মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১২৪৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے کفن کو زیب وزینت دینا اور جس نے اس کو پسند کیا ہے، اور بعض نے رخصت دی ہے کہ وہ اگر ایسا نہ بھی کرے تو کوئی حرج نہیں
(١١٢٤٥) حضرت ابن الحنیفہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کیلئے (عمدہ) کفن میں کچھ نہیں رکھا، یہ تو زندہ کا اکرام ہے۔
(۱۱۲۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ بَشِیرٍ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ لَیْسَ لِلْمَیِّتِ مِنَ الْکَفَنِ شَیْئٌ إنَّمَا ہُوَ تَکْرِمَۃُ الْحَیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٤٦) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں : اپنے مردوں کو ناپاک مت سمجھو، بیشک مؤمن زندہ اور مردہ حالت میں ناپاک نہیں ہوتا۔
(۱۱۲۴۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ تُنَجِّسُوا مَوْتَاکُمْ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِنَجِسٍ حَیًّا ، وَلاَ مَیِّتًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٤٧) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے دریافت فرمایا : میت کو غسل دینے والا خود بھی غسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔
(۱۱۲۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَغْتَسِلُ مِنْ غُسْلِ الْمَیِّتِ ، قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٤٨) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے مردوں کو ناپاک مت سمجھو یعنی غاسل پر غسل نہیں ہے۔
(۱۱۲۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ تُنَجِّسُوا مَیِّتُکُمْ یَعْنِی لَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٤٩) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میری والدہ محترمہ نے ایک میت کو غسل دینے کے بعد مجھ سے فرمایا : پوچھ کر بتاؤ کیا میرے ذمہ غسل کرنا ہے ؟ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور آپ سے دریافت فرمایا : آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ نے کسی ناپاک چیز کو غسل دیا (جو خود غسل کر رہی ہیں) پھر میں حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے بھی اسی طرح جواب دیا کہ کیا تمہاری والدہ نے ناپاک چیز کو غسل دیا ہے۔
(۱۱۲۴۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الرَّبِیعِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ غَسَّلَتْ أُمِّی مَیِّتَۃً ، فَقَالَتْ لِی سل ہَلْ عَلَیَّ غُسْلٌ فَأَتَیْت ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : أَنَجِسًا غَسَّلَتْ ؟ ثُمَّ أَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ أَنَجِسًا غَسَّلَتْ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ سے دریافت کیا گیا کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تمہارا صاحب ناپاک ہے تو اس کو غسل دے کر نہالو۔
(۱۱۲۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللہِ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَیِّتِ ، فَقَالَ: إِنْ کَانَ صَاحِبُکُمْ نَجِسًا فَاغْتَسِلُوا مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥١) حضرت عائشہ بنت سعد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد کو حضرت سعید بن زید کے جنازے پر بلایا گیا وہ بقیع کے ساتھ تھے، آپ تشریف لائے اور آپ نے ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور پھر ان کو خوشبو لگائی، پھر آپ تشریف لائے اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور ان کے بعد پانی منگوا کر غسل فرمایا اور ارشاد فرمایا : میں نے اس لیے غسل نہیں کیا کہ میں نے میت کو غسل دیا تھا، اگرچہ جس کو غسل دیا تھا وہ ناپاک ہی کیوں نہ ہو، بلکہ میں تو گرمی کی وجہ سے نہایا ہوں۔
(۱۱۲۵۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ قَالَتْ أُوذِنَ سَعْدٌ بِجِنَازَۃِ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، وَہُوَ بِالْبَقِیعِ فَجَائَ فَغَسَّلَہُ وَکَفَّنَہُ وَحَنَّطَہُ ، ثُمَّ أَتَی دَارَہٗ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ قَالَ : إنِّی لَمْ أَغْتَسِلْ مِنْ غُسْلِہِ وَلَوْ کَانَ نَجِسًا مَا غَسَّلْتُہُ وَلَکِنِّی اغْتَسَلْت مِنَ الْحَرِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٢) حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل نہیں ہے۔
(۱۱۲۵۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ قَالاَ : لَیْسَ عَلَی غَاسِلِ الْمَیِّتِ غُسْلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٣) حضرت معاذہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ سے دریافت کیا گیا کہ مردوں کو نہلانے والے پر غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
(۱۱۲۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ ، عَنْ مُعَاذَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا سُئِلَتْ عَلَی الَّذِی یُغَسِّلُ الْمُتَوَِفِّینَ غُسْلٌ ؟ قَالَتْ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٤) حضرت علقمہ بن عبداللہ المذنی فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کو چار صحابہ کرام نے مرنے کے بعد غسل دیا، پس زیادہ نہیں ہوئے مگر ان کی آستین کھول دیں اور ان کی قمیصوں کو ازار باندھنے کی جگہ ڈال دیں، جب وہ ان کو غسل دے کر فارغ ہوئے تو انھوں نے (صرف) نماز والا وضو کیا (غسل نہیں کیا) ۔
(۱۱۲۵۴) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ ، قَالَ : غَسَّلَ أَبَاک أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا زَادُوا عَلَی أَنْ کَفُّوا أَکْمَامَہُمْ وَأَدْخَلُوا قُمُصَہُمْ فِی حُجَزِہِمْ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ غُسْلِہِ تَوَضَّؤُوا وُضُوئَہُمْ لِلصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٥) حضرت خذاعی بن زیاد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل نے وصیت کی کہ میرے انتقال کے وقت ابن زیاد میرے پاس نہ آئے اور یہ کہ میرے ساتھی ہی میرے پاس رہیں، پس لوگوں نے ان کے شاگردوں میں سے عائذ بن عمر وابو برزہ اور دوسرے لوگوں کو بلایا انھوں نے عبداللہ بن مغفل کو غسل دینے کے لیے اپنی آستین چڑھائی اور قمیصوں کو سمیٹا اور جب غسل دینے سے فارغ ہوئے تو صرف وضو کیا۔
(۱۱۲۵۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی خُزَاعِیُّ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ أَوْصَی عَبْدُ اللہِ بْنُ مُغَفَّلٍ أَنْ لاَ یَحْضُرَہُ ابْنُ زِیَادٍ وَأَنْ یَلِیَنِی أَصْحَابِی فَأَرْسَلُوا إلَی عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِی بَرْزَۃَ وَأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَمَا زَادُوا عَلَی أَنْ کَفُّوا أَکِمَّتَہُم وَجَعَلُوا مَا فَضَلَ منْ قُمُصِہِمْ فِی حُجَزِہِمْ ، فَلَمَّا فَرَغُوا لَمْ یَزِیدُوا عَلَی الْوُضُوئِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٦) حضرت عروہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ایک میت کو کفن پہنایا (غسل دینے کے بعد) اور اس کو خوشبو لگائی۔ پھر (غسل کرنا تو دور کی بات) پانی کو چھوا تک نہیں۔
(۱۱۲۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَفَّنَ مَیِّتًا وَحَنَّطَہُ ، وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٧) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام فرماتے تھے اگر تمہارا صاحب ناپاک ہے تو اسے غسل دے کر غسل کرلو۔
(۱۱۲۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: کَانُوا یَقُولُونَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکُمْ نَجِسًا فَاغْتَسَلُوا مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
(١١٢٥٨) حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ اگر مردہ ناپاک ہو تو تم اسے غسل دے کر غسل کرو۔
(۱۱۲۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکُمْ نَجِسًا فَاغْتَسَلُوا مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٥٩) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو میت کو غسل دے وہ غسل کرلے۔
(۱۱۲۵۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، أَنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثَتْہُ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : یُغْتَسَلُ مِنْ غُسْلِ الْمَیِّتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٠) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت حذیفہ سے دریافت کیا میں کیسے غسل دوں ؟ آپ نے فرمایا ایسے ایسے اور پھر جب تم غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو خود غسل کرلو۔
(۱۱۲۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ حُذَیْفَۃَ کَیْفَ أَصْنَعُ ، قَالَ اغْسِلْہُ کَیْتَ وَکَیْتَ فَإِذَا فَرَغْت فَاغْتَسِلْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦١) حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو میت کو غسل دے اس کو غسل کرلینا چاہیے۔
(۱۱۲۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إسْرَائِیلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٢) حضرت سعید بن المسیب ارشاد فرماتے ہیں کہ سنت میں سے یہ بات ہے کہ میت کو غسل دینے والا غسل کرلے۔
(۱۱۲۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ مِنَ السُّنَّۃِ ، مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا اغْتَسَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٣) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں نے میت کو غسل دیا، پھر حضرت علی کے ساتھیوں نے بعد میں خود غسل کیا لیکن حضرت عبداللہ کے ساتھیوں نے غسل نہ کیا۔
(۱۱۲۶۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ وَأَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ غَسَّلاَ مَیِّتًا فَاغْتَسَلَ الَّذِی مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ وَتَوَضَّأَ الَّذِی مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٤) حضرت ابوہریرہ ارشاد فرماتے ہیں جو میت کو غسل دے وہ بعد میں (خود بھی) غسل کرے اور جو میت کو کندھا دے وہ وضو کرے۔
(۱۱۲۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔
tahqiq

তাহকীক: