কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৯ টি
হাদীস নং: ৫২০৩
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کی کیفیت
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٦) ، سنن الترمذی/اللباس ١٥(١٧٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٢) ، مسند احمد (٣/٢٦٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5200
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৪
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کی کیفیت
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رومی بادشاہ کو کچھ لکھنا چاہا تو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ لوگ کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگی ہو، چناچہ آپ نے چاندی کی مہر بنوائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو (ابھی ابھی) دیکھ رہا ہوں، اس میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٧ (٦٥) ، والجہاد ١٠١ (٢٩٣٨) ، اللباس ٥٠ (٥٨٧٤) ، ٥٢ (٥٨٧٥) ، الأحکام ١٥ (٧١٦٢) ، صحیح مسلم/اللباس ١٣ (٢٠٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٦) ، مسند احمد (٣/١٦٨-١٦٩، ١٧٠، ٢٢٣، ٢٧٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٨٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5201
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৫
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کی کیفیت
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر آپ نکلے اور ہمیں نماز پڑھائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی کی سفیدی (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5202
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى بِنَا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৬
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی کس ہاتھ میں پہنے؟
علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخاتم ٥ (٤٢٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5203
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكٍ هُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ شَرِيكٌ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৭
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی کس ہاتھ میں پہنے؟
عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٢٢) ، مسند احمد (١/٢٠٤ ٢٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5204
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَتَّمُ بِيَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৮
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جس لوہے پر چاندی چڑھی ہو اس کی انگوٹھی پہننا
معیقیب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی چڑھی ہوئی تھی اور کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں بھی ہوتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٦) (ضعیف شاذ) (اوپر گزرا کہ رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنتے تھے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5205
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا مَلْوِيًّا عَلَيْهِ فِضَّةٌ، قَالَ: وَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِي، فَكَانَ مُعَيْقِيبٌ عَلَى خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৯
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کانسی کی انگوٹھی کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ بحرین (احساء) سے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، اب اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیرلیا ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا ، وہ بولا : تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں، آپ نے فرمایا : تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے ، وہ بولا : تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ نے فرمایا : لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥١٩١ (ضعیف) (اس کے راوی ” داود بن منصور “ حافظے کے کمزور ہیں، اور ان کی اس روایت میں حدیث نمبر ٥١٩١ سے متن میں جو اضافہ ہے وہ منکر ہے ۔ مذکورہ روایت صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5206
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا، ثُمَّ سَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ، قَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، قَالَ: إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ ؟ قَالَ: حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ، أَوْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১০
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کانسی کی انگوٹھی کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا۔ آپ نے فرمایا : جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5207
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ، وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১১
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کانسی کی انگوٹھی کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا : ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے ، پھر انس (رض) نے کہا : گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/اللباس ٥١ (٥٨٨٤) ، ٥٤ (٥٨٧٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٣٩) ، مسند احمد (٣/١٠١١، ١٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5208
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا وَنَقَشَ عَلَيْهِ نَقْشًا، قَالَ: إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ. ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ فِي يَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১২
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ فرمان نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ انگوٹھی پر عربی عبارت نہ کھدواؤ۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مشرکین کی آگ سے روشنی مت لو اور نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش کراؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٧) ، مسند احمد (٣/٩٩٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” ازہر بن راشد “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5209
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْخُوَارِزْمِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৩
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت
ابوبردہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی ! اللہ سے ہدایت اور میانہ روی طلب کرو ، اور آپ نے مجھے روکا کہ انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف : ١٠٣٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی زیادہ بہتر اس کا نہ پہننا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيٌّ، سَلِ اللَّهَ الْهُدَى، وَالسَّدَادَ، وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ، وَأَشَارَ يَعْنِي بِالسَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৪
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی اس میں اور اس میں پہننے سے منع فرمایا یعنی شہادت کی اور بیچ کی انگلی میں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧) ، الذکر ١٨ (٢٧٢٥) ، سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٥) ، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٣ (٣٦٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣١٨) ، مسند احمد (١/١٠٩، ١٢٤، ١٣٤، ١٣٨، ١٥٠، ١٥٤) ، ویأتي عند المؤلف : بأرقام : ٥٢٨٨، ٥٢٨٩، ٥٣٧٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5211
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَاتَمِ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى. وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৫
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہو : اللہم اهدني وسددني اللہ ! مجھے ہدایت دے، مجھے درست رکھ ، اور آپ نے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا شہادت کی اور بیچ کی انگلی کی طرف۔ عاصم بن کلیب نے ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5212
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي، وَسَدِّدْنِي، وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمِ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى. قَالَ: وَقَالَ عَاصِمٌ: أَحَدُهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৬
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار لیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٠ (١٩) ، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٦) ، الشمائل ١١ (٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١ (٣٠٣) ، (تحفة الٔ شراف : ١٥١٢) ، مسند احمد (٣/٩٩٩٩، ١٠١، ٢٨٢) (ضعیف) (اس میں ” ہمام “ سے وہم ہوگیا ہے، انس رضی الله عنہ سے انگوٹھی کی بابت جو روایت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اسے اتار کر پھینک دی) (بقول امام ابوداود : اس روایت میں ہمام بن یحییٰ سے وہم ہوگیا ہے، (ان سے اکثر وہم ہوجاتا تھا) اصل روایت اس سند سے یوں ہے : آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دی ) وضاحت : ١ ؎: بہتر یہی ہے کہ جس انگوٹھی میں قرآنی آیات اور ذکر الٰہی ہو اسے پاخانہ میں لے جانے سے بچا جائے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৭
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اپنی انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینک دیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔسشراف : ٨١٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی اس حدیث اور بعد کی آنے والی حدیثوں کا تعلق مذکورہ باب سے نہیں ہے، ممکن ہے صاحب کتاب نے کوئی عنوان قائم کیا ہو، مگر نساخ حدیث اسے سہوا درج نہ کرسکے ہوں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن عمر (رض) سے مروی ان تمام طرق کے ذکر سے مصنف کا مقصد یہ ہے کہ پاخانہ میں داخل ہوتے وقت انگوٹھی اتار پھینکنے کی روایت ہمام کے وہم سے خالی نہیں ہے کیونکہ عام صحیح روایات سے جو ثابت ہے وہ کسی سبب سے سونے کی انگوٹھی کا اتار پھینکنا ہے نہ کہ پاخانہ جاتے وقت انگوٹھی کا اتارنا ہے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمام کی حدیث غیر محفوظ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5214
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ قِبَلِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، وَأَلْقَى النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৮
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا۔ پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے وہ انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩١) ، (تحفة الٔحشراف : ٧٨٨١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5215
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ، فَطَرَحَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১৯
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی پہنی پھر اسے نکال کر پھینک دی اور چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا اور فرمایا : کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح نقش کرائے ، پھر آپ نے اس کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب کرلیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩١) ، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٩٩) ، ویأتي عند المؤلف ٥٢٩٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، ثُمَّ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২২০
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن تک سونے کی انگوٹھی پہنی، پھر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو سونے کی انگوٹھی عام ہوگئی۔ یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکا۔ پھر معلوم نہیں وہ کیا ہوئی، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی کا حکم دیا اور حکم دیا کہ اس میں محمد رسول اللہ نقش کردیا جائے، وہ انگوٹھی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی، پھر ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عمر (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان (رض) عنہ کے ہاتھ میں ان کی مدت خلافت کے چھ سال تک رہی، پھر جب خطوط کثرت سے لکھے جانے لگے تو اسے انصار کے ایک شخص کے حوالے کردیا، وہ اس سے مہریں لگاتا تھا۔ ایک بار وہ انصاری عثمان (رض) عنہ کے ایک کنوئیں پر گیا، تو وہ انگوٹھی (اس میں) گرگئی، اور تلاش کے باوجود نہ ملی۔ پھر اسی جیسی انگوٹھی بنانے کا حکم ہوا اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٥٠) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابُهُ فَشَتْ خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ، فَرَمَى بِهِ، فَلَا نَدْرِي مَا فَعَلَ، ثُمَّأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ أَنْ يُنْقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَكَانَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ. وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ، وَفِي يَدِ عُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْكُتُبُ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى قَلِيبٍ لِعُثْمَانَ، فَسَقَطَ، فَالْتُمِسَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِثْلِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২২১
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ آپ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینکیں، پھر آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس سے آپ (خطوط پر) مہریں لگاتے تھے، اسے پہنتے نہیں تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٦١٤) ، سنن الترمذی/الشمائل ١١، رقم : ٨٣، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٩٤ (صحیح) (حدیث میں ” ولایلبسہ “ کا لفظ ” شاذ “ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اکثر اوقات میں نہیں پہنتے تھے، ورنہ یہ ثابت ہے کہ آپ انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5218
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২২২
زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق
ابوبکر بن ابی شیخ کہتے ہیں کہ میں سالم کے ساتھ بیٹھا ہو تھا۔ اتنے میں ام البنین کا ایک قافلہ ہمارے پاس سے گزرا ان کے ساتھ کچھ گھنٹیاں تھیں، تو نافع سے سالم نے کہا کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر (رض) نے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو یا گھنٹے ہوں، ان کے ساتھ تو بہت سارے گھنٹے دکھائی دے رہے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔ شراف : ٧٠٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٧) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٢٣، ٥٢٢٣ م) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5219
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمٍ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ مَعَهُمْ أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ نَافِعًا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلٌ، كَمْ تَرَى مَعَ هَؤُلَاءٍ مِنَ الْجُلْجُلِ.
তাহকীক: