কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ১০৭৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز ظہر میں قنوت پڑھنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چناچہ ابوہریرہ (رض) سمع اللہ لمن حمده کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٧) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٥ (١٤٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٢١) ، مسند احمد ٢/٢٥٥، ٣٣٧، ٤٧٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1075
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: لَأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَفَرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں قنوت پڑھنے سے متعلق
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں أن النبي صلى اللہ عليه وسلم کے بجائے أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٥ (١٤٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٢) ، مسند احمد ٤/٢٨٠، ٢٨٥، ٢٩٩، ٣٠٠، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٨، ١٦٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1076
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ. ح، وأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِوَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قنوت میں کفار اور مشرکین پر لعنت بھیجنا
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧) ، مسند احمد ٣/٢١٦، ٢٥٩، ٢٧٨، (تحفة الأشراف : ١٢٧٣) ، وحدیث ہشام عن قتادة عن أنس أخرجہ : صحیح البخاری/المغازي ٢٨ (٤٠٨٩) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٥ (١٢٤٣) ، مسند احمد ٣/١١٥، ١٨٠، ٢١٧، ٢٤٩، ٢٦١، (تحفة الأشراف : ١٣٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1077
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ شَهْرًاقَالَ شُعْبَةُ: لَعَنَ رِجَالًا وَقَالَ هِشَامٌ: يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ هَذَا قَوْلُ هِشَامٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دعاء قنوت کے دوران منافقین پر لعنت بھیجنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے : اللہم العن فلانا وفلانا اے اللہ ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ليس لک من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون اے محمد ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران : ١٢٨ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩) ، تفسیر آل عمران ٩ (٤٥٥٩) ، الاعتصام ١٧ (٧٣٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤٠) ، مسند احمد ٢/٩٣، ١٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1078
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دعاء قنوت نہ پڑھنے کے بارے میں
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٧٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1079
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دعاء قنوت نہ پڑھنے کے بارے میں
ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان (رض) عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! یہ (یعنی : مداومت) بدعت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٤٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٥ (١٢٤١) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٧٦) ، مسند احمد ٣/٤٧٢، و ٦/٣٩٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قنوت نازلہ فجر میں بوقت ضرورت پڑھی گئی تھی، پھر چھوڑ دی گئی، اس لیے مداومت (ہمیشہ پڑھنے) کو انہوں نے بدعت کہا، ضرورت پڑنے پر اب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1080
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيٍّ فَلَمْ يَقْنُتْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِنَّهَا بِدْعَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کنکریوں کو سجدہ کرنے کی غرض سے ٹھنڈا کرنا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ظہر کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٣٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٥٢) ، مسند احمد ٣/٣٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1081
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي أُبَرِّدُهُ ثُمَّ أُحَوِّلُهُ فِي كَفِّي الْآخَرِ فَإِذَا سَجَدْتُ وَضَعْتُهُ لِجَبْهَتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت سجدہ تکبیر کہنا کیسا ہے؟
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین (رض) دونوں نے علی بن ابی طالب (رض) کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا : انہوں نے مجھے محمد ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١١٦ (٧٨٦) ، ١٤٤ (٨٢٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٠ (٣٩٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٠ (٨٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٤٨) ، مسند احمد ٤/٤٠٠، ٤٢٨، ٤٢٩، ٤٣٢، ٤٤٠، ٤٤٤، ویأتی عند المؤلف برقم : ١١٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1082
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قال: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت سجدہ تکبیر کہنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ١ ؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٧٤ (٢٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٤) ، مسند احمد ١/٣٨٦، ٣٩٤، ٤١٨، ٤٢٧، ٤٤٢، ٤٤٣، سنن الدارمی/الصلاة ٤٠ (١٢٤٨) ، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف : ٩٤٧٠) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ١١٤٣، ١١٥٠، ١٣٢٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1083
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کس طریقہ سے کرنا چاہئے؟
حکیم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٤٣٧) ، مسند احمد ٣/٤٠٢ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی رکوع سے واپس قیام میں جاؤں گا، اور سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد سجدہ کے لیے جھکوں گا۔ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ذکر کے بغیر یہ حدیث رقم : ٨٨١ میں گزر چکی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1084
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قال: سَمِعْتُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ مَاهَكَيُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمٍ قال: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت ہاتھ اٹھانا
مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز میں جب آپ رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور جب سجدہ کرتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے ١ ؎ رفع یدین کرتے دیکھا، یہاں تک کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کی لو کے بالمقابل کرلیتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١١٨٤) ، وانظر حدیث رقم : ٨٨١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کبھی کبھار سجدہ میں جاتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ ٢ ؎: گرچہ بعض علماء نے دونوں سجدوں میں جاتے اور ان سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین والے اس ٹکڑے کی تصحیح کی ہے، مگر اکثر علماء اور رفع یدین کے قائل ائمہ نے اس ٹکڑے کی تضعیف کی ہے، اس کے راوی قتادہ مدلس ہیں، اور انہوں نے اسے عنعنہ سے روایت کیا ہے اس باب میں دیگر روایات بھی کلام سے خالی نہیں ہیں، جب کہ سجدہ میں رفع یدین کرنے والی ابن عمر رضی اللہ عنہم کی روایت صحیحین کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت ہاتھ اٹھانا
مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اسی کے مثل روایت ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، وانظر حدیث رقم : ٨٨١ (بدون ذکر الزیادة) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت ہاتھ اٹھانا
مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں داخل ہوجاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، انظر حدیث رقم : ٨٨١ (بدون ذکر الزیادة) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1087
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت سجدہ ہاتھ نہ اٹھانے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٩٦٢) ، مسند احمد ٢/٤٧، ١٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت پہلے زمین پر کونسا عضو رکھے
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٤١ (٨٣٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٤ (٢٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٠) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ١١٥٥ (ضعیف) (شریک القاضی جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی، اور وہ یہاں اس روایت میں منفرد ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1089
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقًوْمَسِيُّ الْبَسْطَامِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت پہلے زمین پر کونسا عضو رکھے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٤١ (٨٤٠، ٨٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٦) ، مسند احمد ٢/٣٨١، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آپ ﷺ کا یہ ارشاد استفھام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1090
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكَ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کے وقت پہلے زمین پر کونسا عضو رکھے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنا ہاتھ زمین پر رکھے، اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٩١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1091
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ مِنْ كِتَابِهِ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ وَلَا يَبْرُكْ بُرُوكَ الْبَعِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں ہاتھ پیشانی کے ساتھ زمین پر رکھنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٧) ، مسند احمد ٢/٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1092
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلُّوَيْهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ، قال: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کتنے اعضاء پر کرنا چاہئے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ١ ؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩، ٨١٠) ، ١٣٧ (٨١٥) ، ١٣٨ (٨١٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٨٩، ٨٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٣) ، ٦٧ (١٠٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) ، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) ، وأعادہ المؤلف بأرقام : ١١١٤، ١١١٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آرہی ہے۔ ٢ ؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1093
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ سات اعضاء کی تشریح
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء : اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٩١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٦) ، مسند احمد ١/٢٠٦، ٢٠٨، ویأتی عند المؤلف في باب ٤٦ (برقم : ١١٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ناک چہرہ کا ایک جزء ہے اس لیے پیشانی اور ناک دونوں سے سجدہ کرنا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1094
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ.
তাহকীক: