আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৬২ টি
হাদীস নং: ৬০৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل ایوب ابی قلابہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس آئے اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا جسے انجشہ کہا جاتا ہے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اگر تم میں سے کوئی اس طرح کی بات کرتا ہے تو تم اسے کھیل (مذاق) سمجھتے۔
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَکَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَلِمَةٍ لَوْ تَکَلَّمَ بِهَا بَعْضُکُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع سلیمان تیمی انس بن مالک، ابوکامل یزید بن تیمی، ام سلیم حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم (رض) جو کہ نبی کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ شیشوں کو لے کر چل۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
ابن مثنی عبدالصمد ہمام قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حدی خوان خوش الحان (یعنی اچھی آواز والا) تھا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ چل کہیں شیشوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزور عورتوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ لَا تَکْسِرْ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
ابن بشار ابوداؤد ہشام قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں حدی خوان کی خوش آوازی کا ذکر نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
مجاہد بن موسیٰ ابوبکر بن نضر بن ابی نضر ہارون بن عبداللہ ابی نضر ابوبکر ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو مدینہ منورہ کے خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آتے پھر جو برتن آپ ﷺ کے پاس لایا جاتا تو آپ ﷺ اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے اور اکثر اوقات سخت سردی کے موسم میں بھی یہ اتفاقات پیش آجاتے تو پھر بھی آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْغَدَاةَ جَائَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَائُ فَمَا يُؤْتَی بِإِنَائٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَائُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
محمد بن رافع ابونضر سلیمان ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا کہ حجام آپ ﷺ کی حجامت بنا رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) آپ ﷺ کے اردگرد تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال مبارک نیچے گرے بلکہ کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ میں آپ ﷺ کا بال گرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا وہ عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ ﷺ سے ایک کام ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ام فلاں تو جس جگہ چاہتی ہے ٹھہر لے میں تیراکام کر دوں گا تو آپ ﷺ نے ایک راستہ میں اس عورت سے علیحدگی میں بات کی یہاں تک کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً کَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْئٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّکَکِ شِئْتِ حَتَّی أَقْضِيَ لَکِ حَاجَتَکِ فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّی فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دو کاموں میں سے ایک کام کرنے کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے تھے شرط یہ ہے کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا ہو اور اگر گناہ کو کام ہوتا تو آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کام سے دور رہتے اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی وجہ سے انتقام نہیں لیا لیکن اگر کوئی آدمی اللہ کے حکم کے خلاف کام کرتا تو آپ ﷺ اسے سزا دیتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، احمد بن عبدہ فضیل بن عیاض منصور محمد فضیل ابن شہاب جریر، محمد زہری، عروہ حضرت عائشہ (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب، یونس، حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اس کام سے دور رہتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
ابوکریب ابن نمیر عبداللہ بن نمیر حضرت ہشام (رض) سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں أَيْسَرَهُمَا یعنی ان میں سے آسان کام کو اختیار فرمانے تک کا قول مذکور ہے لیکن اس کے بعد کا حصہ مذکور نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ أَيْسَرَهُمَا وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
ابوکریب ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ ہی کسی خادم کو مارا سوائے اس کے کہ اللہ کے راستے میں جو جہاد کیا جاتا ہے اور جس نے بھی آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس سے بدلہ نہیں لیا سوائے اس کے کہ جس نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو آپ ﷺ نے اللہ ہی کے لئے اس سے انتقام لیا۔
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْئٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَکَ شَيْئٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبدہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت منقول کی گئی ہے صرف کچھ کمی بیشی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
عمرو بن حماد بن طلحہ قناد اسباط ابن نصر ہمدانی سماک حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تو سامنے سے کچھ بچے آئے تو آپ ﷺ نے ان بچوں میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا کہ عطار کے ڈبہ سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَی ثُمَّ خَرَجَ إِلَی أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا قَالَ وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي قَالَ فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا کَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
قتیبہ بن سیعد جعفر بن سلیمان ثابت انس، زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ابن مغیر ثابت حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نہ عنبر کو نہ مشک اور نہ ہی کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو خوشبو میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر سے محسوس کی اور نہ ہی میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک سے زیادہ کسی دیباج اور ریشم کو نرم پایا۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ أَنَسٌ مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْکًا وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
احمد بن سعید صخر دارمی حباب حماد ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک سفید چمکتا ہوا تھا اور آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک موتی کی طرح چمکتا ہوا تھا اور جب آپ ﷺ چلتے تو آگے جھکتے ہوئے دباؤ ڈال کر چلتے تھے اور میں نے دیباج اور ریشم کو بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلیوں کو نرم پایا اور مشک وغیرہ میں وہ خوشبو نہیں تھی کہ جو رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک میں تھی۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَی تَکَفَّأَ وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ثابت، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا آپ ﷺ کو پسینہ آیا میری والدہ محترمہ ایک شیشی لائیں اور آپ ﷺ کا مبارک پسینہ پونچھ کر اس شیشی میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ بیدار ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم تم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم (رض) کہنے لگی یہ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر خوشبو محسوس کریں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَائَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ قَالَتْ هَذَا عَرَقُکَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
محمد بن رافع حجین بن مثنی عبدالعزیز ابن ابوسلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ام سلیم (رض) کے گھر تشریف لاتے تو ام سلیم کے بستر پر سو جاتے اور ام سلیم وہاں نہ ہوتیں۔ راوی حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ تشریف لائے تو ام سلیم (رض) کے بستر پر سو گئے ام سلیم آئیں تو ان سے لوگوں نے کہا نبی ﷺ آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر سو رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم (رض) اندر آئیں تو دیکھا کہ آپ ﷺ کو پسینہ آ رہا ہے اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو رہا ہے تو ام سلیم (رض) نے ایک ڈبہ کھولا اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ گھبرا گئے اور فرمانے لگے اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اپنے بچوں کے لئے اس پسینے سے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو ٹھیک کر رہی ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَی فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَائَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَی فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِکِ عَلَی فِرَاشِکِ قَالَ فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَی قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَی الْفِرَاشِ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَکَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم وہیب ایوب ابی قلابہ انس، حضرت ام سلیم (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لاتے تھے اور آرام فرماتے تھے ام سلیم آپ ﷺ کے لئے چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھا دیتی تھیں اس پر آپ ﷺ آرام فرماتے آپ ﷺ کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا ام سلیم آپ ﷺ کا پسینہ مبارک اکٹھا کرتی تھیں اور اسے خوشبو اور شیشیوں میں ملا دیتی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم یہ کیا ہے وہ کہنے لگیں یہ آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک ہے جس کو میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَکَانَ کَثِيرَ الْعَرَقِ فَکَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا قَالَتْ عَرَقُکَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي
তাহকীক: