কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ১১০৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دو خطبہ دیتے تھے، اور دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ بشر بن مفضل نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ (خطبہ دیتے وقت) کھڑے ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨، ٩٢٠) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٣ (١٤١٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٨١٢، ٨١٢٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٧ (١٠٩٢) ، سنن الترمذی/الجمعة ١١ (٥٠٦) ، مسند احمد (٢/٩٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٠ (١٥٩٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1103 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا جَلْسَةً زَادَ بِشْرٌ وَهُوَ قَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
عمرو بن حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩) ، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧) ، سنن النسائی/الزینة من المجتیٰ ٥٦ (٥٣٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٠٧ ٣) ، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨، ١٠٩) ، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٣٥٨٤، ٣٥٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1104 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، البتہ آپ (دونوں خطبوں کے درمیان) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہوجاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢١٨٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٧ (٥٠٧) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩ (١٥٩٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1105 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩) ، صلاة العیدین ٢٦ (١٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٢١٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1106 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان جنگ میں خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کردیتے، اور جب جمعہ کا خطبہ دیتے تو چھڑی پر ٹیک لگا کردیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٢٨ ومصباح الزجاجة : ٣٩٣) (ضعیف) (سعد بن عمار بن سعد القرظ نے عن أبیہ عن جدہ ایک نسخہ حدیث روایت کیا ہے، اور ان سے ان کے لڑکے عبد الرحمن نے روایت کی ہے، اور یہ باپ اور بیٹے اور پوتے سب مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1107 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ، وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى عَصًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی : وترکوک قائما جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے (سورة الجمعة : 11) ١ ؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٣٨، ومصباح الزجاجة : ٣٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ خطبہ کھڑے ہو کردیتے تھے۔ ٢ ؎: پوری آیت یوں ہے : وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما جب کوئی تجارت یا تماشا اور کھیل کود دیکھتے ہیں تو ادھر چل دیتے ہیں، اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں (سورة الجمعة : 11) اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کردیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1108 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ: سُئِلَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟، قَالَ: أَوَمَا تَقْرَأُ: وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَرِيبٌ: لَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن خطبہ
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کو سلام کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٠٧٥، ومصباح الزجاجة : ٣٩٥) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : الاجوبہ النافعہ : ٥٨ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حاضرین کو سلام کرتے، اور امام شافعی نے اسی حدیث کو دلیل بنا کر یہ کہا ہے کہ امام جب منبر پر جائے تو کل حاضرین کو مخاطب کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔
حدیث نمبر: 1109 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ خطبہ توجہ سے سننا اور خطبہ کے وقت کا موش رہنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو، تو تم نے لغو کام کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٥٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤) ، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٥ (١١١٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٢ (١٤٠٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (٥٢١) ، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٨٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تم سے فضول اور بیکار حرکت صادر ہوئی، کیونکہ خطبہ کے درمیان خاموش رہنا، اور خطبہ سننا ضروری ہے، اگر کوئی بات کرے تو اشارہ سے اس کو منع کر دے، جب زبان سے کہا کہ خاموش رہو تو خود اس نے بات کی، اور دوسرے کو بات سے منع کیا، یہ ایک لغو حرکت ہے۔
حدیث نمبر: 1110 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ خطبہ توجہ سے سننا اور خطبہ کے وقت کا موش رہنا
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورة تبارک (سورۃ الملک) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، ابوالدرداء (رض) یا ابوذر (رض) نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورة کب نازل ہوئی ؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب (رض) نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء (رض) یا ابوذر (رض) نے ابی (رض) سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورة کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب (رض) نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی (رض) نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابی نے سچ کہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٨، ومصباح الزجاجة : ٣٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٣) (صحیح) (ابوذر (رض) کی حدیث سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٨٠ -٨١ ) وضاحت : ١ ؎: مسند احمد اور سنن ابوداود میں علی (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص امام کے نزدیک بیٹھا لیکن اس نے لغو حرکت کی اور خطبہ نہیں سنا، اور خاموش نہیں رہا، تو اس پر وبال کا ایک حصہ ہوگا، اور جس نے کہا : خاموش رہو تو اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا، اس کا جمعہ نہ ہوا، علی (رض) کہتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، اس باب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ پڑھنے کے لئے آنے والے پر ہر طرح کی دینی اور دنیاوی بات چیت خطبہ کے دوران ممنوع ہے۔ جس میں ذکر و اذکار بھی داخل ہے، اسی طریقے سے ایک دوسرے کو نصیحت و تلقین بھی، ہاں ! ضرورت و حاجت اور شرعی مصلحت کے پیش نظر امام سامعین سے مخاطب ہوسکتا ہے، جیسا کہ کئی احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ ثابت ہے۔ خود آگے کی حدیث میں سلیک غطفانی (رض) کو آپ ﷺ نے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، نیز سامعین خطبہ کے دوران امام کی متابعت میں صلاۃ وسلام اور اس کی دعاؤں پر آمین بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح رہے کہ اس سے خطبہ کے سننے میں یا مسجد کے احترام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1111 حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: تَبَارَكَ وَهُوَ قَائِمٌ، فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَلَمْ تُخْبِرْنِي، فَقَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ أُبَيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی (رض) مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا : کیا تم نے نماز ادا کرلی ؟ انہوں نے کہا : جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : دو رکعت پڑھ لو ١ ؎۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث عمر و بن دینار عن جابر أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠) ، ٣٣ (٩٣١) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٣٢) ، وحدیث أبي الزبیر عن جابر قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٧٧١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (٥١٠) ، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦) ، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسے تحی ۃ المسجد کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے تو وہ دو رکعتیں پڑھے، بعض لوگوں نے اسے سلیک غطفانی (رض) کے ساتھ خاص کیا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں یہ حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کا تعاون کریں، لیکن ابوداود کی ایک روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں : إذا جاء أحدکم والإمام يخطب فليصل رکعتين جب بھی تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت پڑھ لے اس سے ان کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ یہ سلیک غطفانی (رض) کے ساتھ خاص تھا۔
حدیث نمبر: 1112 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرًا، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَمَّا عَمْرٌو فَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْكًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ اس نے کہا : جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : دو رکعت پڑھ لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (٥١١) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (١٤٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام خطبہ کے دوران بات کرسکتا ہے، اور مقتدی بھی امام کا جواب دے سکتا ہے، لیکن ازخود مقتدی کا خطبہ کی حالت میں بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1113 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟
ابوہریرہ اور جابر (رض) کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی (رض) مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٩٤ و ١٢٣٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠) ، ٣٣ (٩٣١) ، سنن الترمذی/الجمعة ١٥ (٥١٠) ، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦) ، مسند احمد (٣/٣٨٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) (صحیح) (اس حدیث میں قبل أن تجیٔ کا جملہ شاذ ہے ) وضاحت : ١ ؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور صواب یہ ہے أصلّيت رکعتين قبل أن تجلس اس کو راوی نے تجيىء کردیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب ؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ ( ١؍ ٣٧٢) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
حدیث نمبر: 1114 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے روز لوگوں کو پھلا نگنے کی مما نعت
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اور آنے میں تاخیر بھی کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٢٢٦، ومصباح الزجاجة : ٣٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض لوگ جمعہ کے دن دیر سے آتے ہیں اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جاتے ہیں، یہ ممنوع بلکہ حرام ہے، علامہ ابن القیم نے اس کو کبیرہ گناہوں میں لکھا ہے، اس لئے آدمی کو چاہیے کہ جہاں جگہ پائے وہیں بیٹھ جائے، جب دیر میں آیا تو پیچھے ہی بیٹھے۔
حدیث نمبر: 1115 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ، وَآنَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے روز لوگوں کو پھلا نگنے کی مما نعت
معاذ بن انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجمعة ١٧ (٥١٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں رشدین بن سعد، زبان بن فائد اور سہل بن معاذ ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1116 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتُّخِذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام کے منبر سے اتر نے کے بعد کلام کرنا
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (٥١٧) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٠) وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧، ٢١٣) (شاذ) (جریر بن حازم اس روایت میں منفرد ہیں، یہ حدیث ثابت ہے، معروف نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1117 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ (رض) کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا، خود مکہ گئے تو ابوہریرہ (رض) نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی، پہلی رکعت میں سورة الجمعہ اور دوسری رکعت میں : إذا جاءک المنافقون پڑھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ (رض) سے ملاقات کی، اور ان سے کہا کہ علی (رض) بھی کوفہ میں (نماز جمعہ میں) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، ابوہریرہ (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٢ (١١٢٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٧ (٥١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1118 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَدَنِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ: بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى، وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک (احنف) بن قیس نے نعمان بن بشیر (رض) کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورة الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ نعمان بن بشیر (رض) نے کہا : آپ ﷺ هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٢ (١١٢٣) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٣٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩) ، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٧، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٧، ١٦٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1119 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا: هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن
ابوعنبہ خولانی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز جمعہ میں : سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٥، (الف) ومصباح الزجاجة : ٣٩٨) (صحیح) (دوسری صحیح سند کے ساتھ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے، اس بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ١٠٢٧ ) ۔ وضاحت : ١ ؎: دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے جمعہ میں سورة ق پڑھی، اور ایک روایت میں ہے کہ سورة قمر پڑھی۔
حدیث نمبر: 1120 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو (امام کے ساتھ) جمعہ کی ایک رکعت ہی ملے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٥٤ ومصباح الزجاجة : ٣٩٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة ٣ (١١) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طرق کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی : رقم : ٤٦٧ ، نیز ملاحظہ ہو الروضة الندیة ٣٧٦ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جمعہ اس کا صحیح ہوگیا، اب ایک رکعت اور پڑھ لے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت بھی نہ پائے، مثلاً : دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، اور یہ بعض اہل علم کا مذہب ہے، اور بعض اہل علم کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے : ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کرلو تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے۔
حدیث نمبر: 1121 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً، فَلْيَصِلْ إِلَيْهَا أُخْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو (امام کے ساتھ) جمعہ کی ایک رکعت ہی ملے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧، ٦٠٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٠ (٥٢٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٢٩ (٥٥٤) ، الجمعة ٤٠ (١٤٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥١٤٣) ، وقدأخرجہ : صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤١ (١١٢١) ، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥) ، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اب یہ تمام نماز کو شامل ہے، امام کے ساتھ ایک رکعت پائے تو جماعت کا ثواب پالے گا، وقت کے اندر ایک رکعت پالے تو نماز ادا ہوگی نہ کہ قضا۔
حدیث نمبر: 1122 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ.
তাহকীক: