আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
سلام کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭ টি
হাদীস নং: ৫৭৬৬
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، عقیل ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن سعید بن مسیب ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کلونجی میں سوائے موت کے ہر بیماری کی شفاء ہے السَّامُ کا معنی موت اور الْحَبَّةُ السَّوْدَائُ کا معنی الشُّونِيزُ یعنی کلونجی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَائِ شِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا السَّامَ وَالسَّامُ الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَائُ الشُّونِيزُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৭
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں
ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ایوب ابویمان شعیب زہری، ابوسلمہ ابوہریرہ (رض) ان اسناد سے بھی یہ حدیث نبی ﷺ سے مروی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَائُ وَلَمْ يَقُلْ الشُّونِيزُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৮
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بیماری ایسی نہیں سوائے موت کے جس کی شفاء کلونجی میں نہ ہو۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ دَائٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَائِ مِنْهُ شِفَائٌ إِلَّا السَّامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৯
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ اور شہد کے حریرہ کا مریض کے دل کے لئے مفید ہونے کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد عقیل بن خالد ابن شہاب عروہ سیدہ عائشہ (رض) زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ان کے گھر والوں میں سے جب کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کی تعزیت کے لئے عورتیں جمع ہو کر چلی جاتیں اور ان کے گھر والے اور خواص ہی باقی رہ جاتے تو سیدہ (رضی اللہ عنہا) ہانڈی میں شہد اور دودھ ملا کر حریرہ پکانے کا حکم دیتیں جب وہ پک جاتا پھر ثرید بنایا جاتا پھر ثرید میں دودھ اور شہد کا حریرہ ڈال دیا جاتا پھر فرماتیں اس میں سے کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے دودھ اور شہد ملا حریرہ مریض کے دل کو خوش کرتا ہے اور رنج وغم کو دور کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِکَ النِّسَائُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ کُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭০
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد پلا کر علاج کرنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابی متوکل ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے پلایا پھر آکر عرض کیا میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس کے دستوں میں مزید زیادتی ہوگئی آپ ﷺ نے اسے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے عرض کیا میں نے پلایا لیکن اس کے دستوں میں زیادتی ہی ہوتی چلی گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے پس اس نے پھر شہد پلایا تو وہ صحت مند ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَائَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا فَقَالَ لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ اللَّهُ وَکَذَبَ بَطْنُ أَخِيکَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭১
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد پلا کر علاج کرنے کے بیان میں
عمرو بن زرارہ عبدالوہاب ابن عطاء، سعید قتادہ، ابومتوکل ناجی، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا میرے بھائی کا پیٹ خراب ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا اسے شہد پلاؤ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ فَقَالَ لَهُ اسْقِهِ عَسَلًا بِمَعْنَی حَدِيثِ شُعْبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭২
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، مالک محمد بن منکدر ابی نضر مولیٰ عمر بن عبیداللہ عامر، حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے تو اسامہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل پر یا ان لوگوں پر بھیجا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے پس جب تم سنو کہ فلاں علاقہ میں طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب تمہارے رہنے کی جگہ میں واقع ہوجائے تو اس زمین سے طاعون سے فرار ہو کر مت نکلو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا يُخْرِجُکُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৩
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن قرشی، ابی نضر، عامر بن سعد بن ابی وقاص، حضرت اسامہ (رض) بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون عذاب کی علامت و نشانی ہے اللہ عز وجل نے اپنے بندوں میں سے بعض لوگوں کو اس عذاب میں مبتلا کیا پس جب تم اس بارے میں سنو تو اس جگہ مت داخل ہو اور جب تمہارے رہنے کی زمین میں واقع ہوجائے تو اس سے بھاگو مت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَی اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৪
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی سفیان، محمد بن منکدر، عامر بن سعد، حضرت اسامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ طاعون ایک عذاب ہے جسے تم سے پہلے لوگوں پر یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا جب تم ایسی زمین میں ہو تو طاعون سے بھاگتے ہوئے اس علاقہ سے مت نکلو اور جس جگہ طاعون ہو تو تم وہاں مت جاؤ۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَوْ عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ وَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৫
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عمرو بن دینار، عامر بن سعد، سعد ابن ابی وقاص، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے طاعون کے بارے میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ عذاب یا بیماری ہے جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ یا کچھ لوگوں پر جو تم سے پہلے گزر چکے بھیجا تھا پس جب تم کسی زمین میں اس کی اطلاع سنو تو اس علاقہ میں مت جاؤ اور جب طاعون تم پر آجائے تو اس علاقہ سے بھاگ کر مت نکلو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَی طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ کَانُوا قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْکُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৬
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
ابوربیع سلیمان بن داؤد قتیبہ بن سعید، حماد ابن زید ابوبکر بن ابی شبیہ سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار ابن جریج، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৭
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
ابوطاہر احمد بن عمرو حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عامر بن سعد، حضرت اسامہ بن زید (رض) بن زید رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ (طاعون) درد یا بیماری ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ تم سے پہلی بعض قوموں کو عذاب دیا گیا پھر یہ ابھی تک زمین میں باقی ہے کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتا ہے پس جو کسی علاقہ میں اس کی اطلاع سنے تو وہ اس جگہ نہ جائے اور جو اس زمین میں موجود ہو جہاں یہ واقع ہوجائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوْ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَی فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৮
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
ابوکامل جحدری عبدالوحد ابن زیاد معمر، زہری، یونس اس سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৯
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، حضرت حبیب (رح) سے روایت ہے کہ ہم مدینہ میں تھے تو مجھے یہ خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون واقع ہوچکا ہے تو مجھے حضرت عطاء بن یسار اور ان کے علاوہ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی جگہ قیام پذیر ہو اور وہاں طاعون واقع ہوجائے تو تم وہاں سے نہ نکلو اور جب تجھے کسی علاقہ کے بارے میں خبر پہنچے تو وہاں داخل مت ہو میں نے کہا تم نے یہ بات کس سے سنی ہے انہوں نے کہا عامر بن سعد سے جو اسے روایت کرتے ہیں میں ان کے پاس گیا تو لوگوں نے کہا وہ موجود نہیں ہیں میں ان کے بھائی ابراہیم سے ملا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا میری موجودگی میں حضرت اسامہ نے یہ حدیث حضرت سعد کو بیان کی حضرت اسامہ (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے یہ درد بیماری ہے، یا عذاب یا عذاب کا بقیہ حصہ تم سے پہلے لوگوں کو اس کے ذریعے عذاب دیا گیا پس جب کسی علاقہ میں یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس علاقہ سے مت بھاگو اور جب تمہیں کسی علاقہ کے بارے میں اس کی خبر پہنچے تو اس علاقہ میں مت داخل ہو حبیب نے کہا کہ میں نے ابراہیم سے کہا تم نے حضرت اسامہ کو یہ حدیث حضرت سعد سے بیان کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا انہوں نے کہا ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ کُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْکُوفَةِ فَقَالَ لِي عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَکَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا قَالَ قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالُوا غَائِبٌ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِکُمْ فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَکُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا قَالَ حَبِيبٌ فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْکِرُ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮০
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، عطاء، بن یسار اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس سند کے ساتھ اس حدیث کی ابتداء میں حضرت عطاء بن یسار کا قصہ مذکور نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ قِصَّةَ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮১
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، حبیب، ابراہیم بن سعد، سعد بن مالک، خزیمہ بن ثابت، اسامہ بن زید، حضرت سعد بن مالک (رض) حضرت خزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ (رض) بن زید سے یہی روایت رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ شُعْبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮২
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، حبیب ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص اسامہ بن زید، سعد حضرت ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید اور سعد بیٹھے گفتگو کر رہے تھے تو انہوں نے ان کی حدیث مبارکہ کی طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ روایت کی۔
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ کَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৩
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
وہب بن بقیہ، خالد شیبانی، حبیب بن ابی ثابت، حضرت ابراہیم بن سعد بن مالک (رض) سے اپنے والد کے واسطہ سے نبی ﷺ سے یہی حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৪
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک بن شہاب عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب عبداللہ بن عبداللہ بن حارث ابن نوفل، عمر بن خطاب، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) شام کی طرف چلے جب مقام سرغ پہنچے تو لشکر والوں میں سے حضرت عبیدہ بن جراح (رض) نے حضرت عمر (رض) کو خبر دی کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رض) نے کہا میرے پاس مہاجرین اولین کو بلاؤ میں ان کو بلا لایا آپ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں خبر دی کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے پس انہوں نے اختلاف کیا ان میں سے بعض نے کہا آپ جس کام کے لئے نکل چکے ہیں ہمارا خیال ہے کہ آپ واپس نہ ہوں اور بعض نے کہا آپ کے ساتھ بعض متقدمین اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ہمارے خیال میں آپ کا انہیں اس وبا کی طرف لے جانا مناسب نہیں آپ نے کہا اچھا تم جاؤ پھر کہا میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے آپ کے لئے انہیں بلایا آپ نے ان سے مشورہ کیا تو وہ بھی مہاجرین کے راستہ پر چلے اور ان کے اختلاف کی طرح انہوں نے بھی اختلاف کیا آپ نے کہا میرے پاس سے تشریف لے جائیں پھر آپ نے کہا میرے پاس مہاجرین فتح مکہ سے قریشی بزرگوں کو لاؤ میں ان کو بلا لیا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہ کیا سب حضرات نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ واپس چلے جائیں اور ان کو اس وباء میں نہ لے جائیں حضرت عمر (رض) نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ میں سواری کی حالت میں صبح کرنے والا ہوں پس لوگ بھی سوار ہوگئے تو ابوعبیدہ بن جراح نے کہا کیا تم اللہ کی تقدیر سے فرار ہو رہے ہو حضرت عمر (رض) نے کہا اے ابوعبیدہ کاش یہ بات کہنے والا آپ کے سوا کوئی اور ہوتا اور حضرت عمر (رض) ان سے اختلاف کرنے کو پسند نہ کرتے تھے کہا ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف جا رہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ ایسی وادی میں اتریں جس کی دو گھاٹیاں ہوں ان میں سے ایک سرسبز اور دوسری خشک اور ویران و بنجر اگر آپ انہیں سرسبز و شاداب وادی میں چرائیں تو کیا یہ اللہ کی تقدیر سے نہ ہوگا اور اگر انہیں بنجر و ویران میں چرائیں تو کیا یہ بھی تقدیر الٰہی سے نہ ہوگا اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی آگئے جو کہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے موجود نہ تھے انہوں نے کہا میرے پاس اس بارے میں علم ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جب تم کسی علاقہ کے بارے میں اس اطلاع کو سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب یہ کسی علاقہ میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے مت نکلو ابن عباس (رض) نے کہا پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اللہ کی حمد بیان کی اور لوٹ گئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَکَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَائِ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَکُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ کَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَائِ فَنَادَی عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَی ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُکَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَکَانَ عُمَرُ يَکْرَهُ خِلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَی قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَتْ لَکَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَی جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَکَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৫
سلام کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، مالک معمر، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدہ سے کہا اگر کوئی آدمی سرسبز و شاداب وادی چھوڑ کر خشک اور بےآب وگیاہ وادی میں اپنے جانور چرائے تو کیا تم اسے قصور وار تصور کرو گے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے کہا بس چلو آپ چلے جب مدینہ آگیا تو آپ نے کہا یہی قیام گاہ ہے یا کہا یہی منزل ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَی الْجَدْبَةَ وَتَرَکَ الْخَصْبَةَ أَکُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسِرْ إِذًا قَالَ فَسَارَ حَتَّی أَتَی الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ
তাহকীক: