মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৯০৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٥) حضرت جندب الازدی فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ حیرہ کی طرف گیا جب ہم قبرستان پہنچے تو آپ اپنی داہنی جانب متوجہ ہوئے اور دعا پڑھی : اس جگہ کے مومن مردوں اور عورتوں ! تم پر سلامتی ہو، تم پہلے چلے گئے ہم بعد میں آئیں گے اور تمہارے نشان قدم پر چلتے ہوئے آئیں گے۔
(۱۱۹۰۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الأَزْدِیِّ ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ سَلْمَانَ إلَی الحیرۃ حَتَّی إذَا انْتَہَیْنَا إلَی الْقُبُورِ الْتَفَتَ عَنْ یَمِینِہِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ ، وَإِنَّا عَلَی آثَارِکُمْ وَارِدُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام ) قبروں کو سلام کیا کرتے تھے۔
(۱۱۹۰۶) حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ خَیْثَمَۃَ وَالْمُسَیَّبِ ، وَعَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُمْ کَانُوا یُسَلِّمُونَ عَلَی الْقُبُورِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٧) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص قبر پر آئے اور اس کو سلام کرے۔
(۱۱۹۰۷) حدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لاَ أَعْلَمُ بَأْسًا أَنْ یَأْتِیَ الرَّجُلُ الْقَبْرَ فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٨) حضرت موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلام بن عبداللہ کو دیکھا دن ہو یا رات وہ جس قبر کے پاس سے بھی گزرتے تو اس کو سلام کرتے، اور ہم آپ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ فرماتے السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ میں نے آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ تو مجھے اس کے بارے میں بتلایا کہ ان کے والد صاحب اس طرح کرتے تھے۔
(۱۱۹۰۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، أَنَّہُ رَأَی سَالِمَ بْنِ عَبْدِ اللہِ لاَ یَمُرُّ بِلَیْلٍ ، وَلاَ نَہَارٍ بِقَبْرٍ إِلاَّ سَلَّمَ عَلَیْہِ وَنَحْنُ مُسَافِرُونَ مَعَہُ یَقُولُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَقُلْت لَہُ فِی ذَلِکَ فَأَخْبَرَنِیہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ کَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩٠٩) حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو تعلیم دی تھی کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یوں کہیں : اس جگہ کے مومن اور مسلم لوگو ! تم پر سلامتی ہو، اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے ساتھ آ ملنے والے ہیں، تم پہلے گئے ہم بعد میں آئیں گے، ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
(۱۱۹۰۹) حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُہُمْ إذَا خَرَجُوا إلَی الْمَقَابِرِ ، فَکَانَ قَائِلُہُمْ یَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّہُ بِکُمْ لَلاَحِقُونَ ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ ، وَنَسْأَلُ اللَّہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (ابوداؤد ۳۲۳۰۔ احمد ۳۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩١٠) حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ ضیعہ (گاؤں) سے واپس آئے تو شھداء کی قبروں کے پاس سے گزرے تو کہنے لگے۔ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَإِنَّا بِکُمْ لَلاَحِقُونَ پھر اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم نے شہداء کو سلام کیوں نہ کیا تاکہ وہ تمہیں جواب دیتے ؟۔
(۱۱۹۱۰) حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ قُرَّۃَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أبِیہِ ، أَنَّہُ کَانَ یَرْجِعُ مِنْ ضَیْعَتِہِ فَیَمُرُّ بِقُبُورِ الشُّہَدَائِ فَیَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَإِنَّا بِکُمْ لَلاَحِقُونَ ، ثُمَّ یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : أَلاَ تُسَلِّمُونَ عَلَی الشُّہَدَائِ فَیَرُدُّونَ عَلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩١١) حضرت عبداللہ بن سعد الجاری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : اے عبداللہ ! جب تم کسی ایسی قبر کے پاس سے گزرو جس کو تم جانتے ہو تو یوں کہو : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَصْحَابَ الْقُبُورِ اور جب کسی ایسی قبر پر گزر ہو جس کو تم نہیں جانتے تو یوں کہو : السَّلاَمُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ ۔
(۱۱۹۱۱) حدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَسَنِ الْجَارِی ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ الْجَارِی ، قَالَ : قَالَ لِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَا عَبْدَ اللہِ إذَا مَرَرْت بِالْقُبُورِ قَدْ کُنْت تَعْرِفُہُمْ فَقُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَصْحَابَ الْقُبُورِ ، وَإِذَا مَرَرْت بِالْقُبُورِ لاَ تَعْرِفُہُمْ فَقُلْ : السَّلاَمُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
(١١٩١٢) حضرت ابو مویھبہ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ جنت البقیع جائیں اور مردوں پر نماز پڑھیں یا ان پر سلام پڑھیں۔
(۱۱۹۱۲) حدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ فَصِیل ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مُوَیْہِبَۃَ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُمِرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَخْرُجَ إلَی الْبَقِیعِ فَیُصَلِّیَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُسَلِّمَ عَلَیْہِمْ۔ (احمد ۳/۴۸۹۔ دارمی ۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات قبروستان والوں کو سلام کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(١١٩١٣) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے قبروں کو سلام کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : یہ ان کے (صحابہ کرام کے) طریقوں میں سے نہیں ہے۔
(۱۱۹۱۳) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ التَّسْلِیمِ عَلَی الْقُبُورِ ، فَقَالَ : مَا کَانَ مِنْ صَنِیعِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات قبروستان والوں کو سلام کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(١١٩١٤) حضرت خالد بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام سے سوال کیا گیا کیا حضرت عروہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر آ کر سلام عرض کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
(۱۱۹۱۴) حدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : سُئِلَ ہِشَامُ أَکَانَ عُرْوَۃُ یَأْتِی قَبْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ ؟ قَالَ : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روضہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حاضر ہو وہ سلام پڑھے
(١١٩١٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر جب مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہونے لگتے تو نماز ادا کرتے پھر روضہ رسول پر آتے اور یوں سلام پیش فرماتے : السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَبَا بَکْرٍ السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَبَتَاہُ پھر دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہوجاتے، اسی طرح جب آپ سفر سے تشریف لاتے تو گھر داخل ہونے سے پہلے یہ کام کرتے۔
(۱۱۹۱۵) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَتَی قَبْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَبَا بَکْرٍ السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَبَتَاہُ ، ثُمَّ یکون وَجْہَہُ وَکَانَ إذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَی المسجد فَفَعَلَ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ مَنْزِلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩١٦) حضرت ثمامہ بن شفی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ کے دور میں غزوہ (جنگ) کے لیے اس شہر سے نکلے، ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید بھی تھے، آپ کے چچا کے لڑکے حضرت نافع انتقال کر گئے، حضرت فضالہ ہمارے ساتھ آپ کی قبر پر کھڑے ہوئے، جب ہم نے اس کو دفن کردیا، تو آپ نے فرمایا اس کی قبر ہلکی اور برابر کرو، بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا ہے۔
(۱۱۹۱۶) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا غُزَاۃً فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ إلَی ہَذَا الدَّرْبِ وَعَلَیْنَا فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ فَتُوُفِّیَ ابْنُ عَمٍّ لِی یُقَالُ لَہُ نَافِعٌ فَقَامَ مَعَنَا فَضَالَۃُ عَلَی حُفْرَتِہِ ، فَلَمَّا دَفَنَّاہُ ، قَالَ : خَفِّفُوا عَنْ حُفْرَتِہِ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُ بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُورِ۔
(احمد ۶/۱۸۔ بیہقی ۴۱۱)
(احمد ۶/۱۸۔ بیہقی ۴۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩١٧) حضرت عبداللہ بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نکلے اور قبروں کو برابر کرنے کا حکم فرمایا : ہم نے تمام قبریں برابر کردیں سوائے ام عمرو بنت عثمان کی قبر کے، آپ نے پوچھا یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ام عمرو کی قبر ہے، آپ نے اس کو بھی برابر کرنے کا حکم فرمایا چنانچہ وہ بھی برابر کردی گئی۔
(۱۱۹۱۷) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، أَنَّ عُثْمَانَ خَرَجَ فَأَمَرَ بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُورِ فَسُوِّیَتْ إِلاَّ قَبْرَ أُمِّ عَمْرٍو ، ابْنَۃ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا الْقَبْرُ فَقَالُوا : قَبْرُ أُمِّ عَمْرٍو فَأَمَرَ بِہِ فَسُوِّیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩١٨) حضرت حنش الکنانی فرماتے ہیں کہ سپاہی والا حضرت علی کے پاس آیا، آپ کو اس نے فرمایا، چلتا جا، کوئی سامان نہ چھوڑنا مگر اٹھا لینا، اور کوئی قبر بغیر برابر کیے نہ چھوڑنا، آپ نے اس کو بلا کر پوچھا کہ تجھے معلوم ہے میں نے تجھے کس کام کیلئے بھیجا ہے ؟ اس کام کیلئے بھیجا ہے جس کام کیلئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھیجا تھا۔
(۱۱۹۱۸) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ حَنَشٍ الْکِنَانِیِّ، قَالَ: دَخَلَ عَلَی عَلِیٍّ صَاحِبَ شُرَطِہِ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ فَلاَ تَدَعْ زُخْرُفًا إِلاَّ أَلْقَیْتَہُ ، وَلاَ قَبْرًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ ، ثُمَّ دَعَاہُ ، فَقَالَ : ہَلْ تَدْرِی إلَی أَیْنَ بَعَثْتُک بَعَثْتُک إلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابوداؤد ۳۲۱۰۔ احمد ۱/۱۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩١٩) حضرت ابن عباس کے غلام فرماتے ہیں مجھ سے حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا : جب تو کسی قوم کو دیکھے جس نے مردے کو دفن کر کے قبر ایسی بنائی ہو جو مسلمانوں کی قبروں کی طرح نہ ہو تو تم اس کو مسلمانوں کی قبروں کے برابر کردو۔
(۱۱۹۱۹) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ ، عَنْ مَوْلًی لاِبْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ إذَا رَأَیْت الْقَوْمَ قَدْ دَفَنُوا مَیِّتًا فَأَحْدَثُوا فِی قَبْرِہِ مَا لَیْسَ فِی قُبُورِ الْمُسْلِمِینَ فَسَوِّہِ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩٢٠) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ قبروں کر برابر کرنا سنت میں سے ہے۔
(۱۱۹۲۰) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : تَسْوِیَۃُ الْقُبُورِ مِنَ السُّنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩٢١) حضرت ابو مجلز سے اسی کے مثل منقول ہے۔
(۱۱۹۲۱) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے کا بیان
(١١٩٢٢) حضرت منصور بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام شعبی سے عرض کیا ایک شخص نے اپنی میت کو دفن کای اور اس کی قبر زمین کے برابر بنائی (کیا درست ہے ؟ ) آپ نے فرمایا میں نے شھدائے احد کی قبریں دیکھی ہیں وہ زمین سے بلند اوپر اٹھی ہوئی ہیں۔
(۱۱۹۲۲) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلشَّعْبِیِّ رَجُلٌ دَفَنَ مَیِّتًا فَسُوِّیَ قَبْرُہُ بِالأَرْضِ ، فَقَالَ : أَتَیْتُ عَلَی قُبُورِ شُہَدَائِ أُحُدٍ فَإِذَا ہِیَ مُشَخَّصَۃٌ مِنَ الأَرْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو گارے سے لیپنے کا بیان
(١١٩٢٣) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین سے قبر کو لیپنے کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۱۱۹۲۳) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ ہَلْ تُطَیَّنُ الْقُبُورُ ؟ فَقَالَ : لاَ أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو گارے سے لیپنے کا بیان
(١١٩٢٤) حضرت یونس فرماتے ہیں کہ حضرت حسن قبروں کے لیپنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۹۲۴) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ تَطْیِینَ الْقُبُورِ۔
তাহকীক: