আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب حدوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩ টি
হাদীস নং: ১৪৮০
کتاب حدوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ دو مردوں نے گالی گلوچ کی حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ایک نے دوسرے سے کہا قسم اللہ کی میرا باپ تو بدکار نہ تھا نہ میری ماں بدکار تھی حضرت عمرنے اس بات میں مشورہ کیا ایک شخص بولا اس میں کیا برائی ہے اس نے اپنے باپ اور ماں کی خوبیاں بیان کیں اور لوگوں نے کہا کیا اس کے باپ اور ماں کی صرف یہی خوبی تھی ہمارے نزدیک اس کو حد قذف مارنی چاہیے کہا مالک نے ہمارے نزدیک حد نہیں ہے مگر قذف میں یا نفی میں (نفی کہتے ہیں نسب دور کرنے کو مثلا یہ کہنا تو اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہے) یا تعریض میں (یعنی اشارے کنائے میں کسی کو گالی دینا جیسے ابھی بیان ہوا) ان سب صورتوں میں حد پوری پوری لازم آئے گی لیکن یہ ضروری ہے کہ تعریض سے نفی یا قذف مقصود ہونا معلوم ہوجائے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جب کوئی کسی کو اسی کے باپ سے نفی کرے تو حد واجب ہوگی اگرچہ اس کی ماں لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔
عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ کَانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَی أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ قَالَ مَالِک لَا حَدَّ عِنْدَنَا إِلَّا فِي نَفْيٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَی أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِکَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَی مَنْ قَالَ ذَلِکَ الْحَدُّ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَی رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ کَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوکَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮১
کتاب حدوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس میں حد نہیں ہے
کہا مالک نے جو کوئی شریک مشترک لونڈی سے صحبت کرلے تو اس پر حد نہیں ہے اب جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اسی سے لگایا جائے گا اور لونڈی کی قیمت لگا کر باقی شریکوں کو ان کے حصے کو موافق قیمت ادا کرنی ہوگی اور لونڈی پوری اسی کی ہوجائے گی ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص اپنی لونڈی کسی کو مباح کردے (یعنی اس سے جماع کرنے کی اجازت دے دے ہرچند یہ درست نہیں) وہ شخص اس سے جماع کرے تو لونڈی کی قیمت دینی ہوگی خواہ حاملہ ہو یا نہ ہو لیکن حد نہ پڑے گی۔ اگر حاملہ ہوجائے گی تو بچے کا نسب اس سے ثابت کردیں گے۔
بَاب مَا لَا حَدَّ فِيهِ قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الْأَمَةِ يَقَعُ بِهَا الرَّجُلُ وَلَهُ فِيهَا شِرْكٌ أَنَّهُ لَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَأَنَّهُ يُلْحَقُ بِهِ الْوَلَدُ وَتُقَوَّمُ عَلَيْهِ الْجَارِيَةُ حِينَ حَمَلَتْ فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ مِنْ الثَّمَنِ وَتَكُونُ الْجَارِيَةُ لَهُ وَعَلَى هَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُحِلُّ لِلرَّجُلِ جَارِيَتَهُ إِنَّهُ إِنْ أَصَابَهَا الَّذِي أُحِلَّتْ لَهُ قُوِّمَتْ عَلَيْهِ يَوْمَ أَصَابَهَا حَمَلَتْ أَوْ لَمْ تَحْمِلْ وَدُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ بِذَلِكَ فَإِنْ حَمَلَتْ أُلْحِقَ بِهِ الْوَلَدُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ ابْنِهِ أَوْ ابْنَتِهِ أَنَّهُ يُدْرَأُ عَنْهُ الْحَدُّ وَتُقَامُ عَلَيْهِ الْجَارِيَةُ حَمَلَتْ أَوْ لَمْ تَحْمِلْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮২
کتاب حدوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس میں حد نہیں ہے
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لونڈی کو سفر میں ساتھ لے کر نکلا وہاں اس سے صحبت کی عورت نے رشک کے مارے حضرت عمر سے کہہ دیا حضرت عمر نے مرد سے پوچھا وہ بولا کہ عورت نے اس لونڈی کو مجھے ہبہ کردیا تھا حضرت عمر نے کہا یا تو تو گواہ لا ہبہ کے نہیں تو تجھے رجم کروں گا۔ اس وقت عورت نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے ہبہ کردیا تھا۔
حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ خَرَجَ بِجَارِيَةٍ لِامْرَأَتِهِ مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَهَا فَغَارَتْ امْرَأَتُهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَهَبَتْهَا لِي فَقَالَ عُمَرُ لَتَأْتِينِي بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَرْمِيَنَّكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَاعْتَرَفَتْ امْرَأَتُهُ أَنَّهَا وَهَبَتْهَا لَهُ
তাহকীক: