আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৬২ টি

হাদীস নং: ৬০৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی سلام ابوالاحوص حضرت ابواسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ وہاں موجود لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک کا ذکر کیا تو کچھ لوگوں نے کہا حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ سے بڑے تھے حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور حضرت عمر فاروق (رض) تریسٹھ سال کی عمر میں شہید کئے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے ایک آدمی جسے عامر بن سعد کہا جاتا ہے کہنے لگا ہم سے حضرت جریر (رض) نے بیان کیا کہ ہم حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک کا تذکرہ کیا تو حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور حضرت ابوبکر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ہے اور حضرت عمر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں شہادت پائی۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَکَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ کَانَ أَبُو بَکْرٍ أَکْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَمَاتَ أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَذَکَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً وَمَاتَ أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق عامر بن سعد بجلی حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ (رض) سے سنا انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ہے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہوں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ فَقَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
ابن منہال ضریر یزید بن زریع یونس بن عبیداللہ حضرت عمار (رض) (بنی ہاشم کے مولا) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ کی عمر مبارک آپ کی وفات کے دن کتنی تھی تو انہوں نے فرمایا میرا خیال نہیں تھا کہ آپ ﷺ کی قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی اتنی سی بات تم سے پوشیدہ ہوگی میں نے کہا کہ میں نے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اختلاف کیا اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں اس سلسلے میں آپ کا قول جان لوں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تم حساب جانتے ہو میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا تم چالیس کو یاد رکھو اس وقت آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا پندرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے کبھی امن اور کبھی خوف کے ساتھ رہے اور پھر آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔
و حَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ أَتَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ فَقَالَ مَا کُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَکَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَی عَلَيْهِ ذَاکَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسُبُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِکْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَکَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَی الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
محمد بن رافع شبابہ بن سوار شعبہ، یونس حضرت یونس سے اس سند کے ساتھ یزید بن زریع کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
نصر بن علی بشر بن مفضل خالد خذا عمار مولیٰ بنی ہاسم حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی وفات پینسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔
و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، حضرت خالد سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، حنظلی روح حماد بن سلمہ عمار بن ابی عمار حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال قیام پذیر رہے آپ آواز سنتے (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کی) اور روشنی دیکھتے (یعنی راتوں کی تاریکی میں عظیم نور دیکھتے اور یہ سلسلہ) سات سال تک رہا لیکن آپ ﷺ کوئی صورت نہ دیکھتے اور پھر آٹھ سال تک وحی آنے لگی اور آپ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَی شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَی إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمرو زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت محمد بن جبیر (رض) بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں اور میں احمد بھی ہوں اور میں ماحی بھی ہوں یعنی اللہ میری وجہ سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں (قیامت کے دن) سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں (یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں، اس وجہ سے میرا ایک عاقب بھی ہے) ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَی بِيَ الْکُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت محمد بن جبیر (رض) بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بہت سے نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں اور میں حاشر ہوں (حاشر کا معنی یہ کہ قیامت کے دن) اللہ سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں (عاقب کا معنی یہ ہے کہ) جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا نام رؤف اور رحیم رکھا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمَيَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَئُوفًا رَحِيمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوسمان شعیب حضرت زہری (رض) سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور معمر کی حدیث میں سمعت رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ عاقب کے کیا معنی ہیں انہوں نے فرمایا جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور عقیل نے اپنے روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے اور شعیب نے اپنی روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْکَفَرَةَ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْکُفْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، عمرو بن مرہ ابی عبیدہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اپنے کئی نام بیان فرمائے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں محمد اور احمد اور مُقَفِّي اور حاشر، نبی التوبہ اور نبی الرحمت ہوں۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَائً فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابن ضحی مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت رکھی تو یہ بات آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے کچھ لوگوں تک پہنچی تو ان لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور اس سے پرہیز کیا آپ ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ جن کو یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے ایک کام کرنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ اسے ناپسند سمجھ رہے ہیں اور اس سے پرہیز کر رہے ہیں اللہ کی قسم میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور میں ہی اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَکَأَنَّهُمْ کَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَکَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اسحاق بن ابراہیم، علی بن حشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش حضرت اعمش (رض) سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے کرنے کے بارے میں اجازت عطا فرمائی تو لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے بچنے لگے جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام کے کرنے کی میں اجازت دی ہے اور وہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اللہ کی قسم میں سب سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّی بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ کی اتباع کے وجوب کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب عروہ ابن زبیر حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) بیان فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی حرہ کے ایک مہرے کے بارے میں کہ جس سے کھجور کے درختوں کو پانی لگاتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کرنے لگا انصاری نے کہا کہ پانی کو چھوڑ دے تاکہ وہ بہتا رہے۔ حضرت زبیر (رض) نے انکار کردیا تو سب نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس جھگڑے کا (ذکر کیا) رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا اے زبیر ! تو اپنے درختوں کو پانی دے پھر پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دے۔ انصاری (یہ بات سن کر) غصہ میں آگیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! یہ زبیر تو آپ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے (یہ بات سن کر) اللہ کے نبی ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے زبیر ! اپنے درختوں کو پانی دے پھر پانی کو روک لے یہاں تک کہ پانی دیواروں تک چڑھ جائے۔ حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا) 4 ۔ النسآء : 65) اس بارے میں نازل ہوئی ہے " اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ ﷺ کو حکم تسلیم نہ کرلیں اور پھر آپ "۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِّحْ الْمَائَ يَمُرُّ فَأَبَی عَلَيْهِمْ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَائَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِکَ فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں جس کام سے تمہیں روکتا ہوں تم اس سے رک جاؤ اور جس کام کے کرنے کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں تو تم اپنی استطاعت کے مطابق اس کام کو کرو کیونکہ تم سے پہلے وہ لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے کثرت سے سوال اور اختلاف کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَا کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا نَهَيْتُکُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ وَمَا أَمَرْتُکُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَی أَنْبِيَائِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
محمد بن احمد بن ابی خلف ابوسلمہ منصور بن سلمہ خزاعی لیث، یزید بن ہاد حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَائً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ، قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابن ابی عمر، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ، عبیداللہ بن معاذ، ابی شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ۔ ان سب سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس کام کو میں چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو اور ہمام کی روایت میں ترکتم کا لفظ ہے مطلب یہ کہ جس معاملہ میں تمہیں چھوڑ دیا جائے پھر آگے روایت میں زہری عن سعید اور ابوسلمہ عن ابوہریرہ (رض) کی روایت کی طرح ذکر کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کُلُّهُمْ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ مَا تُرِکْتُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ثُمَّ ذَکَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابرہیم بن سعد ابن شہاب حضرت عامر بن سعد (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان میں سے سب بڑا جرم اس مسلمان کا ہے کہ جس نے کسی چیز کے بارے میں پوچھا (جب کہ وہ حرام) مسلمانوں پر حرام نہیں تھی لیکن ان کے سوال کرنے کی وجہ سے ان پر وہ چیز حرام کردی گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْئٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَی الْمُسْلِمِينَ فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، زہری، محمد بن عباد سفیان، حضرت عامر بن سعد (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس مسلمان کا ہے کہ جس نے کسی ایسے کام کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں تھا تو پھر وہ کام اس مسلمان کے سوال کرنے کی وجہ سے لوگوں پر حرام کردیا گیا۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَحْفَظُهُ کَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
tahqiq

তাহকীক: