মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬০৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٢) حضرت اسماعیل بن ابو اسماعیل راشد فرماتے ہیں کہ میں چت لیٹا پھر میں نے اپنی ٹانگ کو اپنے گھٹنے پر بلند کرلیا۔ اس پر حضرت سعید نے مجھے چند چھوٹی کنکریاں ماریں، پھر فرمایا : حضرت ابن عباس اس طرح لیٹنے سے منع فرماتے تھے ۔
(۲۶۰۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أبی إسْمَاعِیلَ رَاشِدٍ ، قَالَ : اسْتَلْقَیْت فَرَفَعْت إحْدَی رِجْلَیْ عَلَی رُکْبَتِی ، فَرَمَانِی سَعِیدٌ بِحَصَیَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَنْہَی عَنْ ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس مکروہ سمجھتے تھے کہ وہ لیٹ جائیں اور اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھ لیں۔
(۲۶۰۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَضْطَجِعَ وَیَضَعَ إحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٤) حضرت واصل فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بیٹھ گئے اور پھر اپنی ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ لیا، اس پر حضرت کعب نے ان سے فرمایا : اس کو نیچے رکھو، بیشک کسی انسان کے لیے یوں بیٹھنا مناسب نہیں ہے۔
(۲۶۰۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیل ، عَنْ وَاصِلٍ ، أَنَّ جَرِیرًا جَلَسَ وَوََضَعَ إحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی فَقَالَ لَہُ کَعْبٌ : ضَعْہَا ، فَإن ہَذَا لاَ یَصْلُحُ لِبَشَرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٥) حضرت عمرو بن عتبہ بن فرقد فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ان سے ارشاد فرمایا : اس کو نیچے رکھو، بیشک کسی انسان کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔
(۲۶۰۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّ کَعْبًا ، قَالَ لَہُ : ضَعْہَا ، فَإِنَّ ہَذَا لاَ یَصْلُحُ لِبَشَرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٦) حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت محمد نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنی ٹانگ اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ اپنا دایاں پاؤں اپنی بائیں ران پر رکھا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : اس کو ہٹاؤ۔ تحقیق تمام صحابہ نے اس کے مکروہ ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے یہ بات حضرت حسن کے سامنے ذکر کی، آپ نے فرمایا : یہود اس کو مکروہ سمجھتے تھے اور مسلمانوں نے تو ان کی مخالفت کی۔
(۲۶۰۳۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : رَآنِی مُحَمَّدٌ وَقَدْ وَضَعْت رِجْلِی ہَکَذَا وَوَضَعَ قَدَمَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُسْرَی ، قَالَ : فَقَالَ : ارْفَعْہَا ، قَدْ تَوَاطَؤُوا عَلَی الْکَرَاہِیَۃِ لَہَا ، قَالَ : فَذَکَرْت لِلْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَتِ الْیَہُودُ یَکْرَہُونَہُ فَخَالَفَہُمُ الْمُسْلِمُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی اپنے گھٹنے کو اپنی ران پر رکھے اور فرمایا : یہ تو سرین پر بیٹھنا ہوا۔
(۲۶۰۳۷) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَجْلِسَ الرَّجُلُ فَیَضَعَ عَقِبَہُ عَلَی فَخِذِہِ وقال : ہُوَ التَّوَرُّکُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٨) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اس طرح بیٹھنے سے منع فرماتے تھے۔
(۲۶۰۳۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ نَہَی عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے
(٢٦٠٣٩) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس گوٹ مار کر بیٹھنے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فرماتے : یہ شاہانہ انداز ہے۔
(۲۶۰۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ التَّرَبُّعَ وَقَالَ : جِلْسَۃُ مَمْلَکَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦٠٤٠) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عباس نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! میں امیر المؤمنین کو دیکھتا ہوں کہ وہ تجھے اپنے قریب کرتے ہیں ، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے ساتھ تجھ سے بھی مشورہ طلب کرتے ہیں اور تیرے ساتھ خلوت کرتے ہیں پس تو میری طرف سے تین باتیں محفوظ کرلے۔ تم بچو اس بات سے کہ وہ تم پر جھوٹ کو آزمائیں اور تم ہرگز کبھی بھی ان کے راز کو فاش مت کرنا اور ان کے سامنے کبھی کسی کی غیبت مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا کہ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : بلکہ دس ہزار سے بہتر ہے۔
(۲۶۰۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَامِرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ الْعَبَّاسُ لابْنِہِ عَبْدِ اللہِ بن عباس : یَا بُنَیَّ ، إنِّی أَرَی أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یُقَرِّبُک ، وَیَسْتَشِیرُک مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَخْلُو بِکَ ، فَاحْفَظْ عَنِّی ثَلاَثًا : اتَّقِ اللَّہَ لاَ یُجَرِّبَنَّ عَلَیْک کِذْبَۃً ، وَلاَ تُفْشِیَنَّ لَہُ سِرًّا ، وَلاَ تَغتَابنَّ عِنْدَہُ أَحَدًا ، قَالَ : فَقُلْت لابْنِ عَبَّاسٍ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ خَیْرٌ مِنْ أَلْفٍ ، قَالَ : وَمِنْ عَشَرَۃِ آلاَفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦٠٤١) حضرت محمد بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا؛ اس کام کے پیچھے مت پڑو جو تمہیں فائدہ نہ پہنچائے اور اپنے دشمن سے بچو اور اپنے دوست سے بچو سوائے امانت دار شخص کے۔ اس لیے کہ قوم میں سے امانت دار شخص کی برابری کوئی چیز نہیں کرسکتی اور بدکار کی صحبت اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ وہ اپنی بدکاری میں سے تمہیں بھی سکھلا دے گا اور اس کے سامنے اپنے کسی راز کو فاش مت کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ مانگو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
(۲۶۰۴۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ إدْرِیسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لاَ تَعْتَرِضْ فِیمَا لاَ یَعْنِیک ، وَاعْتَزِلْ عَدُوَّک ، وَاحْتَفِظْ مِنْ خَلِیلک إلاَّ الأَمِین ، فَإِنَّ الأَمِین لاَ یُعَادِلُہُ شَیْئٌ، لاَ تَصْحَبِ الْفَاجِرَ فَیُعَلِّمُک مِنْ فُجُورِہِ ، وَلاَ تُفْشِ إلَیْہِ بسِرّک ، وَاسْتَشِرْ فِی أَمْرِکَ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦٠٤٢) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو اپنی بات مت بتاؤ، جو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اس لیے کہ جو اس معاملہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا وہ نقصان پہنچائے گا، اور کم ازکم کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچائے گا۔
(۲۶۰۴۲) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : لاَ تُحَدِّثْ بِالْحَدِیثِ مَنْ لاَ یَعْرِفُہُ ، فَإِنَّ مَنْ لاَ یَعْرِفُہُ یَضُرُّہُ ، وَلاَ یَنْفَعُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦٠٤٣) حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سلام کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا اور دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے یہاں تک میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا ۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کام کے بارے میں بتلایا۔ پھر جب میں حضرت ام سلیم کے پاس آیا تو انھوں نے کہا : آج کس بات نے تمہیں روکے رکھا ؟ میں نے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام بھیج دیا تھا۔ انھوں نے پوچھا : کیا کام تھا ؟ میں نے کہا : بیشک وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راز ہے۔ آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کی حفاظت کرو۔ حضرت انس فرماتے ہیں : میں نے کسی کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتلایا۔
(۲۶۰۴۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَمَرَّ عَلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَیْنَا ، ثُمَّ بَعَثَنِی فِی حَاجَۃٍ وَجَلَسَ فِی جِدَارٍ ، أَوْ فِی ظِلٍّ حَتَّی أَتَیْتہ فَأَبْلَغْتہ حَاجَتَہُ ، فَلَمَّا أَتَیْتُ أُمَّ سُلَیْمٍ ، قَالَتْ : مَا حَبَسَک الْیَوْمَ ؟ قُلْتُ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَاجَۃٍ ، قَالَتْ : مَا ہِیَ ؟ قُلْتُ : أَنَّہَا سِرٌّ ، قَالَتْ : فَاحْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا حَدَّثْت بِہَا أَحَدًا قَطُّ۔ (بخاری ۱۱۳۹۔ مسلم ۱۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دکھا دے
(٢٦٠٤٤) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہبیرہ یحییٰ بن عباد نے ارشاد فرمایا : مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہے جب وہ اس سے کوئی چیز لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کو بھی دکھلا دے۔
(۲۶۰۴۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنِ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی ہُبَیْرَۃَ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : الْمُسْلِمُ مِرْآۃُ أَخِیہِ ، فَإِذَا أَخَذَ عَنْہُ شَیْئًا فَلْیُرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دکھا دے
(٢٦٠٤٥) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی دوسرے سے کوئی چیز لے اور اسے کہے کہ تیرے پاس کوئی برائی نہ رہے یا برائی تجھ سے دور کردی جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کہے ک ہ تیرے پاس برائی نہ رہے۔
(۲۶۰۴۵) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ غَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ أو سَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ الرَّجُلِ یَأْخُذُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّیْئَ فَیَقُولُ : لاَ یَکُنْ بِکَ السُّوئُ ، أَوْ صُرِفَ عَنْک السُّوئَ ، قَالَ : فَقَالَ : یَقُولُ : لاَ یَکُنْ بِکَ السُّوئُ فَإِنَّہُ إِلاَّ یَکُنْ بہ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَکُونَ بِہِ ثُمَّ یُصْرَفُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دکھا دے
(٢٦٠٤٦) حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی دکھلا دے۔
(۲۶۰۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا أَخَذَ أَحَدُکُمْ عَنْ أَخِیہِ شَیْئًا فَلْیُرِہِ إِیَّاہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دکھا دے
(٢٦٠٤٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے، پس جب وہ کوئی تکلیف دہ چیز دیکھے تو اس کو اس سے دور کر دے۔
(۲۶۰۴۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللہِ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : سَمِعْت أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَحَدُکُمْ مِرْآۃُ أَخِیہِ ، فَإِذَا رَأَی أَذًی فَلْیُمِطْہُ عَنْہُ۔
(بخاری ۲۳۹۔ ابوداؤد ۴۸۸۲)
(بخاری ۲۳۹۔ ابوداؤد ۴۸۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
(٢٦٠٤٨) حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی ، تو ایک آدمی حضرت سعد کے پاس حضرت خالد کو بُرا بھلا کہنے لگا، حضرت سعد نے فرمایا : رک جاؤ، بیشک جو لڑائی ہمارے درمیان ہے وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچتی !
(۲۶۰۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنَ سَعْدٍ کَلاَمٌ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ خَالِدًا عِنْدَ سَعْدٍ ، قَالَ : فَقَالَ : سَعْدٌ : مَہْ ، فَإِنَّ مَا بَیْنَنَا لَمْ یَبْلُغْ دِینَنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
(٢٦٠٤٩) حضرت زید بن صوحان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تمہیں کس چیز نے روک دیا کہ جب تم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی عزتیں خراب کررہا ہے اور تمہیں اس پر غیرت تک نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کیا : ہم تو اس کی زبان سے بچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ تو اور بھی گھٹیا بات ہے کہ تم گواہ بن رہے ہو۔
(۲۶۰۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَا یَمْنَعُکُمْ إذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَخْرِقُ أَعْرَاضَ النَّاسِ أن لاَ تُغَیِّرُوا عَلَیْہِ؟ قَالُوا: نَتَّقِی لِسَانَہُ، قَالَ: ذَاکَ أَدْنَی أَنْ تَکُونُوا شُہَدَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
(٢٦٠٥٠) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص ایک مردار خچر کے پاس سے گزرے تو اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک اس کو کھائے یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر جائے یہ بہت بہتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا گوشت کھائے۔
(۲۶۰۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ مَرَّ عَلَی بَغْلٍ مَیِّتٍ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : إِنْ یَأْکُلْ أَحَدُکُمْ مِنْ ہَذَا حَتَّی یَمْلاَ بَطْنَہُ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیہِ الْمُسْلِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
(٢٦٠٥١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! غیبت کیا چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ تو اپنے بھائی کی وہ بات ذکر کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، آپ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہو تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جو بات کرتے ہو اگر وہ تمہارے بھائی میں موجود ہے تو تحقیق تم نے اس کی غیبت بیان کی اور جو بات تم کرتے ہو اگر وہ تمہارے بھائی میں موجود نہیں ہے تو تحقیق تم نے اس پر بہتان باندھا ہے۔
(۲۶۰۵۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ لَہُ : مَا الْغِیبَۃُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : ذِکْرُک أَخَاک بِمَا یَکْرَہُ ، قَالَ : أَفَرَأَیْت إِنْ کَانَ فِی أَخِی مَا أَقُولُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : إِنْ کَانَ فِی أَخِیک مَا تَقُولُ ، فَقَدِ اغْتَبْتہ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ بَہَتَّہُ۔ (مسلم ۲۰۰۱۔ ابوداؤد ۴۸۴۱)
তাহকীক: