মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১২৬৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٥) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو میت کو غسل دے وہ خود غسل کرے اور جو اس کو کندھا دے وہ وضو کرلے۔
(۱۱۲۶۵) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (احمد ۴۳۳۔ بیہقی ۳۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا لازم ہے
(١١٢٦٦) حضرت ابو قلابہ جب متل کو غسل دیتے تو خود بھی غسل کرلیتے۔
(۱۱۲۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا غَسَّلَ مَیِّتًا اغْتَسَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کسی مشرک کو غسل دینے کے بعد غسل کریں کہ نہ کریں ؟
(١١٢٦٧) حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا گمراہ اور بوڑھا چچا مرگیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کے پاس جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور پھر جب تک میرے پاس نہ آ جاؤ کچھ نہ کرنا، چنانچہ میں نے انھیں ڈھانپ دیا اور حاضر خدمت ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا انھیں غسل دو اور آپ نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں جو میرے نزدیک دنیا کی تمام چیزوں کے مل جانے سے زیادہ قابل حسرت ہیں۔
(۱۱۲۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْت یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ عَمَّک الشَّیْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : فَقَالَ : انْطَلِقْ فَوَارِہِ ، ثُمَّ لاَ تُحْدِثَنَّ شَیْئًا حَتَّی تَأْتِیَنِی ، قَالَ فَوَارَیْتُہُ ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَأَمَرَنِی فَاغْتَسَلْت ، ثُمَّ دَعَا لِی بِدَعَوَاتٍ مَا یَسُرُّنِی ، أَنَّ لِی بِہِنَّ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ۔ (ابوداؤد ۳۲۰۶۔ احمد ۱/۱۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو غسل دینے کا ثواب
(١١٢٦٨) حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں جو شخص میت کو غسل دے اور اس امانت کو (احسن طریقے سے) ادا کرے وہ گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جیسے اس کی والدہ نے اس کو اسی دن جناہو۔
(۱۱۲۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَأَدَّی فِیہِ الأَمَانَۃَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٦٩) حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ حضرت اسمائ نے وصیت فرمائی کہ میرے کفن پر خوشبو مت لگانا۔
(۱۱۲۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ، أَنَّہَا أَوْصَتْ أَنْ لاَ یَجْعَلُوا عَلَی کَفَنِی حِنَاطًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧٠) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر چارپائی یا تابوت پر خوشبو لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۲۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَرِہَ الْحَنُوطَ عَلَی النَّعْشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧١) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حارث کے جنازہ پر خوشبودار (پاؤڈر) دیکھا۔
(۱۱۲۷۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلَی جِنَازَۃِ الْحَارِثِ ذَرِیرَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧٢) حضرت عمر بن عبد العزیز چارپائی پر خوشبو لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۲۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، أَنَّہُ کَرِہَ الذَّرِیرَۃَ عَلَی النَّعْشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧٣) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین چارپائی پر خوشبودار (پاؤڈر) لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۲۷۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ، عَنِ رَبِیعٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُجْعَلَ الْحَنُوطُ عَلَی النَّعْشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧٤) حضرت ابراہیم سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
(۱۱۲۷۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ صَاحِبٍ لَہُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پاؤڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
(١١٢٧٥) حضرت عطائ چارپائی پر خوشبودار پاؤڈر لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فرماتے تھے خوشبو ہے زندگی میں، خوشبو ہے مرنے کے بعد بھی ؟
(۱۱۲۷۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ الطَّائِفِیُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الذَّرِیرَۃَ الَّتِی تُجْعَلُ فَوْقَ النَّعْشِ وَیَقُولُ نَفْخٌ فِی الْحَیَاۃِ وَنَفْخٌ فِی الْمَمَاتِ!۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے ؟ اس کا بیان
(١١٢٧٦) حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تابوت (چارپائی) ایجاد کی (متعارف کروائی) ۔
(۱۱۲۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ أَوَّلُ مَنْ أَحْدَثَ النَّعْشَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے ؟ اس کا بیان
(١١٢٧٧) حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ام ایمن نے عورتوں کے لیے تابوت (چارپائی) کا حکم فرمایا۔
(۱۱۲۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، أَنَّ أُمَّ أَیْمَنَ أَمَرَتْ بِالنَّعْشِ لِلنِّسَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے ؟ اس کا بیان
(١١٢٧٨) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ ہم ابو مجلز کے پاس سے ایک بڑا تابوت (چارپائی) لے کر گذرے تو آپ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ نے اس کو بلند کیا، پس تم لوگ ان کی مخالفت کرو۔
(۱۱۲۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، قَالَ مَرُّوا عَلَی أَبِی مِجْلَزٍ بِنَعْشٍ کَبِیرٍ ، فَقَالَ : رَفَعَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی فَخَالِفُوہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے ؟ اس کا بیان
(١١٢٧٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہں ن کہ عورت کے جنازے کے تختے کے نیچے پائے لگا کر مرد اپنے اور تختے کے درمیان خلا پیدا کریں گے۔ مرد کے جنازے میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ اسے تختے کے درمیان میں رکھیں۔
(۱۱۲۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا إذَا کَانَتْ جِنَازَۃُ امْرَأَۃٍ أَکْفَوْا السَّرِیرَ فَجَافُوا عَنْہَا بِقَوَائِمِہِ ، وَإِذَا کَانَ رَجُلٌ وُضِعَ عَلَی بَطْنِ السَّرِیرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کی چارپائی کو دھونی دیں گے کہ نہیں ؟
(١١٢٨٠) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین میت کی چارپائی کو دھونی دینے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۲۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُجَمَّرَ سَرِیرُ الْمَیِّتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨١) حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان مت لے کر جانا۔
(۱۱۲۸۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ مُفَضَّلٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لاَ تَتْبَعُنِّی بِمِجْمَرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آگ لے کر (دھونی دان) میرے جنازے کے پیچھے مت آنا۔
(۱۱۲۸۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ لاَ تَتْبَعُونِی بِنَارٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٣) حضرت ابو سعید ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے جنازے کے پیچھے آگ لیکر مت آنا، اور میری چارپائی پر نصرانی مخمل کی چادر مت ڈالنا۔
(۱۱۲۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ عَمَّتِہِ أُمِّ النُّعْمَانِ بنت مُجَمِّعٍ ، عَنِ ابْنَۃِ أَبِی سَعِیدٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ ، قَالَ : لاَ تَتْبَعُونِی بِنَارٍ ، وَلاَ تَجْعَلُوا عَلَی سَرِیرِی قَطِیفَۃَ نَصْرَانِیٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٤) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پیچھے دھونی دان لیکر نہ آنا، اور مجھ پر لال مخمل کی چادر مت ڈالنا۔
(۱۱۲۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَارُونَ بن أبی إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا أَوْصَتْ أَنْ لاَ تَتْبَعُونِی بِمِجْمَرٍ ، وَلاَ تَجْعَلُوا عَلَیَّ قَطِیفَۃً حَمْرَائَ۔
tahqiq

তাহকীক: