মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৩৬৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے سوار ہو کر چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٦٥) حضرت خالد بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ جنازے کے آگے سوار (چلتے ہوئے) دیکھا۔
(۱۱۳۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : قَالَ : رَأَیْتُ عَطَائً یَسِیرُ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ رَاکِبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے سوار ہو کر چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٦٦) حضرت ابن ابو عروبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو جنازے کے آگے سوار دیکھا۔
(۱۱۳۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ الْحَسَنَ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ رَاکِبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے سوار ہو کر چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٦٧) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو میسرہ کے جنازے میں حضرت شریح کو سوار دیکھا۔
(۱۱۳۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: رَأَیْتُ شُرَیْحًا رَاکِبًا فِی جِنَازَۃِ أَبِی مَیْسَرَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے کے آگے سوار ہو کر چلنے کی اجازت دی ہے
(١١٣٦٨) حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا جہاں مرضی چلے، اور چھوٹے بچے پر نماز پڑھی جائے گی۔
(۱۱۳۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِید بن عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِی ، عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرَّاکِبُ خَلْفَ الْجِنَازَۃِ ، وَالْمَاشِی حَیْثُ شَائَ مِنْہَا وَالطِّفْلُ یُصَلَّی عَلَیْہِ۔ (احمد ۴/۲۴۸۔ ابوداؤد ۳۱۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٦٩) حضرت ابو ھبیرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے ایک جنازہ میں سواری لائی گئی لیکن آپ اس پر سوار نہ ہوئے، پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے تو اس پر سوار ہوئے۔
(۱۱۳۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی ہَمَّامٍ السَّکُونِیِّ وَہُوَ الْوَلِیدُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی ہبیرۃ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ وَہُوَ فِی جِنَازَۃٍ فَلَمْ یَرْکَبْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَکِبَ۔ (ابوداؤد ۳۱۶۹۔ حاکم ۳۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے دریافت کیا، کیا جنازے کے پیچھے چلنا مکروہ ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کے آگے چلنا ناپسندیدہ ہے۔
(۱۱۳۷۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلْقَمَۃَ أَیُکْرَہُ الْمَشْیُ خَلْفَ الْجِنَازَۃِ ؟ قَالَ : لاَ إنَّمَا یُکْرَہُ السَّیْرُ أَمَامَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧١) حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں جنازے میں جو لوگ سوار ہو کر جاتے ہیں اگر وہ یہ جان لیں کہ پید ل چلنے والوں کے لیے کتنا اجر ہے تو وہ سوار نہ ہوں۔
(۱۱۳۷۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَوَّادٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرَقْمَ ، قَالَ : لَوْ یَعْلَمُ رِجَالٌ یَرْکَبُونَ فِی الْجِنَازَۃِ مَا لِرِجَالٍ یَمْشُونَ مَا رَکِبُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٢) حضرت راشد بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ثوبان نے ایک شخص کو جنازے میں سوار دیکھا تو اس کی سواری کی لگام پکڑ کر اس کو روک دیا اور فرمایا تو سوار ہو کر چلتا ہے جبکہ اللہ کے بندے پیدل چل رہے ہیں۔
(۱۱۳۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً رَاکِبًا فِی جِنَازَۃٍ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِہِ فَجَعَلَ یَکْبَحُہَا ، وَقَالَ : تَرْکَبُ وَعِبَادُ اللہِ یَمْشُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں صحابہ کرام اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ سوار ہو کر جنازے کے آگے چلا جائے۔
(۱۱۳۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَسِیرَ الرَّاکِبُ أَمَامَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنازے میں سوار ہو کر جانے والا ایسا ہی ہے جیسے گھر میں بیٹھنے والا۔
(۱۱۳۷۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الرَّاکِبُ فِی الْجِنَازَۃِ کَالْجَالِسِ فِی بَیْتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٥) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور ابن سیرین جنازہ کے آگے نہ چلا کرتے تھے۔
(۱۱۳۷۵) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ ، وَابْنُ سِیرِینَ لاَ یَسِیرَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اس کے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
(١١٣٧٦) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں جنازے میں سوار ہو کر جانے والا ایسا ہی ہے جیسے گھر میں بیٹھنے والا۔
(۱۱۳۷۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الرَّاکِبُ فِی الْجِنَازَۃِ کَالْجَالِسِ فِی بَیْتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے میں جلدی چلنے کو ناپسند کہا گیا ہے
(١١٣٧٧) حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا وہ اس کو اس طرح ہلا رہے تھے جس طرح مشک کو ہلایا جاتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم پر جنازے میں میانہ روی لازم ہے۔
(۱۱۳۷۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیث ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَۃٍ وَہِیَ تُمْحَضُ کَمَا یُمَخَضُ الزَّقَّ ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ فِی جَنَائِزِکُمْ۔
(احمد ۴/۴۰۶۔ ابن ماجہ ۱۴۷۹)
(احمد ۴/۴۰۶۔ ابن ماجہ ۱۴۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٧٨) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنازے کو جلدی لے کر جاؤ (قبرستان کی طرف) کیونکہ اگر تو وہ نیک ہے تو جس کی طرف اس کو لے کر جا رہے ہو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو تم شر کو اپنی گردنوں سے (جلدی) اتار دو ۔
(۱۱۳۷۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَۃِ ، فَإِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُونَہَا إلَیْہِ وَإِنْ تَکُ غَیْرَ ذَلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَہُ عَنْ رِقَابِکُمْ۔ (بخاری ۱۳۱۵۔ مسلم ۶۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٧٩) حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہم جنازے کو تیزی سے لے کر چلا کرتے تھے۔
(۱۱۳۷۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکَادُ أَنْ یَرْمُلَ بِالْجِنَازَۃِ رَمَلاً۔ (ابوداؤد ۳۱۷۵۔ احمد ۵/۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٨٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین نے وصیت فرمائی جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کو تیز لے کر جانا، اور آہستہ مت چلنا جیسے یہود و نصاریٰ چلا کرتے ہیں۔
(۱۱۳۸۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَوْصَی عِمْرَانُ بْنُ حصَیْنٍ ، قَالَ: إذَا أَنَا مِتّ فَأَسْرِعُوا ، وَلاَ تُہَوِّدُوا کَمَا یُہَوِّدُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٨١) حضرت یحییٰ بن ابو راشد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کا وقت المرگ قریب آیا تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : جب تم میرے جنازے کو لے کر نکلنا تو مجھے تیز اور جلدی لے کر جانا۔
(۱۱۳۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی رَاشِدٍ النَّصْرِیُّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ حِینَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ لاِبْنِہِ إذَا خَرَجْتُمْ فَأَسْرِعُوا بِی الْمَشْیَ۔ (ابن سعد ۳۵۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٨٢) حضرت ابوہریرہ ارشاد فرماتے ہیں مجھے میرے رب کے پاس جلدی لے کر جاؤ۔
(۱۱۳۸۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: أَسْرِعُوا بِی إلَی رَبِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٨٣) حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں جب جنازے میں چلتے ہوئے کسی کا تسمہ ٹوٹ جاتا تو اس کیلئے جنازے کے ساتھ چلنا مشکل ہوجاتا۔
(۱۱۳۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ زَیدٍ العَمِّی ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِی ، قَالَ : إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَنْقَطِعُ شِسْعُہُ فِی الْجِنَازَۃِ فَمَا یُدْرِکُہَا ، أَوْ مَا یَکَادُ أَنْ یُدْرِکَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں ؟
(١١٣٨٤) حضرت علقمہ فرماتے ہیں جب میں مر جاؤں تو مجھے جلدی جلدی اور تیز لے کر چلنا۔
(۱۱۳۸۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، عن علقمۃ قَالَ: إذَا أَنَا مِتُّ فَأَسْرِعُوا بِی الْمَشْیَ۔
তাহকীক: