মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৭১৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ایک آدمی کو وضو کرواتا ہے تو وہ کس جانب کھڑا ہو ؟
(٢٧١٧٢) حضرت عبایہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو وضو کروایا تو میں ان کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا اور میں نے ان پر پانی ڈالا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے مجھ پر نظر ڈالی اور فرمایا : تم نے یہ ادب کہاں سے سیکھا ؟ میں نے کہا : اپنے دادا حضرت نافع سے ، انھوں نے فرمایا : تمہیں مبارک ہو۔
(۲۷۱۷۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو حَیَّانَ، عَنْ عَبَایَۃَ قَالَ: وَضَّأْت ابْنَ عُمَرَ فَقُمْت، عَن یَمِینِہِ أُفْرِغُ عَلَیْہِ الْمَائَ، فَلَمَّا فَرَغَ صَعَّدَ فِیَّ بَصَرَہُ فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ أَخَذَتْ ہَذَا الأَدَبَ؟ فَقُلْت: مِنْ جَدِّی رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ: ہنیئا لک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ایک آدمی سے ملتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ؟
(٢٧١٧٣) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے بھائی سے ملو تو اس سے مت پوچھو ! کہ تم کہاں سے آئے ؟ اور نہ یہ پوچھو کہ تم کہا جا رہے ہو ؟ اور نہ تم اپنے بھائی کی طرف گھور کردیکھو۔
(۲۷۱۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ قَالَ : إذَا لَقِیْتَ أَخَاک فَلاَ تَسْأَلْہُ مِنْ أَیْنَ جِئْت ؟ وَلاَ أَیْنَ تَذْہَبُ ؟ وَلاَ تَحُدُّ النَّظَرَ إلَی أَخِیک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھکی ہوئی دیوار کے نزدیک جلدی چلنے کا بیان
(٢٧١٧٤) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی جھکی ہوئی دیوار یا جھکی ہوئی چوٹی کے پاس سے گزرے تو اس کو چاہیے کہ وہ جلدی چلے ، اور اللہ رب العزت سے عفو و درگزر کا سوال کرے۔
(۲۷۱۷۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَن حَجَّاجِ الصَّوَافِّ قَالَ : حدَّثَنَی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ : بَلَغَنِی ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ : إذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ بِہَدَفٍ مَائِلٍ ، أَوْ صَدَفٍ ہَائِلٍ فَلْیُسْرِعِ الْمَشْیَ وَلْیَسْأَلِ اللَّہَ الْمُعَافَاۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دوسرے آدمی سے بھلائی کرتا ہے، وہ اس سے اس کا نام پوچھ لے
(٢٧١٧٥) حضرت یزید بن نعامہ ضبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے بھلائی کا معاملہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس سے اس کا نام اور اس کے والد کا نام پوچھ لے اور یہ پوچھ لے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے ؟ اس لیے کہ یہ بات محبت کو زیادہ کرنے والی ہے۔
(۲۷۱۷۵) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَن عِمْرَانَ الْقَصِیرِ قَالَ : أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن یَزِیدَ بْنِ نَعَامَۃَ الضَّبِّیِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا آخَی الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْیَسْأَلْہُ ، عَنِ اسْمِہِ وَاسْمِ أَبِیہِ وَمِمَّنْ ہُوَ ، فَإِنَّہُ أَوْصَلُ لِلْمَوَدَّۃِ۔ (ابو نعیم ۱۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دوسرے آدمی سے بھلائی کرتا ہے، وہ اس سے اس کا نام پوچھ لے
(٢٧١٧٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی آدمی کو دیکھا تو اس کے متعلق سوال کیا ؟ تو ایک شخص کہنے لگا : میں اس کا چہرہ پہچانتا ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ پہچاننا تو نہ ہوا۔
(۲۷۱۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً فَسَأَلَ عَنہُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَعْرِفُ وَجْہَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیْسَ تِلْکَ بِمَعْرِفَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٧٧) حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی کا اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔
(۲۷۱۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَیَزِیدُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نَفَقَۃُ الرَّجُلِ عَلَی أَہْلِہِ صَدَقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٧٨) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ نفقہ جس کا سات سو گنا ثواب ملتا ہے : وہ آدمی کا اپنی ذات پر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا ہے۔
(۲۷۱۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : إنَّ مِنَ النَّفَقَۃِ الَّتِی تُضَاعَفُ بِسَبْعِمِئَۃِ ضِعْفِ نَفَقَۃِ الرَّجُلِ عَلَی نَفْسِہِ وَأَہْلِ بَیْتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٧٩) حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی کا اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔
(۲۷۱۷۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَفَقَۃُ الرَّجُلِ عَلَی أَہْلِہِ صَدَقَۃٌ۔ (بخاری ۵۵۔ مسلم ۶۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٨٠) حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس آئے ، آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے گھر والوں پر خرچ کرے یا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دے تو یہ نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔
(۲۷۱۸۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ : حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ أَبِی سَیْفٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ عَلَی أَہْلِہِ ، أَوْ مَازَ أَذًی عَن طَرِیقٍ فَہی حَسَنَۃٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٨١) حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سا عمل افضل ترین ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانا، اور اس کے راستہ میں جہاد کرنا ، میں نے پوچھا : کون سا غلام افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہو۔ میں نے پوچھا؛ اگر میں اس کی طاقت نہ رکھتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کرویا کسی بیوقوف سے اچھا سلوک کرو۔ میں نے کہا : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو برائی سے بچاؤ ، اس لیے کہ یہ ایسا صدقہ ہے جو تم اپنی ذات پر کرتے ہو۔
(۲۷۱۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی مُرَاوِحَ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا وَأَغْلاَہَا ، ثَمَنًا ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَطِقْ ذَلِکَ ؟ قَالَ : تُعِینُ صَانِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : فَدَعِ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ ، فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلَی نَفْسِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
(٢٧١٨٢) حضرت ابو بردہ کے والد فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر مسلم پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ راوی کہتے ہیں : پوچھا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا رائے ہے اگر کوئی صدقہ کے لیے کچھ بھی نہ پائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے خود کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ کسی نے پوچھا : اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص کسی ستم رسیدہ حاجت مند کی مدد کر دے۔ کسی نے پوچھا : اگر وہ اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ کسی نے پوچھا : اگر وہ اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ برائی سے روک دے پس بیشک یہ بھی صدقہ ہے۔
(۲۷۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَۃٌ ، قَالَ : قِیلَ أَرَأَیْت إِنْ لَمْ یَجِدْ ؟ قَالَ : یَعْمَلُ بِیَدَیْہِ فَیَنْفَعُ نَفْسَہُ وَیَتَصَدَّقُ ، قَالَ : أَرَأَیْت إِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : یُعِینُ ذَا الْحَاجَۃِ الْمَلْہُوفَ ، قَالَ : أَرَأَیْت إِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ ؟ قَالَ: یَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أو الخیر ، قَالَ : أَرَأَیْت إِنْ لَمْ یَفْعَلْ ؟ قَالَ : یُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ۔
(بخاری ۱۴۴۵۔ مسلم ۶۹۹)
(بخاری ۱۴۴۵۔ مسلم ۶۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اِنا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہو
(٢٧١٨٣) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عبداللہ بن مسعود اپنے اصحاب میں سے چند لوگوں کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ اس پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ لوگوں میں سے کسی نے آپ سے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! آپ ایک تسمہ پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے افسوس نہیں کیونکہ تسمہ تو بہت ہیں لیکن یہ مصیبت ہی ہے۔
(۲۷۱۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن دِینَارٍ التَّمَّارِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَمْشِی مَعَ نَاسٍ مِن أَصْحَابِہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَانْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِہِ فَاسْتَرْجَعَ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَسْتَرْجِعُ عَلَی سَیْرٍ ؟ قَالَ : مَا بِی أن لاَ تَکُونَ السُّیُورُ کَثِیرًا وَلَکِنَّہَا مُصِیبَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اِنا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہو
(٢٧١٨٤) حضرت عبداللہ بن خلیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گاہ تو آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھی ۔ اور فرمایا : ہر وہ چیز جو تمہیں بری معلوم ہو وہ مصیبت و تکلیف ہے۔
(۲۷۱۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خَلِیفَۃَ ، عَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّہُ انْقَطَعَ شِسْعُہُ فَاسْتَرْجَعَ ، وَقَالَ : کُلُّ مَا سَائَک ، فَہُوَ مُصِیبَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اِنا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہو
(٢٧١٨٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا جوتی کا تسمہ ٹوٹنے کی صورت میں بھی ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔ ہر وہ چزہ جو مومن کو تکلیف پہنچائے اور وہ اسے برا سمجھے تو یہ مصیبت ہے۔
(۲۷۱۸۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : انْقَطَعَ قُبَالُ نَعْلِ عُمَرَ فَقَالَ : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ، فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَفِی قُبَالِ نَعْلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، کُلُّ شَیْئٍ أَصَابَ الْمُؤْمِنَ یَکْرَہُہُ ، فَہُوَ مُصِیبَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہنے کو مکروہ سمجھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی نہیں
(٢٧١٨٦) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : تم یوں کہو کہ خاتم النبیین ہیں۔ یوں مت کہو : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۲۷۱۸۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ : قُولُوا : خَاتَمُ النَّبِیِّینَ ، وَلاَ تَقُولُوا : لاَ نَبِیَّ بَعْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہنے کو مکروہ سمجھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی نہیں
(٢٧١٨٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت مغر ہ بن شعبہ کے پاس یوں درود پڑھا۔ اللہ رحمت بھیجے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت مغیرہ نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ خاتم الانبیاء ہیں اس لیے کہ ہم گفتگو کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نکلنے والے ہیں۔ پس جب وہ نکل آئیں گے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی ہوئے۔
(۲۷۱۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن مُجَالِدٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَامِرٌ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ : صَلَّی اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الأَنْبِیَائِ ، لاَ نَبِیَّ بَعْدَہُ ، قَالَ الْمُغِیرَۃُ : حَسْبُک إذَا قُلْتَ : خَاتَمُ الأَنْبِیَائِ ، فَإِنَّا کُنَّا نُحَدِّثُ، أَنَّ عِیسَی خَارِجٌ ، فَإِنْ ہُوَ خَرَجَ ، فَقَدْ کَانَ قَبْلَہُ وَبَعْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیونٹی کو مارنے کا بیان
(٢٧١٨٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چیونٹی اور شہد کی مکھی کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۷۱۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن یُونُسَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، عَن قَتْلِ النَّمْلِ وَالنَّحْلِ۔
(ابوداؤد ۵۲۲۵۔ احمد ۳۳۲)
(ابوداؤد ۵۲۲۵۔ احمد ۳۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیونٹی کو مارنے کا بیان
(٢٧١٨٩) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب چیونٹی تمہیں تکلیف پہنچائے تو تم اسے مار دو ۔
(۲۷۱۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا آذَاک النَّمْلَ فَاقْتُلْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیونٹی کو مارنے کا بیان
(٢٧١٩٠) حضرت خالد بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو العالیہ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے بچھونے پر چیونٹیوں کو دیکھا تو انھیں مار دیا۔
(۲۷۱۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ رَأَی نَمْلاً عَلَی بِسَاطٍ فَقَتَلَہُنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیونٹی کو مارنے کا بیان
(٢٧١٩١) حضرت سلیمان بن احول فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : ہم چیونٹیوں کو پانی کے ذریعہ منتشر کردیتے ہیں یعنی جب وہ ہمیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔
(۲۷۱۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَن سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَن طَاوُوس قَالَ : إنَّا لَنُفرِّقَ النَّمْلَ بِالْمَائِ یَعْنِی إذَا آذَتْنَا۔
তাহকীক: