মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৭১৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث کی عبار ت کا دوسری حدیث سے مقابلہ کرنے کا بیان
(٢٧١٩٢) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عروہ نے مجھے پوچھا : کیا تو نے لکھا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! انھوں نے پوچھا : کیا تم نے اس کو دوسری حدیث سے ملا کر دیکھا ؟ میں نے کہا : نہیں۔ انھوں نے فرمایا : تم نہ لکھو۔
(۲۷۱۹۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ : قَالَ لِی أَبِی : کَتَبْت ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : عَارَضْت ؟ قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : لَمْ تَکْتُبْ۔ (رامھرمزی ۷۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کو قصہ بیان کرے
(٢٧١٩٣) حضرت سوار بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد مکروہ سمجھتے تھے کہ وہ کوئی ایسا واقعہ بیان کریں جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے۔
(۲۷۱۹۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَن سَوَّارَ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ: کَانَ مُحَمَّدٌ یَکْرَہُ أَنْ یَرْفَعَ قَصَّۃً لاَ یَعْلَمُ مَا فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٤) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی نماز کے علاوہ میں بھی دائیں طرف تھوک پھینکے۔
حضرت ابان نے راوی سے پوچھا : آپ نے کس سے نقل کیا : انھوں نے فرمایا : حضرت عبد الرحمن بن یزید سے انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے۔
حضرت ابان نے راوی سے پوچھا : آپ نے کس سے نقل کیا : انھوں نے فرمایا : حضرت عبد الرحمن بن یزید سے انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے۔
(۲۷۱۹۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَکْرَہُ أَنْ یَبْزُقَ الرَّجُلُ عَن یَمِینِہِ فِی غَیْرِ صَلاَۃٍ ، فَقَالَ لہ أَبَانُ : عَمَّنْ ؟ فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٥) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین کے بائیں جانب ایک بند دروازہ تھا۔ آپ وہاں جا کر اس جگہ تھوکا کرتے تھے۔
(۲۷۱۹۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ سِیرِینَ لَہُ بَابٌ عَن یَسَارِہِ مَسْدُودٌ ، وَکَانَ یَلْتَفِتُ إلَیْہِ فَیَبْزُقُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٦) حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابراہیم نے ارشاد فرمایا : آدمی کی عقلمندی میں ہے کہ وہ کس جگہ تھوکتا ہے۔
(۲۷۱۹۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن مِسْعَر ، عَن سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : مِنْ عَقْلِ الرَّجُلِ مَوْضِعُ بُزَاقِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٧) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود قبلہ رخ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے بائیں جانب تھوکنے کا ارادہ کیا تو وہ جگہ بھری ہوئی تھی۔ پس آپ نے دائیں جانب تھوکنے کو مکروہ سمجھا۔
(۲۷۱۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ جَالِسًا مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ، فأَرَادَ أَنْ یَبْزُقَ عَن شِمَالِہِ وَکَانَ مَشْغُولاً فَکَرِہَ أَنْ یَبْزُقَ عَن یَمِینِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٨) حضرت حمید بن ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نے ایک دن اپنے دائیں جانب تھوک دیا پھر فرمایا : آہ افسوس ! جب سے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں آیا ہوں یا فرمایا : جب سے اسلام لایا ہوں، میں نے ایسا نہیں کیا۔
(۲۷۱۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَن حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، أَنَّ مُعَاذًا تَفَلَ ذَاتَ یَوْمٍ ، عَن یَمِینِہِ ، ثُمَّ قَالَ : ہاہ ، مَا صَنَعْت ہَذَا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : مُنْذُ أَسْلَمْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو نماز کے علاوہ میں دائیں طرف تھوکتا ہو، اور کیسے تھوکا جائے
(٢٧١٩٩) حضرت حمید بن ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اپنے مرض الوفات میں دائیں طرف تھوک دیا۔ اور فرمایا : میں نے ایسا کبھی نہیں کیا مگر صرف ایک مرتبہ یا یوں فرمایا : میں نے ایک مرتبہ کے علاوہ ایسا کبھی نہیں کیا۔
(۲۷۱۹۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ ، عَن حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ : بَزَقَ أَبُو بَکْرٍ أو تَفَلَ عَن یَمِینِہِ فِی مِرْضَۃٍ مَرِضَہَا ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتہ إلاَّ مَرَّۃً ، أَوْ قَالَ : غَیْرَ ہَذِہِ الْمَرَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابرہیم کے سامنے اس خبر سے اظہارِ برأت کی جو انھیں میرے متعلق پہنچی تھی۔ آپ نے فرمایا : تم عذر پیش مت کرو، ہم نے تمہارا عذر قبول کرلیا، عذر پیش کرنے سے پہلے ہی۔
(۲۷۲۰۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : اعْتَذَرْت إلَی إبْرَاہِیمَ مِنْ شَیْئٍ بَلَغَہُ عَنی ، فَقَالَ : لاَ تَعْتَذِرْ ، قَدْ عَذَرْنَاک غَیْرَ مُعْتَذِرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠١) حضرت رافع بن ابو رافع طائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور میں نے کہا : آپ نے مجھے جو بھی حکم دیا تھا وہ دے دیا اور میں نے جہاں داخل ہونا تھا میں داخل ہوگیا۔ پھر آپ نے مسلسل عذر پیش کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کا عذر قبول کرلیا۔
(۲۷۲۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَن طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، عَن رَافِعِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ الطَّائِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْت : أَمَرْتَنِی بِمَا أَمَرْتَنِی بِہِ وَدَخَلْتَ فِیمَا دَخَلْتُ فِیہِ ، فَمَا زَالَ یَعْتَذِرُ إلَیَّ حَتَّی عَذَرْتہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : عذر کرنے سے بچو۔ اس لیے کہ اس میں بہت زیادہ جھوٹ ہوتا ہے۔
(۲۷۲۰۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَابْنُ نُمَیْرٍ، وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللہِ اتَّقُوا، وَقَالَ حَفْصٌ: إیَّاکُمْ وَالْمَعَاذِرَ ، فَإِنَّ کَثِیرًا مِنْہَا کَذِبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠٣) حضرت طارق فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت شریح ہمارے پاس عذر پیش کرنے کے لیے تشریف لائے۔
(۲۷۲۰۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللہِ الأَسَدِیُّ، عَن سُفْیَانَ، عَن طَارِقٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: خَرَجَ إلَیْنَا شُرَیْحٌ یَعْتَذِرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠٤) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حکم کے ساتھ چل رہا تھا، اتنے میں ہم نے حضرت ابو معشر کو دیکھا، حضرت حکم نے فرمایا : بیشک ان کو میرے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے ان کے متعلق کچھ کہا ہے۔ نہیں ! اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابو معشر آئے تو حضرت حکم نے ان کے سامنے عذر پیش کیا اور فرمایا : تحقیق میں نے شعبہ کے سامنے قسم اٹھائی ہے کہ جو بات آپ کو میری طرف سے پہنچی ہے وہ میں نے نہیں کہی۔
(۲۷۲۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَن شُعْبَۃَ قَالَ : کُنْتُ أَمْشِی مَعَ الْحَکَمِ فَرَأَیْنَا أَبَا مَعْشَرٍ فَقَالَ الْحَکَمُ : إنَّ ہَذَا قَدْ بَلَغَہُ عَنی شَیْئٌ أَنِّی قُلْتہ ، وَلاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ مَا قُلْتہ ، قَالَ : فَلَمَّا جَائَ أَبُو مَعْشَرٍ اعْتَذَرَ إلَیْہِ الْحَکَمُ ، وَقَالَ : قَدْ حَلَفْت لِشُعْبَۃَ أَنِّی لَمْ أَقُلِ الَّذِی بَلَغَک عَنی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سامنے اظہار برأت کرتا ہے اس خبر سے جو اس شخص کو اس کے متعلق پہنچی
(٢٧٢٠٥) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے میرے سامنے اس بات کا عذر پیش کیا جو مجھے ان کی طرف سے پہنچی تھی۔
(۲۷۲۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ: أَتَانِی إبْرَاہِیمُ یَعْتَذِرُ إلَیَّ مِنْ أَمْرٍ مَا بَلَغَنِی عَنہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے اس کنیت کا اختیار کرنا مکروہ ہے
(٢٧٢٠٦) حضرت موسیٰ بن عُلیّ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت علی نے ارشاد فرمایا : کسی آدمی نے ابو عیسیٰ کنیت اختیار کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً عیسیٰ کے والد نہیں تھے۔
(۲۷۲۰۶) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن مُوسَی بن عَلِی ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً اکتَنَی بِأَبِی عِیسَی : فَقالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عِیسَی لاَ أَب لَہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے اس کنیت کا اختیار کرنا مکروہ ہے
(٢٧٢٠٧) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے ابو عیسیٰ کنیت اختیار کی اور فرمایا : یقیناً حضرت عیسیٰ کے کوئی والد نہیں تھے۔
(۲۷۲۰۷) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن عَبد اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنُ حَفص ، عَن زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَر ضَرَبَ ابنًا لَہ اکتَنَی بِأَبِی عِیسَی ، وَقَال : إِنَّ عِیسَی لَیسَ لَہُ أَب۔ (عبدالرزاق ۱۹۸۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو ہنسنے اور کثرت سے ہنسنے کے متعلق ذکر کی گئیں
(٢٧٢٠٨) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔
(۲۷۲۰۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَن حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : کَثْرَۃُ الضَّحِکِ تُمِیتُ الْقَلْبَ۔ (بخاری ۲۵۲۔ ابن ماجہ ۴۲۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو ہنسنے اور کثرت سے ہنسنے کے متعلق ذکر کی گئیں
(٢٧٢٠٩) حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : مومن کا ہنسنا اس کے دل کے غافل ہونے کی نشانی ہے۔
(۲۷۲۰۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن ثَابِتٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : ضَحِکُ الْمُؤْمِنِ غَفْلَۃٌ مِنْ قَلْبِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو ہنسنے اور کثرت سے ہنسنے کے متعلق ذکر کی گئیں
(٢٧٢١٠) حضرت عون فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنستے نہیں تھے مگر مسکرا کر اور متوجہ نہیں ہوتے تھے مگر مکمل طور پر۔
(۲۷۲۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنْ عَوْنٍ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَضْحَکُ إلاَّ تَبَسُّمًا ، وَلاَ یَلْتَفِتُ إلاَّ مَعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو آدھے دن کے وقت قیلولہ کرنے کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧٢١١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو خبر ملی کہ ان کا مقرر کردہ گورنر قیلولہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے اس کو خط لکھا : قیلولہ کیا کرو، اس لیے کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ بیشک شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ حضرت مجاہد نے فرمایا : بیشک شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔
(۲۷۲۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن مُجَاہِدٍ قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ ، أَنَّ عَامِلاً لَہُ لاَ یَقِیلْ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : قِلْ ، فَإِنِّی حُدِّثْتُ أَنَّ الشَّیْطَانَ لاَ یَقِیلُ ، قَالَ مُجَاہِدٌ : إنَّ الشَّیَاطِینَ لاَ یَقِیلُونَ۔
তাহকীক: