মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৬৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٦٦) حضرت معاذ تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
(۸۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یَکْرَہُ أَنْ یُقْرَأ الْقُرْآنَ فِی أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٦٧) حضرت اسود رمضان میں دو راتوں میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے اور رمضان کے علاوہ چھ دنوں میں۔ حضرت علقمہ پانچ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
(۸۶۶۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ الأَسْوَدُ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فِی لَیْلَتَیْنِ وَیَخْتِمُہُ فِی سِوَی رَمَضَانَ فِی سِتٍّ ، وَکَانَ عَلْقَمَۃُ یَخْتِمُہُ فِی خَمْسٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٦٨) حضرت علقمہ پانچ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت اسود بن یزید چھ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
(۸۶۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ : أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی خَمْسٍ، وَکَانَ الأَسْوَدُ بْنُ یَزِیدَ یَقْرَؤُہُ فِی سِتٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٦٩) حضرت عبدالرحمن بن یزید سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت علقمہ اور حضرت اسود میں سے ایک پانچ دن میں اور دوسرے چھ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
(۸۶۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی کُلِّ سَبْعٍ ، وَکَانَ عَلْقَمَۃُ وَالأَسْوَدُ یَقْرَؤُہُ أَحَدُہُمَا فِی خَمْسٍ وَالأَخَرُ فِی سِتٍّ ، وَکَانَ إبْرَاہِیمُ یَقْرَؤُہُ فِی سَبْعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٠) حضرت عروہ سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
(۸۶۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُد ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی کُلِّ سَبْعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧١) حضرت ابو مجلز رمضان میں اپنے علاقے والوں کو تراویح پڑھاتے تھے اور سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
(۸۶۷۱) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : کَانَ یَؤُمُّ الْحَیَّ فِی رَمَضَانَ وَکَانَ یَخْتِمُ فِی سَبْعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٢) حضرت اوس بن حذیفہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ثقیف کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمیں ایک قبہ میں ٹھہرایا۔ ہمارے کچھ حلیف بھائی حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس ٹھہرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس عشاء کے بعد تشریف لایا کرتے تھے۔ آپ کی اکثر گفتگو قریش کی شکایات پر مشتمل ہوتی تھی۔ آپ فرماتے کہ دونوں جگہ پریشانی ہے، مکہ میں کمزور اور لاچار تھے، مدینہ آئے تو لڑائیوں نے ہمیں گھیر لیا ہے، کچھ ہمارے خلاف جاتی ہیں اور کچھ ہمارے حق میں۔

ایک رات آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی، جب آپ تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی ! آپ نے فرمایا کہ میرے روز کی تلاوت کے معمول میں کچھ کمی رہ گئی تھی اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں اسے پورا کیے بغیر جاؤں۔ ہم نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزانہ کتنا قرآن پڑھا کرتے تھے ؟ انھوں نے بتایا کہ آپ قرآن مجید کو تین، پانچ، سات، نو، گیارہ، تیرہ اور حزب المفصل میں تقسیم فرماتے تھے۔
(۸۶۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْلَی الطَّائِفِیُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ جَدِّہِ أَوْسِ بْنِ حُذَیْفَۃَ قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفْدُ ثَقِیفٍ ، قَالَ : فَأَنْزَلَنَا فِی قُبَّۃٍ لَہُ وَنَزَلَ إخْوَانُنَا الأَحْلاَفُ عَلَی المُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : فَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْتِینَا بَعْدَ الْعِشَائِ فَیُحَدِّثُنَا وَکَانَ أَکْثَرُ حَدِیثِہِ تشَکّیہ قُرَیْشًا وَیَقُولُ : وَلاَ سَوَائَ کُنَّا بِمَکَّۃَ مُسْتَضْعَفِینَ مُسْتَذَلِّینَ ، فَلَمَّا أَتَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَانَتِ الْحَرْبُ سِجَالاً عَلَیْنَا وَلَنَا۔

قَالَ : فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَأَطْوَلَ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ أَبْطَأْتَ عَلَیْنَا ، قَالَ : إِنَّہُ طَرَأَ عَلَیَّ حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَکَرِہْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّی أَقْضِیَہُ ، فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیفَ کَانَ رَسُولُ اللہِ صلی اللہ علیہ یُحَزِّبُ الْقُرْآنَ ؟ فَقَالَ : کَانَ یُحَزِّبُہُ ثَلاَثًا وَخَمْسًا وَسَبْعًا وَتِسْعًا وَإِحْدَی عَشْرَۃَ وَثَلاَثَ عَشْرَۃَ وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ۔ (احمد ۴/۳۴۳۔ ابن ماجہ ۱۳۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٣) حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں ایک مہینے میں قرآن پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں پندرہ دن میں پڑھوں۔ میں اسے پندرہ دن میں پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسے دس دنوں میں پڑھوں۔ میں اسے دس دن میں مکمل کروں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسے سات دن میں پڑھوں۔ میں رکتا ہوں اور دعا کرتا ہوں۔
(۸۶۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ ، عَنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : لأَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِی شَہْرٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَہُ فِی خَمْسَ عَشْرَۃَ ، وَلأَنْ أَقْرَأَہُ فِی خَمْسَ عَشْرَۃَ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَہُ فِی عَشْرٍ ، وَلأَنْ أَقْرَأَہُ فِی عَشْرٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَہُ فِی سَبْعٍ أقف وَأَدْعُو۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو سات دنوں میں پڑھو تین دنوں میں نہ پڑھو۔
(۸۶۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَص ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : اقَرَإِ الْقُرْآنَ فِی سَبْعٍ وَلاَ تَقْرَأُہُ فِی ثَلاَثٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٥) حضرت مسیب بن رافع قرآن مجید کو تین دن میں ختم فرماتے تھے، پھر جس رات قرآن ختم ہوتا اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔
(۸۶۷۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : کَانَ یَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِی کُلِّ ثَلاَثٍ ، ثُمَّ یُصْبِحُ الْیَوْمَ الَّذِی یَخْتِمُ فِیہِ صَائِمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے
(٨٦٧٦) حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جمعہ کو قرآن کی تلاوت کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اچھا ہے، اگر تم ہر جمعہ کو مصحف پکڑو اور اسے کسی کمرے میں داخل کرو تو امید ہے کہ یہ اسے بھر دے گا۔
(۸۶۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی مَسْرُوقٍ فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی جُمُعَۃٍ ؟ فَقَالَ مَسْرُوقٌ : حَسَنٌ لَوْ أَخَذْتَ مُصْحَفًا کُلَّ جُمُعَۃٍ فَأَدْخَلْتَہُ بَیْتًا لأَوْشَکَ أَنْ تَمْلأَہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٧٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم داری نے پورا قرآن مجید ایک رکعت میں ختم فرمایا۔
(۸۶۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ تَمِیمًا الدَّارِیَّ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی رَکْعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٧٨) حضرت عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، میں یہ چاہتا تھا کہ اس رات اس جگہ میرے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ اتنے میں ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے متوجہ کیا۔ میں متوجہ نہ ہوا اس نے مجھے پھر متوجہ کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا اور وہ وہاں کھڑے ہوگئے اور انھوں نے ایک رکعت میں پورا قرآن مجید پڑھنے کے بعد نماز مکمل فرمائی۔
(۸۶۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : قُمْتُ خَلْفَ الْمَقَامِ أُصَلِّی وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ لاَ یَغْلِبَنِی عَلَیْہِ أَحَدٌ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِی یَغْمِزُنِی فَلَمْ أَلْتَفِتْ إلَیْہِ ، ثُمَّ غَمَزَنِی فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا ہُوَ عُثْمَانَ بْنُ عَفَّانَ فَتَنَحَّیْت وَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی رَکْعَۃٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٧٩) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے کعبہ میں ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم کیا ہے۔
(۸۶۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ : قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِی الْکَعْبَۃِ فِی رَکْعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٨٠) حضرت عثمان نے ایک رات میں ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرمایا۔
(۸۶۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُثْمَانَ : أَنَّہُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِی رَکْعَۃٍ فِی لَیْلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٨١) حضرت علقمہ نے مکہ میں ایک رات میں قرآن مجید ختم فرمایا۔
(۸۶۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ : أَنَّہُ قَرَأَہُ فِی لَیْلَۃٍ بِمَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٨٢) ایک اور سند سے یہی منقول ہے۔
(۸۶۸۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ نَحْوَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٨٣) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے کعبہ میں دو رکعت میں قرآن مجید ختم کیا ہے۔
(۸۶۸۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ صَاحِبٍ لَہُ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: قرَأْتُُ الْقُرْآنَ فِی الْکَعْبَۃِ فِی رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
(٨٦٨٤) حضرت علی ازدی رمضان کی ہر رات میں قرآن مجید ختم فرمایا کرتے تھے۔
(۸۶۸۴) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ الأَزْدِیُّ یَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِی رَمَضَانَ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرمانِ باری تعالیٰ { حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃ الْوُسْطَی } (نمازوں کی پابندی کرو اور خاص طور پر درمیانی نماز کی) کی تفسیر
(٨٦٨٥) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا کہ انھوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز کے وقت میں مصروف رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ نے عصر کی نماز کو مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ادا فرمایا۔
(۸۶۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الأَحْزَابِ : شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃ الْوُسْطَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّہُ بُیُوتَہُمْ وَقُبُورَہُمْ نَارًا، ثُمَّ صَلاَّہَا بَیْنَ الْعِشَائَیْنِ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔ (مسلم ۲۰۵۔ احمد ۱/۸۱)
tahqiq

তাহকীক: