কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ১১৭৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک اور نوعیت کے تشہد سے متعلق
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة پڑھنا سکھاتے، فرماتے : بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٦٥) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ١٢٨٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” أیمن “ حافظہ کے کمزور ہیں، اور کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی ہے، دیکھئے اس حدیث پر خود مؤلف کا کلام حدیث رقم : ١٢٨٢ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1175
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَايُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ پہلے قعدہ کو ہلکا کرنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، راوی نے کہا : میں نے کہا : اٹھنے تک ؟ تو انہوں نے (استاد نے) کہا : ہاں ! یہی مراد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٨٨ (٩٩٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٤ (٣٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٩) ، مسند احمد ١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٣٦، ٤٦٠ (ضعیف) (ابو عبیدہ کا ان کے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1176
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قال: حَدَّثَنَاأَبِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِقُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ: قَالَ ذَلِكَ يُرِيدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر قعدہ اولی یاد نہ رہے تو کیا کرنا ہوگا؟
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی، تو دوسری رکعت میں جس میں آپ بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہوگئے، اور اپنی نماز جاری رکھی، یہاں تک کہ نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ ﷺ نے دو سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٦ (٨٢٩) ، ١٤٧ (٨٣٠) ، السھو ١، ٥ (١٢٢٤، ١٢٢٥ و ١٢٣٠) ، الأیمان ١٥ (٦٦٧٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٠ (١٠٣٤، ١٠٣٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٢ (٣٩١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣١ (١٢٠٦، ١٢٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٤) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٧ (٦٥) ، مسند احمد ٥/٣٤٥، ٣٤٦، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠، ١٥٤١) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١١٧٧، ١٢٢٣، ١٢٢٤، ١٢٦٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1177
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى فَقَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر قعدہ اولی یاد نہ رہے تو کیا کرنا ہوگا؟
ابن بحینہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی، تو دوسری رکعت میں کھڑے ہوگئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، لیکن آپ نے نماز جاری رکھی، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو دو سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1178
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا فَمَضَى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت درمیان کہ قعدہ سے فراغت ہوجائے اور پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھنا چاہئے تو تکبیر پڑھے
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا : آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان (رض) عنہ سے بھی ؟ انہوں نے کہا : اور عثمان (رض) عنہ سے بھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٨٧) ، مسند احمد ٣/١٢٥، ١٣٢، ١٧٩، ٢٥١، ٢٥٧، ٢٦٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1179
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَكَتَ، فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ: وَعُثْمَانُ، قَالَ: وَعُثْمَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت درمیان کہ قعدہ سے فراغت ہوجائے اور پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھنا چاہئے تو تکبیر پڑھے
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے (اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے) تو عمران بن حصین (رض) نے کہا : اس شخص نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٨٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1180
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھے تو دونوں ہاتھ اٹھائے
ابو حمید ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٠٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1181
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اولی کے بعد دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھانا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور دو رکعتوں کے بعد جب کھڑے ہوتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٨٧٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1182
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كَذَلِكَ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں ہاتھوں کا اوپر اٹھانا اور بحالت نماز خداوند قدوس کی تعریف کرنا
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا، تو مؤذن ابوبکر (رض) کے پاس آیا، اور اس نے ان سے لوگوں کو جمع کر کے ان کی امامت کرنے کے لیے کہا (چنانچہ انہوں نے امامت شروع کردی) اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، اور صفوں کو چیر کر اگلی صف میں آ کر کھڑے ہوگئے، لوگ ابوبکر (رض) کو تالیاں بجانے لگے تاکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خبر دے دیں، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو انہیں احساس ہوا کہ نماز میں کوئی چیز ہوگئی ہے، تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں ابوبکر (رض) نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو، رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے پر ابوبکر (رض) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر وہ الٹے پاؤں پیچھے آگئے، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوبکر (رض) سے پوچھا : تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی، جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا ؟ تو ابوبکر (رض) نے کہا : ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امامت کرے، پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا : تمہیں کیا ہوگیا تھا کہ تم تالیاں بجا رہے تھے، تالیاں تو عورتوں کے لیے ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آجائے، تو تم سبحان اللہ کہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١) ، مسند احمد ٥/٣٣٢، (تحفة الأشراف : ٤٧٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ وَيَؤُمَّهُمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَصَفَّحَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ لِيُؤْذِنُوهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلِمَ أَنَّهُ قَدْ نَابَهُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِمْ، فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ تُصَلِّيَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: مَا بَالُكُمْ صَفَّحْتُمْ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ فَسَبِّحُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت نماز ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے سے متعلق
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے ١ ؎ تو آپ نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٢) ، ١٨٩ (١٠٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٨) ، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جیسا کہ اگلی روایت میں فنسلم بأیدینا کے الفاظ آ رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1184
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت نماز ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے سے متعلق
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا : ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر السلام عليكم، السلام عليكم کہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٩ (٩٩٨، ٩٩٩) ، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ١٠٢، ١٠٧، (تحفة الأشراف : ٢٢٠٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١٣١٩، ١٣٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1185
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ؟ أَمَا يَكْفِي أَحَدُهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يَقُولَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے
صحابی رسول صہیب (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، (ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں) اور میں یہی جانتا ہوں کہ صہیب (رض) نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٠ (٩٢٥) ، سنن الترمذی/فیہ ١٥٥ (٣٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٦٦) ، مسند احمد ٤/٣٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ٩٤ (١٤٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1186
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍصَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً، وَلَا أَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِإِصْبَعِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب ﷺ سے پوچھا (وہ آپ کے ساتھ تھے) کہ نبی اکرم ﷺ سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1187
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے
عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں (اشارے سے) جواب دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٤/٢٦٣، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَرَدَّ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا : تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٨) ، مسند احمد ٣/٣٣٤، (تحفة الأشراف : ٢٩١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مقصود یہ ہے کہ اس وقت آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف نہیں تھا اس لیے مجھے یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ آپ نماز میں ہیں، اس لیے آپ نے بعد میں بلا کر وضاحت کی، اور پورب کی طرف رخ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے، اور سواری قبلہ سے پورب کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1189
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي، وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے (کسی ضرورت سے) بھیجا، میں (لوٹ کر) آپ کے پاس آیا تو آپ (سواری پر) مشرق یا مغرب کی طرف جا رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں واپس ہونے لگا تو آپ نے مجھے آواز دی : اے جابر ! (تو میں نے نہیں سنا) پھر لوگوں نے بھی مجھے جابر کہہ کر (بلند آواز سے) پکارا، تو میں آپ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٨٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1190
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ مُشَرِّقًا أَوْ مُغَرِّبًا، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي: يَا جَابِرُ، فَنَادَانِي النَّاسُ: يَا جَابِرُ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران کنکریوں کو ہٹانا منع ہے
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٧) ، مسند احمد ٥/١٤٩، ١٥٠، ١٦٣، ١٧٩، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” أبو الأحوص “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1191
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ کنکریوں کو ہٹانے کی اجازت سے متعلق
معیقب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اگر تمہیں (کنکریوں پر) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة ٨ (١٢٠٧) ، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٦) ، مسند احمد ٣/٤٢٦ و ٥/٤٢٥، ٤٢٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1192
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت نماز آسمان کی جانب دیکھنے کی ممانعت سے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی جانب اٹھاتے ہیں ، آپ نے بڑی سخت بات اس سلسلہ میں کہی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : وہ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٢ (٧٥٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٨ (١٠٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٣) ، مسند احمد ٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٤٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1193
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت نماز آسمان کی جانب دیکھنے کی ممانعت سے متعلق
ایک صحابی رسول (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٦٣٤) ، مسند احمد ٣/٤٤١ و ٥/٢٩٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1194
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ.
তাহকীক: