কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ১১৬৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ مغرب سے قبل دو رکعت
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٠٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٩٥ (٥٠٣) ، الأذان ١٤ (٦٢٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٥ (٨٣٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٢) ، سنن النسائی/الأذان ٣٩ (٦٨٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٢) ، مسند احمد (٣/٢٨٢) (صحیح) (اس سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن کئی ثقات نے ان کی متابعت کی ہے کما فی التخریج ) وضاحت : ١ ؎: یہ دو رکعتیں ہلکی ہوتی تھیں جب تک اذان سے فراغت ہوتی اور موذن تکبیر شروع کرتا تو ان سے فراغت ہوجاتی، نیز اس حدیث سے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1163 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد کی دو سنتیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧) ، التہجد ٢٥ (١١٧٥) ، عن ابن عمر صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٣٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٠ (١٢٥١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٥ (٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1164 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد کی دو سنتیں
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بنو عبدالاشہل (قبیلہ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا : یہ دونوں رکعتیں (مغرب کے بعد کی سنتیں) اپنے گھروں میں پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨٤، ومصباح الزجاجة : ٤١٤) (حسن) (عبد الوہاب بن الضحاک متروک ہے، اور اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل شام کے علاوہ سے ضعیف ہے، اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ( ١ /١٢٩/٢) محمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس لئے عبد الوہاب اور ابن عیاش کی متابعت ہوگئی، نیز مسند احمد : ٥ /٤٢٧) میں ابن اسحاق سے تحدیث کی تصریح ہے، لیکن وہ محمود بن لبید کی حدیث ہے، اس وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ١١٧٦ ، و مصباح الزجاجة : ٤١٨ ، تحقیق الشہری ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنتوں کا گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا و نمود سے بچاؤ ہوتا ہے، اور گھر میں برکت بھی ہوتی ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے، اور سنتوں کو مسجد میں ہی پڑھا کرتے ہیں، اور جمعہ کے بعد ایک فیصد بھی ایسا نہیں دیکھا جاتا، جو سنتیں گھر میں جا کر ادا کرے جیسے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تھا۔
حدیث نمبر: 1165 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا، ثُمَّ قَالَ: ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد سنتوں میں کیا پڑھے ؟
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں : قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث زرعن عبد اللہ مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦) وحدیث أبي وائل عن ابن سعود : أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٤ (٤٣١) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٧٨) (ضعیف) (اس کی سند میں بدل بن المحبر اور عبد الملک بن الو لید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : المشکاة : ٨٥١ )
حدیث نمبر: 1166 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، وَأَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد چھ رکعا ت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٥ (٤٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤١٢) (ضعیف جدا) (اس حدیث کی سند میں عمر بن ابی خثعم منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٤٦٩ ) ، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ١٣٧٤ )
حدیث نمبر: 1167 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ، عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان
خارجہ بن حذافہ عدوی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٥ (٤٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٥٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) (اس سند میں عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں، اس لئے ھی خیر لکم من حمرالنعم کا ٹکڑا ضیعف ہے، بقیہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی : رقم : ٤٤٢ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٠٨ و ١١٤١ ، و ضعیف أبی داود : ٢٥٥ )
حدیث نمبر: 1168 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان
علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی پھر فرمایا : اے قرآن والو ! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (٤٥٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٠، ١١٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی : رقم : ٤٨٢ ) وضاحت : ١ ؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں ليس لک ولا لأصحابک کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
حدیث نمبر: 1169 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ طاق (یکتا و بےنظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو ! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1170 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں : سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٤) ، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ١١٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1171 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں : سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (٤٦٢) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٢ (١٦٢٧، ١٦٣٠) (صحیح ) اس سند سے بھی ابن عباس (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1172 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ پہلی رکعت میں : سبح اسم ربک الأعلى دوسری میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو الله أحد اور معوذتین پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (٤٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٠٦) وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/ ٢٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الأعلى کی تلاوت فرماتے، اور دوسری رکعت میں قل يا أيها الکافرون کی، اور تیسری رکعت میں : قل هو الله أحد اور معوذتین پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1173 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْخُصَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٢ (٤٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٥٢، ٧٢٦٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٦٩٠) ، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٣ (١٣) ، مسند احمد (٢/٣٣، ٤٣، ٤٥، ٤٩، ٥١، ٥٤، ٨١، ٨٣، ١٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٤ (١٤٩٩) ، ١٥٥ (١٥٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1174 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنِ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے ، ابومجلز (لاحق بن حمید) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگر میں سو جاؤں ؟ تو ابن عمر (رض) نے کہا : اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ١ ؎ چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٥٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سماک: ایک ستارہ کا نام ہے، سما کان: دو روشن ستارے، ایک کا نام السماء الرامح ہے، دوسرے کا السماء الأعزل ہے۔
حدیث نمبر: 1175 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ؟، قَالَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر کا بیان
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : میں وتر کیسے پڑھوں ؟ تو انہوں نے کہا : تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا : میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو بتیراء (دم کٹی نماز) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٥٩، ومصباح الزجاجة : ٤١٥) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ بقول امام بخاری (التاریخ الکبیر : ٨ / ٨) مطلب بن عبد اللہ کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں حاضر تھا، اور ابو حاتم نے فرمایا : ابن عمر (رض) سے روایت کی، میں نہیں جانتا کہ ان سے سنایا نہیں سنا (المراسیل : ٢٠٩ ) ، پھر الجرح و التعدیل میں کہا کہ ان کی روایت ابن عمر (رض) سے مرسل (منقطع) ہے، شاید یہ تصحیح شواہد کی وجہ سے ہے، جس کو مصباح الزجاجة ( ٤١٩ ) میں ملاحظہ کریں، یہ حدیث صحیح ابن خزیمہ ( ١٠٧٤ ) میں ہے، جس کے اسناد کی تصحیح البانی صاحب نے کی ہے، جب کہ ابن ماجہ میں ضعیف لکھا ہے )
حدیث نمبر: 1176 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟، قَالَ: أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ: سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٦١٨، ومصباح الزجاجة : ٤١٦) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 1177 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر میں دعاء قنوت نازلہ
حسن بن علی (رض) کہتے ہیں کہ میرے نانا رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں : اللهم عافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت واهدني فيمن هديت وقني شر ما قضيت و بارک لي فيما أعطيت إنک تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت سبحانک ربنا تبارکت وتعاليت اے اللہ ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے، اور میری سرپرستی کر ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، اور میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا، اے ہمارے رب ! تو پاک، بابرکت اور بلند ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٥، ١٤٢٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٤ (٤٦٤) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٩٩، ٢٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1178 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: عَلَّمَنِي جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَاهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّنَا تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ وتر میں دعاء قنوت نازلہ
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٧) ، سنن الترمذی/الدعوات ١١٣ (٣٥٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٤٣ (١٧٤٩) ، مسند احمد (١/٩٦، ١١٨، ١٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1179 حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو قنوت میں ہاتھ نہ اٹھائے
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ (مبالغہ کے ساتھ) نہیں اٹھاتے تھے، البتہ آپ استسقاء میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستسسقاء ٢٢ (١٠٣١) المناقب ٢٣ (٣٥٦٥) ، الدعوات ٢٣ (٦٣٤١) ، صحیح مسلم/الاستسقاء ١ (٨٩٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٠ (١٧٧٠) ، قیام اللیل ٤٣ (١٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الاستسقاء ٩ (١٥١٢) ، مسند احمد (٣/٢٨٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٩ (١٥٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کی معارض ہے جن سے استسقاء کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہذا اولیٰ یہ ہے کہ انس (رض) کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے، وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی ہے، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ اپنے ہاتھ اتنے اونچے نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقاء میں اٹھاتے تھے، حتی رأيت بياض إبطيه کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے، اس سے مطلق قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے پر استدلال صحیح نہیں، اس لئے کہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا صحیح روایتوں سے ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 1180 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ دعا میں ہاتھ اٹھانا اور چہرہ پر پھیرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کر کے دعا کرو، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو، اور جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨، (١٤٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٤٨، ومصباح الزجاجة : ٤١٧) ، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٣٨٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں صالح بن حسان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ٣٣٤ )
حدیث نمبر: 1181 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ فَادْعُ بِبَاطِنِ كَفَّيْكَ، وَلَا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا، فَإِذَا فَرَغْتَ، فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے قبل اور بعد قنوت
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1182 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُوتِرُ، فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ.
তাহকীক: