আপনার জিজ্ঞাসা/মাসায়েল

সকল মাসায়েল একত্রে দেখুন

প্রসঙ্গসমূহ:

মন্তব্য (0)

কোনো মন্তব্য নেই। প্রথম মন্তব্য করুন!

মন্তব্য করতে লগইন করুন

এ সম্পর্কিত আরও জিজ্ঞাসা/প্রশ্ন-উত্তর

প্রশ্ন: ১১০২৬ - <br/><br/>প্রসিদ্ধ নাতে শিরক প্রসঙ্গে <br/><br/>ক. প্রসিদ্ধ নাত حال دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے -এর মধ্যে কি হাজির নাজিরের আকীদা বিদ্যমান? যদি না হয় তাহলে آپ کے ہوتے ہوئے -র অর্থ কী? <br/><br/>(সদয় জ্ঞাতার্থে:<br/>সম্পূর্ণ নাত- <br/>حال دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے کیوں کسی کے در پر جائیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>میں غلام مصطفی ہوں یہ میری پہچان ہے غم مجھے کیوں کرتا میں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>تو ہوسکتا نہیں کے بات ممکن ہی نہیں میرے گھر کام آئیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>کہہ رہا ہے آپ ارب افتاہم آپ سے کیوں انہیں دوں میں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>اپنا جینا اپنا مرنا اب ای چوکھٹ پے ہم کہاں سرکارھا میں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>سامنے ہے اے کے لال سوہ آپ کا کیوں کسی کا خون کھائیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے دربار میں چھین لے کوئی پیدائیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/>کون ہے الطات اپنا حال دل جس سے نہیں زخم دل کسی کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے<br/><br/>খ. প্রসিদ্ধ নাত “فصلوں کو تکلف ” এর মধ্যে কি কোন শিরকী বাক্য আছে? বিশেষত এই লাইনগুলো তে – <br/><br/>خود ان ہی کو پکاریں گے ہم دور سے<br/><br/>ان کی چشم کرم کو ہے اس کی خبر ، کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر<br/><br/>ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی<br/><br/>( সদয় জ্ঞাতার্থে: <br/>সম্পূর্ণ নাত-<br/>فصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں<br/><br/> خود ان ہی کو پکاریں گے ہم دور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے<br/><br/>جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا<br/><br/> سر جھکانے کی فرصت ملے گی کِسے ، خو دہی آنکھوں سےسجدے سےٹپک جائیں گے<br/><br/> ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے<br/><br/>نام ان کا جہاں بھی لیا جائیگا، ذ کر ان کا جہاں بھی کیا جائیگا<br/><br/> نور ہی نورسینوں میں بھر جائیگا ، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے<br/><br/>ائے مدینے کے زائر ! خدا کے لیے ، داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا<br/><br/> دل تڑپ جائیگا، بات بڑھ جائیگی، میرے محتاط آنسوں چھلک جائیں گے<br/><br/>ان کی چشم کرم کو ہے اس کی خبر ، کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر؟<br/><br/> ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی،" کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں<br/><br/> خود ان ہی کو پکاریں گے ہم دور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے<br/><br/>جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا<br/><br/> سر جھکانے کی فرصت ملے گی کِسے ، خو دہی آنکھوں سےسجدے سےٹپک جائیں گے<br/><br/> ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے<br/><br/>نام ان کا جہاں بھی لیا جائیگا، ذ کر ان کا جہاں بھی کیا جائیگا<br/><br/> نور ہی نورسینوں میں بھر جائیگا ، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے<br/><br/>ائے مدینے کے زائر ! خدا کے لیے ، داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا<br/><br/>دل تڑپ جائیگا، بات بڑھ جائیگی، میرے محتاط آنسوں چھلک جائیں گے<br/><br/>ان کی چشم کرم کو ہے اس کی خبر ، کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر؟<br/><br/> ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی، ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے | মুসলিম বাংলা