মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৮৮৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے قبر پر کھڑے ہونے کو ناپسند فرمایا ہے
(١١٨٨٥) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے جنازہ رکھے جانے سے قبل اس کے لیے کھڑے رہنے کے متعلق دریافت کیا تو گویا کہ ان کو اس کے بارے میں علم ہی نہ تھا۔ (وہ اس کو جانتے ہی نہ تھے) ۔ پھر میں نے حضرت مجاہد سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا : یہ تب ہے جب اس پر نماز پڑھی گئی ہو تو دفنانے سے پہلے نہ بیٹھا جائے۔
(۱۱۸۸۵) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : ذُکِرَ لِلشَّعْبِیِّ الْقِیَامُ لِلْجِنَازَۃِ حَتَّی تُوضَعَ فَکَأَنَّہُ لَمْ یَعْرِفْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَذَکَرْت ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ ، قَالَ : إنَّمَا ذَلِکَ إذَا صُلِّیَ عَلَیْہَا لاَ یَجْلِسُ حَتَّی تُوضَعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٨٦) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبر پکی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور اس بات سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت بنائی جائے۔
(۱۱۸۸۶) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ یُقْعَدَ عَلَیْہِ وَأَنْ یُبْنَی عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٨٧) حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم فرماتی ہیں کہ حضرت زید کے بیٹے حضرت سوید کا انتقال ہوا تو ان کے لیے ایک غلام یا باندی نے چونا اور اینٹیں (پکی) خریدیں۔ حضرت زید نے فرمایا ان چیزوں سے کیا کرنے کا ارادہ ہے ؟ انھوں نے کہا قبر پر عمارت بنانے اور اس کو پکی کرنے کا ارادہ ہے، آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو، ہر وہ چیز جس کو آگ نے چھوا ہے اس کو اس میت کے قریب مت لاؤ۔
(۱۱۸۸۷) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِی حَمَادَۃُ ، عَنْ أُنَیْسَۃَ بِنْتِ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ : مَاتَ ابْنٌ لِزَیْدٍ یُقَالُ لَہُ سُوَیْد ، فَاشْتَرَی غُلاَمٌ لَہُ ، أَوْ جَارِیَۃٌ جِصًّا وَآجُرًّا ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : مَا تُرِیدُ إلَی ہَذَا ، قَالَ : أَرَدْت أَنْ أَبْنِیَ قَبْرَہُ وَأُجَصِّصَہُ ، قَالَ : حَقِرْت ونَقِرْت لاَ تُقَرِّبْہُ شَیْئًا مَسَّتْہُ النَّارُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٨٨) حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ سے قبروں کو پکی کرنے کی ممانعت سنی ہے وہ فرماتے ہیں قبریں پکی مت کرو۔
(۱۱۸۸۸) حدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عیسی بنِ أَبِی عَزَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُہ ینہَی عَنْ تَجْصِیصِ الْقَبْرِ ، قَالَ : لاَ تُجَصِّصُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٨٩) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے کوئی شخص تکلیف نہ پہنچائے، میرے قریب چونے، پکی اینٹ اور لکڑی نہ لائے، اور میرے ساتھ عورت نہ جائے، (جنازے میں) ۔
(۱۱۸۸۹) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّد ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : إذَا أَنَا مِتُّ فَلاَ تُؤْذِنُوا بِی أَحَدًا ، وَلاَ تُقَرِّبُونِی جِصًّا ، وَلاَ آجُرًّا ، وَلاَ عُودًا ، وَلاَ تَصْحَبُنِی امْرَأَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٩٠) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم پکی اینٹوں کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۸۹۰) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الآجُرَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٩١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام ) اپنی قبروں میں پکی اینٹ کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۸۹۱) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ الآجُرَّ فِی قُبُورِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پکی کرنا
(١١٨٩٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام ) کچی اینٹ کو پسند فرماتے تھے اور پکی اینٹوں کو ناپسند کرتے تھے، اور بانس کو پسند کرتے اور دوسری لکڑی کو ناپسند کرتے تھے۔
(۱۱۸۹۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ اللَّبِنَ وَیَکْرَہُونَ الآجُرَّ وَیَسْتَحِبُّونَ الْقَصَبَ وَیَکْرَہُونَ الْخَشَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٣) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ کے ساتھ جبانہ میں چل رہا تھا، آپ نے فرمایا : میں انگاروں پر چلوں جس سے وہ بجھ جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں قبروں کو روندوں۔
(۱۱۸۹۳) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللہِ فِی الْجَبَّانَۃِ ، فَقَالَ : لأَنْ أَطَأَ عَلَی جَمْرَۃٍ حَتَّی تُطْفَأَ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَی قَبْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٤) حضرت ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ انگاروں پر چل چل کر ان کو بجھا دیا جائے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ قبر کو پاؤں سے روندا جاؤں۔
(۱۱۸۹۴) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : لأَنْ أَطَأَ عَلَی جَمْرَۃٍ حَتَّی تُطْفَأَ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَی قَبْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٥) حضرت سالم ابی عبداللہ البراد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے سنا آپ فرماتے ہیں میں انگاروں پر چلوں جس سے وہ بجھ جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر کو روندوں۔
(۱۱۸۹۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمِ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْبَرَّادُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ لأَنْ أَطَأَ عَلَی جَمْرَۃٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَی قَبْر رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٦) حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں آگ کے انگاروں پر یا تلوار کی دھار پر چلوں یہاں تک کہ میرے پاؤں جھلس جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ میرے نزدیک قبرستان میں رفع حاجت کرنا اور بازار میں لوگوں کے درمیان جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوں برابر ہے۔
(۱۱۸۹۶) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ : لأَنْ أَطَأَ عَلَی جَمْرَۃٍ ، أَوْ عَلَی حَدِّ سَیْفٍ حَتَّی تُخْتَطَفَ رِجْلَیَّ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَمْشِیَ عَلَی قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَمَا أُبَالِی أَفِی الْقُبُورِ قَضَیْت حَاجَتِی أَمْ فِی السُّوقِ بَیْنَ ظَہْرَانِیہِ وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٧) حضرت حسن اور حضرت محمد قبروں پر بیٹھنے اور ان کے اوپر سے چلنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۸۹۷) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ أَنَّہُمَا کَانَ یَکْرَہَانِ الْقُعُودَ عَلَیْہَا وَالْمَشْیَ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٨٩٨) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت العلاء بن الشخیر نے فرمایا : فلاں تم اپنی قبروں کے اوپر سے گزرتے (چلتے) ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا : پھر تم پر بارش کس طرح برسائی جاتی ہے۔
(۱۱۸۹۸) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : فُلاَن ، تَمْشُونَ عَلَی قُبُورِکُمْ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : کَیْفَ تُمْطَرُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(٩٩ ١١٨) حضرت محمد بن ابی یحییٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے پیچھے ایک جنازے کے ساتھ جا رہا تھا، آپ قبروں سے دور تھے، (تاکہ کسی قبر پر پاؤں وغیرہ نہ آجائے) اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھے جس سے اس کے کپڑے، قمیص پھر شلوار جل جائے یہاں تک کہ آگ بدن تک پہنچ جائے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ کوئی شخص قبر پر بیٹھے۔
(۱۱۸۹۹) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ أَتْبَعُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فِی الْجَنَائِزِ ، فَکَانَ یَتقَصَّی الْقُبُورَ ، قَالَ : لأَنْ یَجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلَی جَمْرَۃٍ فَتُحْرِقَ ثِیَابَہُ ، ثُمَّ قَمِیصَہُ ، ثُمَّ إزَارَہُ حَتَّی تَخْلُصَ إلَی جِلْدِہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ یَجْلِسَ عَلَی قَبْرٍ۔ (مسلم ۹۶۔ ابوداؤد ۳۲۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٩٠٠) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول قبروں پر بیٹھنے اور ان کے اوپر سے گذرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۱۱۹۰۰) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْقُعُودَ عَلَی الْقُبُورِ أَوْ یُمْشی عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو پاؤں سے روندنے کو ناپسند سمجھا گیا ہے
(١١٩٠١) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
(۱۱۹۰۱) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُقْعَدَ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قبروں کے درمیان پیشاب یا قضائے حاجت کرے اس کا بیان
(١١٩٠٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مقبروں کے درمیان قضائے حاجت یا پیشاب مت کرو۔
(۱۱۹۰۲) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ یُحْدَثُ وَسَطَ مَقْبَرَۃٍ ، وَلاَ یَبُولُ فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قبروں کے درمیان پیشاب یا قضائے حاجت کرے اس کا بیان
(١١٩٠٣) حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میں قبروں کے درمیان قضائے حاجت کروں یا بازار میں اور لوگ مجھے دیکھ رہے ہوں۔
(۱۱۹۰۳) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ : مَا أُبَالِی فِی الْقُبُورِ قَضَیْت حَاجَتِی ، أَوْ فِی السُّوقِ وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٤) حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کسی قبرستان میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ اس جگہ کے مومنوں اور مسلمانوں تم پر سلامتی ہو، تم پہلے چلے گئے ہم تمہارے بعد آئیں گے اور تم سے مل جائیں گے۔ ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
(۱۱۹۰۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ ، قَالَ : السَّلاَمُ عَلَی مَنْ فِی ہَذِہِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ ، وَإِنَّا بِکُمْ لَلاَحِقُونَ ، فَإِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ۔
তাহকীক: