راتوں رات ہی قبر میں اتار دیا نبی ﷺ نے معلوم ہونے پر رات کو قبر میں کسی بھی شخص کو اتارنے سے منع فرمادیا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الاّ یہ کہ مجبوری ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ فَقُبِرَ لَيْلًا فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکری لائی گئی میں نے اسے منہ میں رکھ کر چباڈالی تو مجھے اس میں گھٹلی محسوس ہوئی جس سے مجھے اذیت ہوئی اور میں نے اسے پھینک دیا میں نے پھر کھجور کو اٹھا کر منہ میں رکھا اس مرتبہ بھی ایساہی ہوا تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا کہ اس کی تعبیر مجھے بتانے کی اجازت دیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی تعبیر بیان کرو انہوں نے عرض کیا کہ اس سے مراد آپ کا لشکر وہ ہے جو آپ نے ہمیں بھیجا ہوا ہے وہ صحیح سالم مال غنیمت لے کر آئے گا انہیں ایک آدمی ملے گا جو انہیں آپ کی داڑھی کا واسطہ دے گا اور وہ اسے چھوڑ دیں گے تین مرتبہ اسی طرح ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا فرشتے نے بھی یہی تعبیر دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي أَتَيْتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي فَلَفَظْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا قَالَ قَالَ اعْبُرْهَا قَالَ هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ يَسْلَمُ وَيَغْنَمُ فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ قَالَ كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو جب حدبندی ہوجائے اور راستے الگ ہوجائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہوگی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس سے جداہو گئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّمَا هِيَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَنْ أَعْطَاهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس ذالحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ بَعْدَمَا زَالَتْ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو دوسرے شہر میں انتقال کر گیا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نجاشی اصحمہ میں نے پوچھا کہ پھر فرمایا کہ آپ نے صفیں باندھیں تو انہوں نے فرمایا ہاں اور میں تیسری صف میں تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ سَعِيدٍ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ قَالُوا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّجَاشِيُّ أَصْحَمَةُ قَالَ فَقُلْتُ فَصَفَفْتُمْ عَلَيْهِ قَالَ نَعَمْ كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّالِثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے چلتے کسی حجرے پر پہنچے نبی ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کچھ روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دیں نبی ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن ہے انہوں نے عرض کیا البتہ تھوڑا ساسر کہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں اس وقت سے سرکہ کو پسند کرتا ہوں جب سے میں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ مَا مِنْ غَدَاءٍ أَوْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ قَالَ مَا مِنْ أُدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ أَدْنِيهِ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدْمُ هُوَ قَالَ جَابِرٌ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت ابوہریرہ (رض) مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے لیے سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بنادے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ زَكَاةً وَرَحْمَةً
tahqiq

তাহকীক: