আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৩৭৫৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گذر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے اور اگر راستے سے بھٹک جاؤ تو اذان دیا کرو نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضا حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَجِدُّوا وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمْ الْغِيلَانُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کردیا (گویا قسم کو دوسرا گواہ تسلیم کرلیا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْعِرَاقِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ كَانَ أَبِي قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدٌ الثَّقَفِيَّ عَلَى جَابِرٍ فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَرَأَهُ عَلَيَّ وَكَتَبَ عَلَيْهِ هُوَ صَحَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اس دن سوائے نبی ﷺ اور حضرت طلحہ کے کسی کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا حضرت علی یمن سے آئے تھے تو ان کے پاس بھی ہدی کا جانور تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اسی نیت سے احرام باندھا تھا جس نیت سے نبی ﷺ نے باندھا ہے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر طواف سعی کرلیں پھر بال کٹوا کر حلال ہوجائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کریں اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئیں تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا حضرت عائشہ اس دوران میں تھیں چناچہ انہوں نے سارے مناسک حج تو ادا کرلے البتہ طواف نہیں کیا اور جب فارغ ہوگئیں تو طواف کرلیا اور کہنے لگے یارسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ ؟ نبی ﷺ نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چناچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے ؟ فرمایا یہی حکم ہمیشہ کے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَنِّي أَسْتَقْبِلُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتُدْبِرَ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا فَقَالَ أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈیاں یا کمر میں موچ آجانے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ رَوْحٌ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْيٍ كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی ﷺ اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی ﷺ ان کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے یا گدھے کے چلانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ یہ جانور وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھ سکتے جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو کیونکہ جس دروازے کو بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو مٹکے ڈھک دیا کرو اور برتنوں کو اوندھا کردیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ح وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنْ اللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتْ الرِّجْلُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ قَالَ يَزِيدُ وَأَوْكِئُوا الْقِرَبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کرلی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہوگیا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی ﷺ نے انکار کردیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی ﷺ نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کردیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوگا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اگر کسی کے دو بچے فوت ہوجائیں تو ؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے تو نبی ﷺ فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے حضرت جابر (رض) نے فرمادیا واللہ میر ابھی یہی خیال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ قَالَ مَحْمُودٌ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدٌ لَقَالَ وَوَاحِدٌ قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے تین سو افراد پر مشتمل ایک دستہ بھیجا اور ان پر حضرت ابوعبید بن جراح کو امیر مقرر کردیا راستے میں ہمارا زاد سفرختم ہوگیا حضرت ابوعبید نے تمام لوگوں کا توشہ ایک برتن میں اکٹھا کیا اور اس میں سے کھانے کے لئے دیتے رہے ہمیں روزانہ کی صرف ایک کھجور ملتی تھی ایک آدمی نے حضرت جابر (رض) سے پوچھا اے ابوعبداللہ ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا یہ تو ہمیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک کھجور بھی ملناختم ہوگئی اسی دوران ہمارا گذر بڑے ٹیلے کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی لشکر اسے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے پھر حضرت عبید نے اس مچھلی کی دو پسلیاں لے کر انہیں نصب کیا پھر ایک سواری کو اس کے نیچے سے گذارا تو پھر بھی وہ اس کی پسلی سے نہیں ٹکرایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَنَفِدَ زَادُنَا فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فَجَعَلَهُ فِي مِزْوَدٍ فَكَانَ يُقِيتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَمَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ قَالَ قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ ذَهَبَتْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّاحِلِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ الْعَظِيمِ قَالَ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُمَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ فَمَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ يُصِبْهَا شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون ساحصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہاہوں جو خود نبی ﷺ نے ہمیں بتائی تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حرا کا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چناچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى ح وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْمَعْنَى قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَذَكَرَ أَيْضًا قَالَ فَنَظَرْتُ فَوْقِي فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر وہ مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ فَتَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال پوچھا تو آپ نے فرمایا ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلا دینا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہے نبی ﷺ نے فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو " جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے " دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو ؟
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ قَالَ لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کی گیا تو آپ نے " نہیں " کبھی نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی ﷺ کے سامنے لا کر رکھا گیا ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے پر سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کردیا لیکن نبی ﷺ نے مجھے منع نہیں کیا اسی اثناء میں نبی ﷺ نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی نبی ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا بنت و عمر یا اخت عمرو نبی ﷺ نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھالیا گیا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَنْهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً صَوْتَ صَائِحَةٍ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے یہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام " قاسم " رکھ دیا ہم نے اس سے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم رکھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ کریں گے اس پر وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور ساری بات ذکر کی نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ دو ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ
তাহকীক: