কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
وراثت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪ টি
হাদীস নং: ২৭৩৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبات کامیراث۔
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، علاتی کے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہوگا علاتی بھائیوں کا نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الفرائض ٥ (٢٠٩٤، ٢٠٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٢٧) ، وقد مضی برقم : ٢٧١٥ (حسن) (سند میں ابو بحرالبکراوی اور الحارث الاعور دونوں ضعیف ہیں، لیکن سعد بن الاطول (رض) کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ) وضاحت : حقیقی (سگے) بھائی یعنی وہ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں، اور علاتی سے مراد وہ بھائی ہیں جن کے باپ ایک ہو، اور ماں الگ الگ ہو، اور جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ ہوں، انہیں اخیافی بھائی کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2739 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ إِخْوَتِهِ لِأَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبات کامیراث۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مال کو اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق ذوی الفروض (میراث کے حصہ داروں) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہوگا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفرائض ٥ (٦٧٣٢) ، صحیح مسلم/الفرائض ١ (١٦١٥) ، سنن ابی داود/الفرائض ٧ (٢٨٩٨) ، سنن الترمذی/الفرائض ٨ (٢٠٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٩٢، ٣١٣، ٣٢٥) ، سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
حدیث نمبر: 2740 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مرگیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کردیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ٨ (٢٩٠٥) ، سنن الترمذی/الفرائض ١٤ (٢١٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢١، ٣٥٨) (ضعیف) (سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٦٦٩ )
حدیث نمبر: 2741 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تین شخصوں کی میراث ملتی ہے۔
واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ٩ (٢٩٠٦) ، سنن الترمذی/الفرائض ٢٣ (٢١١٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٠، ٤/١٠٦، ١٠٧) (ضعیف) (سند میں عمر بن رؤبہ التغلبی کی وجہ سے ضعف ہے )
حدیث نمبر: 2742 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقِهَا وَلَقِيطِهَا وَوَلَدِهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ هِشَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৩
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو انکار کردے کہ یہ میرا بچہ نہیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس عورت نے کسی قوم میں ایسے (بچہ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کردیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٧٥، ومصباح الزجاجة : ٩٦٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٩ (٢٢٦٣) ، سنن النسائی/الطلاق ٤٧ (٣٥١١) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن حرب مجہول، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں )
حدیث نمبر: 2743 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَلْحَقَتْ بِقَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ وَقَدْ عَرَفَهُ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৪
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو انکار کردے کہ یہ میرا بچہ نہیں
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کردینا گرچہ اس کا سبب باریک (دقیق) ہو یہ بھی کفر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٨٨١٧ ألف، ومصباح الزجاجة : ٩٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢١٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں پر کفر سے مراد نسب کی ناشکری ہے، کیونکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر جو کہ اس کے وجود کا سبب ہے، دوسرے کا بیٹا بنا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 2744 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُفْرٌ بِامْرِئٍ ادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يَعْرِفُهُ أَوْ جَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৫
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کا دعوی کرنا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہوگا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٧٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الفرائض ٢١ (٢١١٣) (حسن) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے )
حدیث نمبر: 2745 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৬
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کا دعوی کرنا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں (کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے) تو آپ ﷺ نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا : اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کرلی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہوگا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہوگا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہوگا، (اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہوگا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کردی گئی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٢ ألف، ومصباح الزجاجة : ٩٧١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق ٣٠ (٢٢٦٥) ، مسند احمد (٢/١٨١، ٢١٩) ، سنن الدارمی/الفرائض ٤٥ (٣١٥٤) (حسن) (بوصیری نے کہا کہ ابوداود اور ترمذی نے بعض حدیث ذکر کی ہے )
حدیث نمبر: 2746 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يُورَثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৭
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حق ولاء فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٥) ، الفرائض ٢١ (٦٧٥٦) ، صحیح مسلم/العتق ٣ (١٥٠٦) ، سنن ابی داود/الفرائض ١٤ (٢٩١٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٠، (١٢٣٦) ، سنن النسائی/البیوع ٨٥ (٤٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٧١٥، ٧١٨٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العتق والولاء ١٠ (٢٠) ، مسند احمد (٣/٩، ٧٩، ١٠٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٣٦ (٢٦١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ ولاء (میراث) ایک طرح کی رشتہ داری ہے اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا کیونکر جائز ہوگا، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
حدیث نمبر: 2747 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৮
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حق ولاء فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ : (تحفة الأ شراف : ٨٢٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البیوع ٢٠ (١٢٣٦) ، ٥٤ (١٢٨٧) ، (صحیح) (سند میں محمد بن عبدالملک صدوق ہیں، اس لئے یہ اسناد حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
حدیث نمبر: 2748 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترکوں کی تقسیم۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہوچکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٢٣٢، ومصباح الزجاجة : ٩٧٢) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف الحفظ راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٧١٧، تراجع الألبانی : رقم : ٤٨٦ ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے کیسا عمدہ مسئلہ حل ہوا کہ ہر قانون کا عمل اس کے نفاذ کے بعد سے جو مقدمات پیدا ہوں ان پر ہوتا ہے اور جن مقدمات کے فیصلے قانون کے نفاذ سے پہلے ہوچکے ہوں ان میں اس قانون کے نفاذ سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2749 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نومولود میں آثار حیات مثلاً روناچلّاناوغیرہ معلوم ہوں تو وہ بھی وارث ہوگا۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٧٠٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز ٤٣ (١٠٣٢) ، سنن الدارمی/الفرائض ٤٧ (٣١٦٨) ، وقد مضی برقم : (١٥٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2750 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوَرِثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نومولود میں آثار حیات مثلاً روناچلّاناوغیرہ معلوم ہوں تو وہ بھی وارث ہوگا۔
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہوگا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں : بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٢٥٧، (الف) ١٢٦٦ (الف) (صحیح) (تراجع الألبانی : رقم : ٥٨٤ ) وضاحت : ١ ؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہوگا۔
حدیث نمبر: 2751 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا، قَالَ: وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرددوسرے کے ہاتھوں اسلام قبول کرے۔
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ١٣ (٢٩١٨) ، سنن الترمذی/الفرائض ٢٠ (٢١١٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٤، ١٠٣) ، سنن الدارمی/الفرائض ٣٤ (٣٠٧٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
حدیث نمبر: 2752 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُتَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ: هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ.
তাহকীক: