মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১২৮৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٥) حضرت بکر سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کی اتباع نہ کرنا آواز اور آگ کے ساتھ، اور مجھے پتھر نہ مارنا، یعنی وہ گارا جو کہ قبر کے کناروں پر ہوتا ہے۔
(۱۱۲۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنْ بَکْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّہُ أَوْصَی أَنْ لاَ تَتْبَعُونِی بِصَوْتٍ ، وَلاَ بنَارٍ وَلاَ تَرْمُونِی بِالْحِجَارَۃِ یَعْنِی الْمَدَرَ الَّذِی یَکُونُ عَلَی شَفِیرِ الْقَبْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٦) حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک جنازہ میں دھونی دان دیکھا تو اس کو توڑ دیا اور فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے سنا ہے کہ اھل کتاب کی مشابہت اختیار مت کرو۔
(۱۱۲۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، أَنَّہُ رَأَی مِجْمَرًا فِی جِنَازَۃٍ فَکَسَرَہ ، وَقَالَ سَمِعْت ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ لاَ تُشَبَہُوا بِأَہْلِ الْکِتَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٧) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین جنازہ کے ساتھ دھونی دان لے جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۲۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ تُتْبَعَ الْجنَازَۃُ بِمِجْمَرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٨) حضرت امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم جنازے کو لے کر نکلو تو اس کے پیچھے آگ لے کر مت چلو۔
(۱۱۲۸۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا أَخْرَجْتہُ فَلاَ تَتْبَعہُ نَارًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٨٩) حضرت منصور ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَتْبَعَہُ مُجْمِرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٩٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت حضرت ابراہیم نخعی کے پاس تشریف لے گئے تو لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں اور رات کو دفن کر دئیے گئے ہیں، پھر ہمیں حضرت عبد الرحمن بن اسود نے بتلایا کہ انھوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پچھے آگ لے کر مت آنا، اور میری قبر پر عرزمی (جگہ کا نام) پتھر مت رکھنا جس سے گرجا کی تعمیر کی جاتی ہے۔
(۱۱۲۹۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ غَدَوْنَا عَلَی إبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ فَأَخْبَرُونَا ، أَنَّہُ مَاتَ وَدُفِنَ مِنَ اللَّیْلَ ، قَالَ فَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَد ، أَنَّہُ أَوْصَی أَنْ لاَ تَتْبَعُوا جِنَازَتَہُ بِنَارٍ ، وَلاَ تَجْعَلُوا عَلَیْہِ مِنَ اللَّبِنِ الْعَرْزَمِیِّ الَّذِی یُصْنَعُ مِنَ الْکُنَاسَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٩١) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابراہیم کی وفات کے بعد ان کے گھر آئے اور ہم نے دریافت کیا کہ انھوں نے کس چیز کی وصیت کی تھی ؟ تو انھوں نے بتایا انھوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پیچھے آگ لے کر مت جانا، اور میری قبر لحد کھودنا، اور میری قبر پر عرزمی جگہ کے پتھر نہ رکھنا۔
(۱۱۲۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ أَتَیْنَا إلَی مَنْزِلِ إبْرَاہِیمَ بَعْدَ مَوْتِہِ فَقُلْنَا بِأَیِّ شَیْئٍ أَوْصَی ؟ قَالُوا : أَوْصَی أَنْ لاَ یُتْبَعَ بِنَارٍ وَأَلْحِدُوا لِی لَحْدًا ، وَلاَ تَجْعَلُوا فِی قَبْرِی لَبِنًا عَرْزَمِیًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٩٢) حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنازہ کا اتباع نہ کیا جائے آگ اور آواز کے ساتھ اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔
(۱۱۲۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُتْبَعُ الْجِنَازَۃُ بِصَوْتٍ ، وَلاَ بِنَارٍ ، وَلاَ یُمْشَی أَمَامَہَا۔ (ابوداؤد ۳۱۶۳۔ احمد ۲/۵۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دھونی دان کو میت کے ساتھ (پیچھے) لے جانے کا بیان
(١١٢٩٣) حضرت حنش بن معتمر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازہ میں تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خاتون کو دیکھا اس کے پاس دھونی دان تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ مدینہ کے محلات سے پیچھے آرہی تھی۔
(۱۱۲۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی جِنَازَۃ فَرَأَی امْرَأَۃً مَعَہَا مِجْمَرٌ ، فَقَالَ : اطْرُدُوہَا ، فَمَا زَالَ قَائِمًا حَتَّی قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ قَدْ تَوَارَتْ فِی آجَامِ الْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٢٩٤) حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو دیکھا ایک جنازہ میں آپ نے چارپائی اپنے دونوں کندھوں کے درمیان مونڈے پر رکھی ہوئی تھی۔
(۱۱۲۹۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ فِی جِنَازَۃٍ وَاضِعًا السَّرِیرَ عَلَی کَاہِلِہٖ بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٢٩٥) حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں ہمیں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو والدہ کی جنازہ کی چارپائی کے دونوں ٹانگوں کے درمیان دیکھا یہاں تک کہ ان کو لے کر گھر سے نکلے، اور حمزہ اور عبید اللہ میں سے ایک نے چارپائی کی داہنی جانب (ہاتھ) اور دوسرے نے بائیں جانب پکڑ رکھی تھی۔
(۱۱۲۹۵) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ أُمِّہِ حَتَّی خَرَجَ بِہَا مِنَ الدَّارِ وَحَمْزَۃُ ، وَعُبَیْدُ اللہِ أَحَدُہُمَا أَخَذَ بِعِضَادَاۃ السَّرِیرِ الْیُمْنَی وَالآخَرُ بِالْیُسْرَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٢٩٦) حضرت معروف فرماتے ہیں کہ میں نے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کو حارث کے بیٹے کی میت کی چارپائی کو دونوں بازوؤں کے درمیان دیکھا۔
(۱۱۲۹۶) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ مَعْرُوفٍ مَوْلًی لِقُرَیْشٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبٍ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ ابْنِہِ الْحَارِثِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٢٩٧) حضرت سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو حضرت عبداللہ بن عوف کی چارپائی کے پائے کے پاس دیکھا آپ فرما رہے تھے، ہائے سردار اور عالم۔
(۱۱۲۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ وَغُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدًا عِنْدَ قَائِمَۃِ سَرِیرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ یَقُولُ : وَاجَبَلاَہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٢٩٨) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ کو حضرت ابو میسرہ کے جنازے میں دیکھا آپ نے چارپائی کے پائے کو پکڑ رکھا تھا اور فرما رہے تھے، اے ابو میسرہ اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے۔
(۱۱۲۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ أبی إِسْحَاقَ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا جُحَیْفَۃَ فِی جِنَازَۃِ أَبِی مَیْسَرَۃَ آخِذًا بِقَائِمَۃِ السَّرِیرِ ، وَجَعَلَ یَقُولُ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ یَا أَبَا مَیْسَرَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(٩٩ ١١٢) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی چارپائی کے دونوں پاؤں کے درمیان کھڑا ہوا اس کو اٹھائے۔
(۱۱۲۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ قَائِمَۃِ السَّرِیرِ رَجُلاً یَحْمِلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٣٠٠) حضرت فرات بن سلیمان فرماتے ہیں کہ دار بنو الخمار سے ایک جنازہ نکالا گیا، ان میں نوجوان تھا جس نے مونڈھے پر چارپائی رکھی ہوئی تھی، حضرت میمون نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو باہر نکال دیا۔
(۱۱۳۰۰) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ أُخْرِجَتْ جِنَازَۃٌ مِنْ دَارِ بَنِی ذِی الْخِمَارِ ، قَالَ : وَشَابٌّ مِنْہُمْ قد وَضَعَ السَّرِیرَ عَلَی کَاہِلِہِ فَأَخَذَ مَیْمُونٌ بِیَدِہِ فَأَخْرَجَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٣٠١) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ کو حضرت ابو میسرہ کے جنازے پر دیکھا چارپائی آپ کے کاندھے پر تھی اور فرما رہے تھے، اے اللہ ! ابو میسرہ کی مغفرت فرما۔
(۱۱۳۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا جُحَیْفَۃَ فِی جِنَازَۃِ أَبِی مَیْسَرَۃَ وَالسَّرِیرُ عَلَی عَاتِقِہِ وَہُوَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَبِی مَیْسَرَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
(١١٣٠٢) حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ چارپائی کے آگے یا پیچھے کھڑا ہوا جائے۔
(۱۱۳۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُومَ فِی مُقَدَّمِ السَّرِیرِ ، أَوْ مُؤَخَّرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص جنازے کے پیچھے یہ کہتا ہو چلے کہ اس کے لیے استغفار کرو اللہ تمہاری مغفرت کرے گا، اس کا کیا حکم ہے
(١١٣٠٣) حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے آدمی جنازے کے پیچھے یوں کہتا ہوا چلے کہ اس کے لیے استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔
(۱۱۳۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَتْبَعَ الرَّجُلُ الْجِنَازَۃَ یَقُولُ اسْتَغْفِرُوا لَہُ غَفَرَ اللَّہُ لَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص جنازے کے پیچھے یہ کہتا ہو چلے کہ اس کے لیے استغفار کرو اللہ تمہاری مغفرت کرے گا، اس کا کیا حکم ہے
(١١٣٠٤) حضرت بکیر بن عتیق فرماتے ہیں کہ میں جنازہ میں تھا جس میں حضرت سعید بن جبیر بھی تھے، ایک شخص نے کہا اس کیلئے اسغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا، حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کرے گا۔
(۱۱۳۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَتِیقٍ ، قَالَ : کُنْتُ فِی جِنَازَۃٍ فِیہَا سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : اسْتَغْفِرُوا لَہُ غَفَرَ اللَّہُ لَکُمْ ، قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ لاَ غَفَرَ اللَّہُ لَک۔
tahqiq

তাহকীক: