কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
مناسک حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৫ টি
হাদীস নং: ১৮৪১
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا، ابان اس وقت امیر الحج تھے، وہ دونوں محرم تھے، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩) ، سنن الترمذی/الحج ٢٣ (٨٤٠) ، سنن النسائی/الحج ٩١ (٢٨٤٥) ، والنکاح ٣٨ (٣٢٧٧) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٦) ، الحج ٢٢ (٢٩٣٤) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٧٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ الحج ٢٢ (٧٠) ، مسند احمد (١/٥٧، ٦٤، ٦٩، ٧٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1841 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ وَ أَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪২
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے
اس سند سے بھی عثمان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے ولا يخطب (نہ شادی کا پیغام دے) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : احرام کی حالت میں نہ تو محرم خود اپنا نکاح کرسکتا ہے نہ ہی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے، عثمان (رض) کی یہ حدیث اس سلسلے میں قانون کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں کسی اور بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، رہا ابن عباس (رض) کا یہ بیان (جو حدیث نمبر : ١٨٤٤ میں آرہا ہے) کہ آپ ﷺ نے میمونہ (رض) سے حالت احرام میں نکاح کیا تو یہ ان کا وہم ہے (دیکھئے نمبر : ١٨٤٥) ، خود ام المومنین میمونہ (رض) اور ان کا نکاح کرانے والے ابورافع (رض) کا بیان اس کے برعکس ہے کہ یہ نکاح مقام سرف میں حلال رہنے کی حالت میں ہوا، تو صاحب معاملہ کا بیان زیادہ معتبر ہوتا ہے، دراصل ابن عباس (رض) نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی (منی میں ذبح کیا جانے والا جانور) بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالاں کہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اس حالت میں ہو رہا تھا کہ آپ ﷺ نے اشعار کرکے ہدی بھیج دی اور گھر رہ گئے، اور بقول عائشہ (رض) آپ ﷺ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی۔
حدیث نمبر: 1842 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، ويَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مِثْلَهُ، زَادَ: وَلَا يَخْطُبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৩
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے
ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے (یعنی احرام نہیں باندھے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١١) ، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (٨٤٥) ، سنن النسائی/ الکبری/ النکاح (٥٤٠٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٣٢، ٣٣٣، ٣٣٥) ، سنن الدارمی/ المناسک ٢١ (١٨٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1843 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بِسَرِفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ (رض) سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧) ، والمغازي ٤٣ (٤٢٥٨) ، والنکاح ٣٠ (٥١١٤) ، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (٨٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١٠) ، سنن النسائی/الحج ٩٠ (٢٨٤٣، ٢٨٤٤) ، والنکاح ٣٧ (٣٢٧٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥) ، مسند احمد (١/٢٢، ٢٤٥، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٨٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1844 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے
سعید بن مسیب کہتے ہیں ام المؤمنین میمونہ (رض) سے (نبی اکرم ﷺ کے) حالت احرام میں نکاح کے سلسلے میں ابن عباس (رض) کو وہم ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٥٩٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1845 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: وَهِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৬
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون کو نسے جانور مارنا درست ہے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کرسکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں : بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩) ، سنن النسائی/الحج ٨٨ (٢٨٣٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩١ (٣٠٨٨) ، ( تحفة الأشراف : ٦٨٢٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٦) ، وبدء الخلق ١٦ (٣٣١٥) ، موطا امام مالک/الحج ٢٨(٨٨، ٨٩) ، مسند احمد (٢/٨، ٣٢، ٣٧، ٤٨، ٥٠، ٥٢، ٥٤، ٥٧، ٦٥، ٧٧) ، سنن الدارمی/ المناسک ١٩ (١٨٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1846 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ، فَقَالَ: خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحُرُمِ: الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون کو نسے جانور مارنا درست ہے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے : سانپ، بچھو، کوا، چیل، چوہیا، اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٨٦٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1847 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلَالٌ فِي الْحُرُمِ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون کو نسے جانور مارنا درست ہے؟
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا : محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : سانپ، بچھو، چوہیا کو (مار سکتا ہے) اور کوے کو بھگا دے، اسے مارے نہیں، اور کاٹ کھانے والے کتے، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو (مار سکتا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩١ (٣٠٨٩) ، ( تحفة الأشراف : ٤١٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٤، ٣/٣، ٣٢، ٧٩) (ضعیف) وقولہ : ” یرمي الغراب ولا یقتلہ “ منکر (یزید ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1848 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ، قَالَ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفُوَيْسِقَةُ وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ وَالسَّبُعُ الْعَادِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৯
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے (حارث طائف میں عثمان (رض) کے خلیفہ تھے) وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان (رض) کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور ١ ؎، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا، وہ کہتے ہیں : انہوں نے علی (رض) کو بلا بھیجا چناچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا : کھاؤ، تو وہ کہنے لگے : لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں (احرام نہ باندھے ہوں) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا : میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٠١٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٠، ١٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تیتر کے قسم کا ایک پہاڑی خوبصورت و خوش آواز پرندہ ہے، یہ چاندنی رات میں خوب چہچہاتا ہے اس لئے اسے چاند کا عاشق کہتے ہیں۔ ٢ ؎ : محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنا یا کھانا دونوں ممنوع ہے، اسی طرح اگر کسی غیر محرم آدمی نے خشکی کا شکار خاص کر محرم کے لئے کیا ہو تو بھی محرم کو اس کا کھانا ممنوع ہے، البتہ اگر حلال آدمی نے شکار اپنے لئے کیا ہو اور کسی محرم نے اس میں اشارہ کنایہ تک سے بھی تعاون نہیں کیا ہو ، پھر اس میں سے کسی محرم کو ہدیہ پیش کیا ہو تو ایسے شکار کا کھانا جائز ہے، اس باب میں جتنی بھی روایات آئی ہیں ان سب کا یہی خلاصہ ہے، اور اس لحاظ سے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1849 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَجَاءَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ: أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا حُرُمٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ؟ قَالُوا: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫০
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ارقم (رض) سے کہا : زید بن ارقم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، اور فرمایا : ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ؟ ، انہوں نے جواب دیا : ہاں (معلوم ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ٧٩ (٢٨٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦٧٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٥) ، مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1850 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ عَضُوُ صَيْدٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ ؟ وَقَالَ: إِنَّا حُرُمٌ، قَالَ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٢٥ (٨٤٦) ، سنن النسائی/الحج ٨١ (٢٨٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ٣٠٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦٢، ٣٨٧، ٣٨٩) (ضعیف) (عمرو بن أبی عمرو اور مطلب میں کلام ہے لیکن اگلی حدیث سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے )
حدیث نمبر: 1851 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ ﷺ کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا، جب وہ رسول اللہ ﷺ سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٢ (١٨٢١) ، ٥ (١٨٢٤) ، والھبة ٣ (٢٥٧٠) ، والجہاد ٤٦ (٢٨٥٤) ، ٨٨ (٢٩١٤) ، والأطعمة ١٩ (٥٤٠٧) ، والذبائح ١٠ (٥٤٩٠) ، ١١ (٥٤٩١) ، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦) ، سنن الترمذی/الحج ٢٥ (٨٤٧) ، سنن النسائی/الحج ٧٨ (٢٨١٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٣ (٣٠٩٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٢١٣١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٢٤(٧٦) ، مسند احمد (٥/٣٠٠، ٣٠٧) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1852 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، قَالَ: فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے ٹڈی مارنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٤٦٧٥، ١٩٢٣٨) (ضعیف) (اس کے راوی میمون لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جس طرح سمندر کا شکار محرم کے لئے جائز ہے اسی طرح ٹڈی کا شکار بھی جائز ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے) ۔
حدیث نمبر: 1853 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے ٹڈی مارنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں، پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٢٧ (٨٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٩ (٣٢٢٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٨٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤، ٣٧٤، ٤٠٧) (ضعیف جدا) (اس کے راوی ابو المہزم ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1854 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَبْنَا صِرْمًا مِنْ جَرَادٍ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَإِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ. سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: أَبُو الْمُهَزِّمِ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثَانِ جَمِيعًا وَهْمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے ٹڈی مارنا
کعب (رض) کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٤٦٧٥، ١٩٢٣٨) (ضعیف) (اس کے راوی میمون ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1855 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے ؟ کہا : ہاں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سر منڈوا دو ، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ٥ (١٨١٤) ، ٦ (١٨١٥) ، ٧ (١٨١٦) ، ٨ (١٨١٧) ، والمغازي ٣٥ (٤١٥٩) ، و تفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧) ، والمرضی ١٦ (٥٦٦٥) ، والطب ١٦ (٥٧٠٣) ، وکفارات الأیمان ١ (٦٨٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١) ، سنن الترمذی/الحج ١٠٧(٩٥٣) ، سنن النسائی/الحج ٩٦ (٢٨٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١١٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٦ (٣٠٧٩) ، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٧) ، مسند احمد (٤/ ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث آیت کریمہ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ (سورۃ بقرۃ : ١٩٦) کی تفسیر ہے۔
حدیث نمبر: 1856 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1857 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ لِسِتَّةِ مَسَاكِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے ؟ ، انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١١١١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1858 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، عَنْدَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ،عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَمَعَكَ دَمٌ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے (اور انہیں سر میں (جوؤوں کی وجہ سے) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا) ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٥٦، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (ضعیف) (وقولہ : ” بقرة “ منکر) (اس کا ایک راوی مجہول ہے )
حدیث نمبر: 1859 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০
مناسک حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑگئیں، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں فمن کان منکم مريضا أو به أذى من رأسه کی آیت نازل فرمائی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ١ ؎ منقٰی کھلاؤ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو چناچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٥٦، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (حسن) (لیکن منقی کا ذکر منکر ہے صحیح روایت کھجور کی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ” فرق “: ایک پیمانہ ہے جس میں چار صاع کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس سند سے بھی کعب بن عجرہ (رض) سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے أى ذلک فعلت أجزأ عنك اس میں سے تو جو بھی کرلو گے تمہارے لیے کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٥٦، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1860 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيَّ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 الْآيَةَ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ. حدیث نمبر: 1861 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، زَادَ: أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ.
তাহকীক: