কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
گروی رکھنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৬ টি
হাদীস নং: ২৪৭৬
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی بیچنے سے ممانعت
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی (رض) سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا : پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٦٣ (٣٤٧٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٤٤ (١٢٧١) ، سنن النسائی/البیوع ٨٦ (٤٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٣٨، ٤١٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٦٩ (٢٦٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ جب ہے کہ پانی کسی قدرتی دریا یا چشمہ میں موجود ہو تو وہ کسی کی ملکیت نہیں، اس کا بیچنا ناجائز ہے، لیکن اگر کوئی پانی بھر کر لائے اور گھڑے یا مشک یا بوتل وغیرہ میں رکھے تو اس کا استعمال بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں ہے، اور اس کا بیچنا جائز ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عثمان (رض) کو بئر رومہ خریدنے کے لئے فرمایا، اور آپ ﷺ نے ایک عورت سے پانی لیا جو اونٹ پر لائی تھی پھر لوگوں سے اس کی قیمت دلائی۔
حدیث نمبر: 2476 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ، وَرَأَى نَاسًا يَبِيعُونَ الْمَاءَ، فَقَالَ: لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُبَاعَ الْمَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৭
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی بیچنے سے ممانعت
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٨ (١٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٢٩) ، و قد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: زائد پانی سے مراد وہ پانی ہے جو اپنی اور اہل و عیال، جانوروں اور کھیتی کی ضرورت سے زائد ہو۔
حدیث نمبر: 2477 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৮
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زائد پانی سے اس لئے روکنا کہ اس کے ذریعہ گھاس سے روکے منع ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٧٢٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/المساقاة ٢ (٢٣٥٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ٨ (٢٥٦٦) ، موطا امام مالک/الأقضیة ٢٦ (٣٢) ، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٤٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2478 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৯
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زائد پانی سے اس لئے روکنا کہ اس کے ذریعہ گھاس سے روکے منع ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٨٦، ومصباح الزجاجة : ٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٥٢، ٢٦٨) (صحیح) (سند میں حارثہ بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس لئے کہ کنویں سے پانی نکالنے میں اپنا نقصان نہیں اور دوسرے کا فائدہ ہے، اور اس سے کنویں کا پانی زیادہ صاف اور عمدہ ہوجاتا ہے اور اس میں اور تازہ پانی بھر آتا ہے، اور بعضوں نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ جو پانی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا منع ہے جب کوئی اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے لیکن اگر باغ یا درختوں کو سینچنا چاہے تو اس کا بیچنا درست ہے، اور کنویں کا پانی بھی روکنا درست نہیں ہے اس سے جو اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے۔
حدیث نمبر: 2479 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮০
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیت اور باغ میں پانی لینا اور پانی روکنے کی مقدار
عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک انصاری ١ ؎ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، (ان کے والد) زبیر (رض) سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا : پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر (رض) نہیں مانے ٢ ؎ بالآخر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زبیر (پانی روک کر) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو ، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہوگیا اور بولا : اللہ کے رسول ! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا ؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : زبیر ! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ زبیر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ : فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما (سورة النساء : 65) سو قسم ہے تیرے رب کی ! یہ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: انصاری کا نام اطب تھا، انہوں نے ناسمجھی کی بنیاد پر نبی اکرم ﷺ کی شان میں ایسی بات کہہ دی، کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسا گستاخانہ جملہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں کہے تو وہ کافر ہوجائے گا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر تھا، لیکن یہ قول مرجوح ہے، واللہ اعلم ٢ ؎: کیونکہ ان کا باغ نہر کی جانب اونچائی پر تھا اور انصاری کا ڈھلان پر جس سے زبیر (رض) کے باغ سے سارا پانی بہہ کر نکل جا رہا تھا۔
حدیث نمبر: 2480 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرَّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ! اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮১
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیت اور باغ میں پانی لینا اور پانی روکنے کی مقدار
ثعلبہ بن ابی مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب (ترائی) میں ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٠٧٤، ومصباح الزجاجة : ٨٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٩) (حسن صحیح) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف، اور محمد بن عقبہ مستور راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: وہ بھی اپنے کھیت میں اتنا ہی پانی بھر کر تیسرے کی طرف چھوڑ دے جو اس سے نیچے علاقہ میں ہو، اسی طرح اخیر کیفیت تک عمل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2481 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ الْأَعْلَى فَوْقَ الْأَسْفَلِ، يَسْقِي الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮২
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیت اور باغ میں پانی لینا اور پانی روکنے کی مقدار
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الاقضیة ٣١ (٣٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٣٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2482 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ أَنْ يُمْسِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلَ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৩
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیت اور باغ میں پانی لینا اور پانی روکنے کی مقدار
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہوجائیں یا پانی ختم ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٠٦٦، ومصباح الزجاجة : ٨٧٤) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول راوی ہیں، اور ان کا عبادہ (رض) سے سماع نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
حدیث نمبر: 2483 حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى فَالْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تقسیم
عمرو بن عوف مزنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٣، ومصباح الزجاجة : ٨٧٥) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن عوف المزنی ضعیف راوی ہیں، اور کثیر بن عبد اللہ سخت ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٣٣٨٤ )
حدیث نمبر: 2484 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْجَعْدِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُبَدَّأُ بِالْخَيْلِ يَوْمَ وِرْدِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تقسیم
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہوچکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ١١ (٢٩١٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2485 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ، وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৬
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنویں کا حریم
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہوگی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٥، ومصباح الزجاجة : ٨٧٦) ، سنن الدارمی/البیوع ٨٢ (٢٦٦٨) (حسن) (سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٥١ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کنویں کی ہر جانب چالیس ہاتھ تک اس کا علاقہ ہوگا کیونکہ عادتاً اتنی جگہ جانوروں کے لئے کافی ہوجاتی ہے، اور بعضوں نے کہا یہ جب ہے کہ کنویں کی گہرائی چالیس ہاتھ ہو اگر اس سے زیادہ ہو تو اتنے ہی ہاتھ ہر طرف جگہ ملے گی۔
حدیث نمبر: 2486 حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل الْمَكِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَفَرَ بِئْرًا فَلَهُ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৭
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنویں کا حریم
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٣٨٦، ومصباح الزجاجة : ٨٧٧) (ضعیف) (سند میں ثابت بن محمد ہے صحیح محمد بن ثابت ہے اور منصور بن صقیر ضعیف راوی ہیں )
حدیث نمبر: 2487 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصُّغْدِيِّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَرِيمُ الْبِئْرِ مَدُّ رِشَائِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৮
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درخت کا حریم
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے ؟ تو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا : ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٠٦٧، ومصباح الزجاجة : ٨٧٨) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول ہیں، اور ان کی عبادہ (رض) سے روایت میں انقطاع ہے کیونکہ عبادہ (رض) سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے : ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٥٠ )
حدیث نمبر: 2488 حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِيإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنَ الْأَسْفَلِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৯
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درخت کا حریم
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھجور کے درخت کی چوحدی اس کی ڈالیوں کی لمبائی کے برابر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٦٦٥، ومصباح الزجاجة : ٨٧٩) (صحیح) (سند میں ثابت بن محمد غلط ہے، صحیح محمد بن ثابت ہے، نیز منصور بن صقیر ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٥٠ )
حدیث نمبر: 2489 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصُّغْدِيِّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَرِيمُ النَّخْلَةِ مَدُّ جَرِيدِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯০
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جائیداد بیچے اور اس کی قیمت سے جائیداد نہ خریدے۔
سعید بن حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو کوئی گھر یا غیر منقولہ جائیداد بیچے اور پھر ویسی ہی جائیداد اس کی قیمت سے نہ خریدے، تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں اس کو برکت نہ دی جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٤٥٣، ومصباح الزجاجة : ٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٦٧، ٤/٣٠٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٨١ (٢٦٦٧) (حسن) (سند میں اسماعیل بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٣٢٧ ) وضاحت : ١ ؎: سبحان اللہ یہ حدیث دنیاداروں کے لئے بڑی نصیحت ہے، نقد پیسہ ہمیشہ صرف ہوجاتا ہے کبھی چوری ہوجاتا ہے یا لٹ جاتا ہے، برخلاف جائیداد غیر منقولہ کے، تو آپ ﷺ نے جائیداد بیچنے کو مکروہ جانا جب اس کے بدل دوسری جائیداد نہ خریدے، کیونکہ نقد پیسہ رکھنے سے تو یہی بہتر تھا کہ جائیداد اپنے پاس رہنے دیتا۔ اس سند سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ، تحفة الأشراف : ٤٤٥٣) (حسن )
حدیث نمبر: 2490 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ بَاعَ دَارًا أَوْ عَقَارًا فَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهُ فِي مِثْلِهِ كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ فِيهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَخِيهِ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯১
گروی رکھنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جائیداد بیچے اور اس کی قیمت سے جائیداد نہ خریدے۔
حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٣٩٤، ومصباح الزجاجة : ٨٨٢) (حسن) (سند میں یوسف بن میمون ضعیف راوی ہیں، لیکن یزید بن أبی خالد کی بیہقی میں متابعت سے یہ حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎: بلکہ نقد پیسہ اٹھا اٹھا کر ختم کر دے گا، اور ایک رہنے کا آسرا بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 2491 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ دَارًا وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا.
তাহকীক: