মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১৩২৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ کے اعلان کرنے کو مکروہ کہا گیا ہے
(١١٣٢٥) حضرت عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر جب کوئی شخص فوت ہوتا تو لوگوں کی غفلت کا انتظار فرماتے۔
(۱۱۳۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عن أبیہ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا مَاتَ لَہُ مَیِّتٌ تحَیَّنَ غَفَلَۃَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ کے اعلان کرنے کو مکروہ کہا گیا ہے
(١١٣٢٦) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو اطلاع مت دینا۔
(۱۱۳۲۶) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : إذَا أَنَا مِتّ فَلاَ تُؤْذِنُوا بِی أَحَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ کے اعلان کرنے کو مکروہ کہا گیا ہے
(١١٣٢٧) حضرت مطرف فرماتے یہں کہ میرے جنازے کی کسی کو اطلاع مت دینا۔
(۱۱۳۲۷) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ أَخِیہِ ، أَنَّہُ قَالَ : لاَ تُؤْذِنُوا لِجِنَازَتِی أَحَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ کے اعلان کرنے کو مکروہ کہا گیا ہے
(١١٣٢٨) حضرت ابو جمرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے جنازے کی اطلاع میری مسجد والوں کو مت دینا۔
(۱۱۳۲۸) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لاَ تُؤْذِنُوا بِجِنَازَتِی أَہْلَ مَسْجِدِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٢٩) حضرت خارجہ بن زید انپے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید سے بڑے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا : تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی ؟ لوگوں نے عرض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا ناپسند سمجھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرو مگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھنا اس کے لیے رحمت کا باعث ہے۔
(۱۱۳۲۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانَ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَکَانَ أَکْبَرَ مِنْ زَیْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیعَ إذَا ہُوَ بِقَبْرٍ جَدِیدٍ ، فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا : فُلاَنَۃُ فَعَرَفَہَا ، قَالَ : فَقَالَ : أَفَلاَ آذَنْتُمُونِی بِہَا ؟ قَالُوا : کُنْت قَائِلاً فَکَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِنَک ، فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوا ، لاَ أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْکُمْ مَیِّتٌ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِی بِہِ فَإِنَّ صَلاَتِی عَلَیْہِ لَہُ رَحْمَۃٌ۔

(بخاری ۴۲۔ احمد ۴/۳۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں حضرت محمد اس بات مںْ کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ آدمی جنازے کی اطلاع رشتہ داروں اور دوستوں کو کر دے۔
(۱۱۳۳۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُؤْذِنَ الرَّجُلُ حَمِیمَہُ وَصَدِیقَہُ بِالْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٣١) حضرت عبداللہ بن عروہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ کو ایک جنازے پر بلایا گیا تو وہ مسجد سے گذرے اور یوں فرما رہے تھے کہ اللہ کا بندہ بلایا گیا ہے پس اس نے قبول کیا، یا اللہ کی لونڈی بلائی گئی پس اس نے قبول کیا، پس ان کے ساتھ ان میں سے چند لوگ ہی کھڑے ہوتے۔
(۱۱۳۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُرْوَۃَ ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یُؤْذِنُ بِالْجِنَازَۃِ فَیَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَیَقُولُ عَبْدُ اللہِ دُعِیَ فَأَجَابَ ، أَوْ أَمَۃُ اللہِ دُعِیَتْ فَأَجَابَتْ ، فَلاَ یَقُومُ مَعَہَا إِلاَّ الْقَلِیلُ مِنْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٢) حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون حضرت ربیع بن خیثم کے دوست تھے، جب حضرت ربیع بن خیثم پر زندگی دشوار ہوگئی تو حضرت عمرو بن میمون نے ان کے ام ولد سے کہا جب وہ فوت ہوجائیں تو مجھے اطلاع دینا۔ انھوں نے عرض کیا کہ حضرت ربیع نے کہا ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو خبر مت دینا اور مجھے خفیہ طور پر دفن کردینا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے بنی ثور کے چبوترے پر رات گذاری یہاں تک کہ صبح ہوگی پھر وہ اس کے پاس حاضر ہوئے۔
(۱۱۳۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ صِدِّیقًا لِلرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، فَلَمَّا ثَقُلَ ، قَالَ عَمْرٌو لأُمِّ وَلَدِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ أَعْلِمِینِی إذَا مَاتَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہُ قَالَ : إذَا أَنَا مِتُّ فَلاَ تُشْعِرِی بِی أَحَدًا ، وَسُلُّونِی إلَی رَبِّی سَلاً ، قَالَ فَبَاتَ عَمْرٌو عَلَی دَکَاکِینِ بَنِی ثَوْرٍ حَتَّی أَصْبَحَ فَشَہِدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٣) حضرت حماد سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ مرنے کے بعد میت کے دوست کو اطلاع کی جائے۔ وہ فرماتے تھے کہ صحابہ کرام جاہلیت کی طرح اطلاع دینے کو ناپسند سمجھتے تھے کہ فلاں کو خبر دی جائے۔
(۱۱۳۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُؤْذِنَ بِالْمَیِّتِ صَدِیقَہُ ، وَقَالَ : إنَّمَا کَانُوا یَکْرَہُونَ نَعْیًا کَنَعْیِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، أَنْعِی فُلاَنًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١٣١٣٤) حضرت نعمان سے مروی ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کسی جنازے پر بلایا جاتا تو آپ فرماتے بیشک ہم کھڑے ہونے والے ہیں اور آدمی پر نماز نہیں پڑھی جاتی مگر اس کے عمل (کیوجہ سے) ۔
(۱۱۳۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا دُعِیَ إلَی جِنَازَۃٍ ، قَالَ : إنَّا لَقَائِمُونَ وَمَا یُصَلِّی عَلَی الْمَرْئِ إِلاَّ عَمَلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٥) حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انھوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند سے جگایا جائے، انھوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔
(۱۱۳۳۵) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الْحِمْیَرِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُودُ فُقَرَائَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ وَیَشْہَدُ جَنَائِزَہُمْ إذَا مَاتُوا ، قَالَ : فَتُوُفِّـیَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعَوَالِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِی بِہَا ، قَالَ فَأَتَوْہُ لِیُؤْذِنُوہُ فَوَجَدُوہُ نَائِمًا وَقَدْ ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ فَکَرِہُوا أَنْ یُوقِظُوہُ وَتَخَوَّفُوا عَلَیْہِ ظُلْمَۃَ اللَّیْلِ وَہَوَامَّ الأَرْضِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْہَا فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ أَتَیْنَاک لِنُؤْذِنَک بِہَا فَوَجَدْنَاک نَائِمًا فَکَرِہْنَا أَنْ نُوقِظَک وَتَخَوَّفْنَا عَلَیْک ظُلْمَۃَ اللَّیْلِ وَہَوَامَّ الأَرْضِ ، قَالَ : فَدَفَنَّاہَا ، قَالَ : فَمَشَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی قَبْرِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔ (حاکم ۴۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٦) حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔
(۱۱۳۳۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔ (ابوداؤد ۳۱۷۱۔ ترمذی ۱۰۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٧) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
(۱۱۳۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابن عُمَرَ یَمْشِی أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٨) حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت حسن کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
(۱۱۳۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی حَازِم ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٣٩) حضرت صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ، حضرت ابو قتادہ، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو اسید کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
(۱۱۳۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَأَبَا قَتَادَۃَ ، وَابْنَ عُمَرَ وَأَبَا أُسَیْدَ یَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٤٠) حضرت ابو صالح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جنازے کے آگے چلتے، پھر جب وہ چلتے چلتے بہت آگے (دور) نکل جاتے تو وہاں پر کھڑے ہو کر جنازے کا (آنے کا) انتظار فرماتے۔
(۱۱۳۴۰) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ ، عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ حَتَّی إذَا تَبَاعَدُوا عَنْہَا قَامُوا یَنْتَظِرُونَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৪০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٤١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ اور حضرت اسود کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
(۱۱۳۴۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلْقَمَۃَ وَالأَسود یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৪১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٤٢) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
(۱۱۳۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمًا وَالْقَاسِمَ یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৪২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٤٣) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد سے جنازے کے آگے چلنے سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا میں تو اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتا اور حضرت قاسم اور حضرت سالم اس طرح کرتے تھے۔
(۱۱۳۴۳) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ الْمَشْیِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ ، فَقَالَ : لاَ أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا ، قَالَ : وَکَانَ الْقَاسِمُ وَسَالِمٌ یَفْعَلاَنِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৪৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٤٤) حضرت انس ارشاد فرماتے ہیں : تم لوگ اس کے مدد گار ہو، اس کے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں چلا کرو۔
(۱۱۳۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ فِی الْجِنَازَۃِ أَنْتُمْ مُشَیِّعُونَ لَہَا تَمْشُونَ أَمَامَہَا وَخَلْفَہَا، وَعَنْ یَمِینِہَا وَعَنْ شِمَالِہَا۔
tahqiq

তাহকীক: