কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
جنازوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৬ টি
হাদীস নং: ১৫৭৩
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی قبروں کی زیارت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کے والد کہاں ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہوگیا، اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٨٠٣، ومصباح الزجاجة : ٥٦٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٨ )
حدیث نمبر: 1573 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: فِي النَّارِ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ، قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، وَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ، إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا منع ہے
حسان بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٣، ومصباح الزجاجة : ٥٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤٢، ٤٤٣) (حسن) (نیز ملاحظہ ہو : الإرواء ) وضاحت : ١ ؎: یہ اور اس معنی کی دوسری احادیث سے یہ امر قوی ہوتا ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا منع ہے، اس حدیث میں زوارات مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لئے عام عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت اوپر کی (حدیث نمبر ١٥٧١ ) سے حاصل ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے ممانعت کے بعد مسلمانوں کو زیارت قبور کا اذن عام دیا ہے، تاکہ وہ اس سے عبرت و موعظت حاصل کریں، اور عورتیں بھی اس سے عبرت و موعظت کے حصول میں مردوں کی طرح محتاج اور حقدار ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی ہیں۔ ١ ۔ ام المومنین عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی۔ (سنن الاثرم ومستدرک الحاکم) ٢ ۔ صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کیا کہوں ؟۔ آپ ﷺ نے یوں فرمایا : کہو السلام على أهل الديار من المؤمنين۔ ٣ ۔ حاکم نے روایت کی ہے کہ فاطمہ الزہراء (رض) اپنے چچا حمزہ (رض) کے قبر کی زیارت ہر جمعہ کو کیا کرتیں تھیں۔ ٤ ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت پر سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اس پر قبر کی زیارت کی وجہ سے نکیر نہیں فرمائی۔ اجازت اور عدم اجازت میں یوں مطابقت ہوسکتی ہے کہ ان عورتوں کے لئے ممانعت ہے جو زیارت میں مبالغہ سے کام لیں، یا زیارت کے وقت نوحہ وغیرہ کریں، اور ان عورتوں کے لئے اجازت ہے جو خلاف شرع کام نہ کریں۔ قرطبی نے کہا کہ لعنت ان عورتوں سے خاص ہے جو بہت زیادہ زیارت کو جائیں، کیونکہ حدیث میں زوارات القبور مبالغہ کا صیغہ منقول ہے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جب عورت اکثر زیارت کو جائے گی تو مرد کے کاموں اور ضرورتوں میں خلل واقع ہوگا۔
حدیث نمبر: 1574 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، وَقَبِيصَةُ كلهم، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا منع ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢٠) ، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٢٤، ٣٣٧) (حسن) (سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، لیکن زائرات کے لفظ کی روایت ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 1575 حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا منع ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٦٢ (١٠٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٥٦) (حسن) (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن طالب مجہول ہیں، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٧٦٢ )
حدیث نمبر: 1576 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ أَبُو نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا جنازہ میں جانا
ام عطیہ (رض) کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کردیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٢٩ (١٢٧٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ١١ (٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٣٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٤٤ (٣١٦٧) ، مسند احمد (٦/٤٠٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 1577 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا جنازہ میں جانا
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا : تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا : کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٩، ومصباح الزجاجة : ٥٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو : ١ لضعیفہ : ٢٧٤٢ )
حدیث نمبر: 1578 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُنَّ؟، قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ: هَلْ تَغْسِلْنَ؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: هَلْ تَحْمِلْنَ؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوحہ کی ممانعت
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ : ولا يعصينک في معروف (سورة الممتنحة : 12) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا : اس سے مراد نوحہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٠ (٣٣٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٢٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بےاختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔
حدیث نمبر: 1579 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَ: النَّوْحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮০
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوحہ کی ممانعت
معاویہ (رض) کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٤٠٣، ومصباح الزجاجة : ٥٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠١) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” عبد اللہ بن دینار “ ضعیف اور حریز مجہول راوی ہیں )
حدیث نمبر: 1580 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ النَّوْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮১
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوحہ کی ممانعت
ابو مالک اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مرگئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٠، ومصباح الزجاجة : ٥٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٢٤) ، مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1581 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ، قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮২
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوحہ کی ممانعت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مرجائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہوگی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٧، ومصباح الزجاجة : ٥٦٩) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” عمر بن راشد “ ضعیف راوی ہے، اور اس کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر سے مضطرب ہے )
حدیث نمبر: 1582 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدِرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৩
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوحہ کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٠٥، ومصباح الزجاجة : ٥٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٩٢) (حسن) (لیث نے مجاہد سے روایت کرنے میں ابویحییٰ القتات کی متابعت کی ہے، اس لئے یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی : رقم : ٥٢٨ )
حدیث نمبر: 1583 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৪
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑ نے کی مما نعت
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث علی بن محمد ومحمد بن بشار قد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٥ (١٢٥٤) ، سنن الترمذی/الجنائز ٢٢ (٩٩٩) ، سنن النسائی/الجنائز ١٧ (١٨٦١) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٥٩) ، وحدیث علی بن محمد وابو بکربن خلاّد قد أخرجہ : صحیح البخاری/المناقب ٨ (٣٥١٩) ، الجنائز ٣٨ (١٢٩٧) ، ٣٩ (١٢٩٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٣) ، سنن النسائی/الجنائز ١٧ (١٨٦١) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦، ٤٣٢، ٤٤٢، ٤٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1584 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ جميعا، عَنْسُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاوَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَضَرَبَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৫
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑ نے کی مما نعت
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٩٢٢، ومصباح الزجاجة : ٥٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1585 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৬
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑ نے کی مما نعت
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ (رض) کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری (رض) کی بیماری شدید ہوگئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ (رض) کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا : کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤) ، سنن النسائی/الجنائز ٢٠ (١٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٢٠، ٩٠٨١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٢٩ (٣١٣٠) ، مسند احمد (٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥، ٤١١، ٤١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1586 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَيَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وأبى بردة، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى، أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک جنازہ میں تھے، عمر (رض) نے ایک عورت کو (روتے) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر ! اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور (صدمہ کا) زمانہ قریب ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجنائز ١٦ (١٨٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١١٠، ٢٧٣، ٣٣٣، ٤٠٨، ٤٤٤) (ضعیف) (کیونکہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن عطاء اور ابوہریرہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، جیسا کہ بعد والی حدیث کی سند سے واضح ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٣٦٠٣ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسے ابھی صدمہ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں دل پر اثر بہت ہوتا ہے اور رونا بہت آتا ہے، آدمی مجبور ہوجاتا ہے خصوصاً عورتیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت آواز کے ساتھ روئی ہوگی، لیکن بلند آواز سے نہیں، تب بھی عمر (رض) نے اس کو منع کیا تاکہ نوحہ کا دروازہ بند کیا جاسکے جو منع ہے اور نبی کریم ﷺ خود اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر روئے اور فرمایا : ” آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل رنج کرتا ہے، لیکن زبان سے ہم وہ نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو “ اور امام احمد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحب زادی زینب وفات پا گئیں تو عورتیں رونے لگیں، عمر فاروق (رض) ان کو کوڑے سے مارنے لگے، نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کو پیچھے ہٹا دیا، اور فرمایا : ” عمر ٹھہر جاؤ! “ پھر فرمایا : ” عورتو ! تم شیطان کی آواز سے بچو … “ اخیر حدیث تک۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) (اس کی سند میں سلمہ بن أزرق مجہول الحال ہیں )
حدیث نمبر: 1587 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ. حدیث نمبر: 1587 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ ﷺ کو بلا بھیجا تو آپ ﷺ نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا : جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ ﷺ کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ ﷺ ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ ﷺ اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم ﷺ کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، (راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا :) گویا وہ پرانی مشک ہے (اور اس میں پانی ہل رہا ہے) : یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ رو پڑے، عبادہ بن صامت (رض) نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٤) ، المرضی ٩ (٥٦٥٥) ، القدر ٤ (٦٦٠٢) ، الأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٥) ، التوحید ٢ (٧٣٧٧) ، ٢٥ (٧٤٤٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ٦ (٩٢٣) ، سنن ابی داود/الجنائز ٢٨ (٣١٢٥) ، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٠٤، ٢٠٦، ٢٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ رونا اور رنج کرنا خلاف شرع نہیں ہے بلکہ یہ دل کے نرم اور مزاج کے معتدل ہونے کی نشانی ہے، اور جس کسی کو ایسے موقعوں پر رنج بھی نہ ہو اس کا دل اعتدال سے باہر ہے اور وہ سخت دل ہے، اور یہ کچھ تعریف کی بات نہیں ہے کہ فلاں بزرگ اپنے بیٹے کے مرنے سے ہنسنے لگے، واضح رہے کہ عمدہ اور افضل نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 1588 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ، وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ، قَالَ: حَسِبْتُهُ، قَالَ: كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، قَالَ: فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
اسماء بنت یزید (رض) کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما) کہا : آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم ! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٢، ومصباح الزجاجة : ٥٧٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٧٣٢ ) وضاحت : ١ ؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
حدیث نمبر: 1589 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهُ حَقَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ، وَأَنَّ الْآخِرَ تَابِعٌ لِلْأَوَّلِ، لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯০
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
حمنہ بنت حجش (رض) سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا : آپ کا بھائی قتل کردیا گیا ہے تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، إنا لله وإنا إليه راجعون ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں لوگوں نے بتایا : آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا : ہائے غم، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٢٢ ومصباح الزجاجة : ٥٧٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1590 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ، فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللَّهُ، وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قَالُوا: قُتِلَ زَوْجُكِ، قَالَتْ: وَا حُزْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯১
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ (رض) پر رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا : ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں ؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩١، ومصباح الزجاجة : ٥٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٠، ٨٤، ٩٢) (حسن صحیح) (اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1591 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ، فَجَاءَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ مُرُوهُنَّ، فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯২
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میّت پر رونے کا بیان
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥١٥٣، ومصباح الزجاجة : ١٥٧٥) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں إنا لله وإنا إليه راجعون۔
حدیث نمبر: 1592 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي.
তাহকীক: