মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৪০৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٦٩) حضرت ابو عبیدہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جو کسی کو پناہ دے اس کو پناہ حاصل ہوگی۔
(۳۴۰۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی مَالِکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : یُجِیرُ عَلَی النَّاسِ بَعْضُہُمْ۔

(ابویعلی ۸۷۳۔ بزار ۱۲۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٠) حضرت ابو امامہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۳۴۰۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی مَالِکٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ۔

(احمد ۱۹۵۔ طبرانی ۷۹۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧١) حضرت ابو مرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مکہ فتح فرمایا : تو حضرت ام ہانی (رض) فرماتی ہیں کہ میرے خاوند کے دو رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پنادہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی (رض) میرے پاس آئے اور فرمایا : میں ان کو ضرور قتل کروں گا، حضرت ام ھانی (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا اور میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : خوش آمدید ام ھانی (رض) ! خیریت سے تشریف لائی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ : اے اللہ کے نبی 5! میرے خاوند کے خاندان کے دو شخص بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پناہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی (رض) میرے پاس آئے اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا : نہیں (ان کو قتل نہیں کیا جائے گا) جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی اور جس کو تو نے امن دیا اس کو ہم نے بھی امن دیا۔
(۳۴۰۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدَ ، عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، عَنْ أُمِّ ہَانِئِ ابْنَۃِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَتْ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی فَأَجَرْتُہُمَا ، أَوْ کَلِمَۃً تُشْبِہُہَا ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، فَقَالَ : لأَقْتُلَنَّہُمَا ، قَالَتْ : فَأَغْلَقْتُ الْبَابَ عَلَیْہِمَا ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا ، وَأَہْلاً بِأُمِّ ہَانِئٍ ، مَا جَائَ بِکِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَزَعَمَ أَنَّہُ قَاتِلُہُمَا ، فَقَالَ : لاَ ، قَدْ أَجْرَنَا مَنْ أَجَرْتِ ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٢) حضرت ام ھانی (رض) سے اسی طرح مروی ہے اس کے آخر میں اضافہ ہے کہ پھر میں حضرت علی (رض) کے پاس آئی اور ان کو قتل کرنے سے منع کردیا۔
(۳۴۰۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابن إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدَ ، عَنْ أَبِی مُرَّۃَ ، عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِی ، قَالَتْ : فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی یَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأَجَرْتُہُمَا ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی ، فَقَالَ : لأَقْتُلَنَّہُمَا ، فَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا ، ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَرْحَبًا ، وَأَہْلاً بِأُمِّ ہَانِئٍ ، مَا جَائَ بِکِ ؟ فَأَخْبَرَتْہُ ، فَقَالَ : قَدْ أَجْرَنَا مَنْ أَجَرْتِ ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ ، قَالَتْ : فَجِئْتُ فَمَنَعْتُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٣) حضرت عائشہ (رض) ارشاد فرماتی ہیں ، کہ اگر خاتون کسی قوم کو پناہ دے تو ان کو پناہ حاصل ہوگی۔
(۳۴۰۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : إِنْ کَانَتِ الْمَرْأَۃُ لَتَأْخُذُ عَلَی الْقَوْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٤) حضرت عائشہ (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۳۴۰۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : إِنْ کَانَتِ الْمَرْأَۃُ لَتَأْخُذُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٥) حضرت فضیل بن زید الرقاشی (رض) جو حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں سات غزوات میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی اس لشکر میں شریک تھا ہم نے اھل سھر یاج کا محاصرہ کرلیا، جب ہم نے دیکھا کہ آج ان کو فتح کرلیں گے، ہم نے کہا : واپس لوٹتے ہیں اور کچھ آرام کر کے تازہ دم ہو کر آ کر اس کو فتح کرلیں گے، جب ہم لوگ وہاں سے واپس لوٹے تو مسلمانوں میں ایک غلام ان کے پیچھے آیا اور اس نے ان کے ساتھ عجمی میں گفتگو کی، اور ان کو ایک صحیفہ میں امان (پناہ) لکھ کر اس کو تیر کے ساتھ باندھ کر ان کی طرف پھینک دیا۔ ہم لوگ جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ قلعہ سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ لوگوں نے ہمیں امن دے دیا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز ایسا نہیں کیا ہے، بیشک تم لوگوں کو ایک غلام نے امن دیا ہے جو خود کسی چیز پر قادر نہیں ہے، تم لوگ واپس ہوجاؤ یہاں تک کہ ہم حضرت عمر (رض) کو لکھ کر ان کی رائے دریافت کرلیں، انھوں نے کیا کہ ہم تمہارے آزاد میں تمہارے غلاموں کو نہیں جانتے ہم واپس جانے والے نہیں ہیں، اب اگر تم چاہو تو ہمیں قتل کرو اور اگر چاہو تو در گزر کردو، فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر (رض) کو صورت حال لکھی، حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا : مسلمانوں کا غلام بھی مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے اس کے امان کو نافذ فرما دیا۔
(۳۴۰۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنُ سُلَیْمَان ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ زَیْدٍ الرَّقَاشِیِّ ، وَقَدْ کَانَ غَزَا عَلَی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ جَیْشًا فَکُنْتُ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ، فَحَاصَرْنَا أَہْلَ سِہْرِیَاجٍ ، فَلَمَّا رَأَیْنَا أَنَّا سَنَفْتَحُہَا مِنْ یَوْمِنَا ذَلِکَ ، قُلْنَا : نَرْجِعُ فَنُقِیلُ ، ثُمَّ نَرُوحُ فَنَفْتَحُہَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا تَخَلَّفَ عَبْدٌ مِنْ عَبِیدِ الْمُسْلِمِینَ ، فَرَاطَنَہُمْ فَرَاطَنُوہُ ، فَکَتَبَ لَہُمْ أَمَانًا فِی صَحِیفَۃٍ ، ثُمَّ شَدَّہُ فِی سَہْمٍ فَرَمَی بِہِ إِلَیْہِمْ فَخَرَجُوا۔

فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْعَشِیِّ وَجَدْنَاہُمْ قَدْ خَرَجُوا ، قُلْنَا لَہُمْ : مَا لَکُمْ ؟ قَالُوا : أَمَّنْتُمُونَا ، قُلْنَا : مَا فَعَلْنَا ، إِنَّمَا الَّذِی أَمَّنَکُمْ عَبْدٌ لاَ یَقْدِرُ عَلَی شَیْئٍ ، فَارْجِعُوا حَتَّی نَکْتُبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا : مَا نَعْرِفُ عَبْدَکُمْ مِنْ حُرِّکُمْ ، مَا نَحْنُ بِرَاجِعِینَ ، إِنْ شِئْتُمْ فَاقْتُلُونَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ ففُوا لَنَا ، قَالَ : فَکَتَبْنَا إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : إِنَّ عَبْدَ الْمُسْلِمِینَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، ذِمَّتُہُ ذِمَّتُہُمْ ، قَالَ : فَأَجَازَ عُمَرُ أَمَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٦) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ عورت اور غلام کا امان دینا ٹھیک اور جائز ہے۔
(۳۴۰۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَمَانُ الْمَرْأَۃِ وَالْمَمْلُوکِ جَائِزٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٧) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اگر مسلمانوں میں سے کوئی خاتون امان دے دے تو اس کا امان دینا درست ہے۔
(۳۴۰۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : إِنْ کَانَتِ الْمَرْأَۃُ لَتَأْخُذُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ ، فَیَجُوزُ أَمَانُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٨) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔
(۳۴۰۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ ، یَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ۔ (بخاری ۳۱۷۲۔ ۹۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٧٩) حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں سے جو کسی کو پناہ دے اس کو پناہ دی جائے گی۔
(۳۴۰۷۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ بَعْضُہُمْ ، أَوَ قَالَ : رَجُلٌ مِنْہُمْ۔ (طیالسی ۱۰۶۳۔ احمد ۱۹۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٨٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔
(۳۴۰۸۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ ، یَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ۔ (ابوداؤد ۵۰۷۳۔ احمد ۳۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون اور غلام کا امان دینا
(٣٤٠٨١) حضرت عمرو بن شعیب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے ادنیٰ بھی پناہ دے تو پناہ اس کو حاصل ہوگی۔
(۳۴۰۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَدْنَاہُمْ۔ (ابوداؤد ۲۷۴۵۔ احمد ۲۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٢) حضرت ابو عطیہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کوفہ والوں کو لکھا : بیشک مجھے بتایا گیا ہے کہ لفظ مطرس فارسی میں امان کو کہتے ہیں، اگر تم ایسے شخص کو جو تمہاری زبان نہیں سمجھتا مطرس کہہ دو تو امن شمار ہوگا۔
(۳۴۰۸۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حصین ، عن أَبِی عَطِیَّۃَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَہْلِ الْکُوفَۃِ : إِنَّہُ ذُکِرَ لِی أَنَّ (مطرس) بِلِسَانِ الْفَارِسِیَّۃِ : الأَمَنَۃُ ، فَإِنْ قُلْتُمُوہَا لِمَنْ لاَ یَفْقَہُ لِسَانَکُمْ فَہُوَ آمِنٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٣) حضرت ابو فرقد (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم نے سوق الاھواز کو فتح کیا تو میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ تھا، مشرکین میں سے ایک شخص بھاگا، مسلمانوں میں سے بھی دو اس کے پیچھے بھاگے، اس دوران کہ جب وہ بھاگ رہے تھے، ان میں سے ایک نے اس مشرک کو کہہ دیا، مترس (امان) وہ شخص یہ سن کر کھڑا ہوگیا، انھوں نے اس کو پکڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس اس حالت میں لے کر حاضر ہوئے کہ آپ قیدیوں کو قتل فرما رہے تھے، جب اس شخص کی باری آئی ان دو میں سے ایک نے کہا اس کیلئے امان ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے دریافت فرمایا : اس کو امان کیسے ملی ؟ اس نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اس کو مترس کہا تو یہ کھڑا ہوگیا، حضرت ابو موسیٰ (رض) نے دریافت کیا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا : اس کا مطلب ہے مت ڈرو آپ نے فرمایا یہ امان ہے، اس کا راستہ چھوڑ دو ، پھر ہم نے اس کو چھوڑ دیا۔
(۳۴۰۸۳) حَدَّثَنَا رَیْحَانُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَرْزُوقُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو فَرْقَدٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ یَوْمَ فَتَحْنَا سُوقَ الأَہْوَازِ ، فَسَعَی رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، وَسَعَی رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَلْفَہُ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ یَسْعَی وَیَسْعَیَانِ إِذْ قَالَ لَہُ أَحَدُہُمَا : مَتَّرَس ، فَقَامَ الرَّجُل : فَأَخَذَاہُ فَجَائَا بِہِ ، وَأَبُو مُوسَی یَضْرِبُ أَعْنَاقَ الأُسَارَی ، حَتَّی انْتَہَی الأَمْرُ إِلَی الرَّجُلِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : إِنَّ ہَذَا قَدْ جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : وَکَیْفَ جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ؟ قَالَ : إِنَّہُ کَانَ یَسْعَی ذَاہِبًا فِی الأَرْضِ ، فَقُلْتُ لَہُ : مَتَّرَس ، فَقَامَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : وَمَا مَتَّرَس ؟ قَالَ : لاَ تَخَفْ ، قَالَ : ہَذَا أَمَانٌ ، خَلَّیَا سَبِیلَہُ ، فَخَلَّینَا سَبِیلَ الرَّجُلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٤) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو حضرت عمر (رض) کے حکم پر ہرمزان اتر کر آیا اور گرفتاری دے دی حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اس کو میرے ساتھ بھیجا، جب ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو ہرمزان خاموش ہوگیا اور کچھ نہ بولا حضرت عمر (رض) نے فرمایا بولو، اس نے کہا زندوں والا یا مردوں والا کلام ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا بولو کوئی حرج نہیں ہے ھرمزان نے کہا : اے قوم عرب ، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کچھ نہیں چھوڑا جیسا کہ ہم تم سے لڑتے ہیں اور تم کو قتل کرتے ہیں، بہرحال اگر اللہ پاک تمہارے ساتھ ہوتے تو ہمیں تم سے لڑنے پر قدرت نہ ہوتی۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے انس (رض) آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے امیرالمومنین (رض) میں نے اپنے پیچھے بہت شوکت اور کثیر تعداد چھوڑی ہے، اگر آپ نے اس کو قتل کردیا تو قوم زندگی سے مایوس ہوجائے گی اور وہ ان کی شوکت کیلئے زیادہ سخت تھا، اور اگر اس کو زندہ رکھا تو قوم کو لالچ ہوگی۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے انس (رض) ! تجھے حضرت براء بن مالک (رض) اور حضرت مجزاۃ بن ثور کے قاتل کو مارنے سے حیاء آرہی ہے ؟ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب مجھے اندیشہ ہوا کہ حضرت عمر (رض) اس کو قتل کردیں گے، میں نے ان سے عرض کیا : آپ کیلئے اس کے قتل پر شرعی راستہ نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کیوں ؟ کیا آپ نے اس کو امان دی ہے ؟ کیا آپ نے اس سے کچھ لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا، لیکن آپ نے خود اس سے فرمایا تھا بول تجھ پر کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا، تم ضرور کسی شخص کو لے کر آؤ جو تمہارے ساتھ گواہی دے، وگرنہ تمہیں سزا ملے گی، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس سے نکلا تو اچانک حضرت زبیر (رض) بن العوام ملے انھوں نے بھی وہی یاد کرلیا تھا جو میں نے یاد کیا تھا انھوں نے حضرت عمر (رض) کے سامنے گواہی دی، تو آپ (رض) نے اس کو چھوڑ دیا، ہرمزان مسلمان ہوگیا، اور اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔
(۳۴۰۸۴) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حاصَرْنَا تُسْتَرَ ، فَنَزَلَ الْہُرْمُزَانُ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ ، فَبَعَثَ بِہِ أَبُو مُوسَی مَعِیَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ سَکَتَ الْہُرْمُزَانُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : تَکَلَّمْ ، فَقَالَ : کَلاَمُ حَیٍّ ، أَوْ کَلاَمُ مَیِّتٍ ؟ قَالَ : فَتَکَلَّمْ فَلاَ بَأْسَ ، فَقَالَ : إِنَّا وَإِیَّاکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّی اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ، کُنَّا نَقْتُلُکُمْ وَنُقْصِیکُمْ ، فَأَمَا إِذْ کَانَ اللَّہُ مَعَکُمْ لَمْ یَکُنْ لَنَا بِکُمْ یَدَانِ۔

قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَقُولُ یَا أَنَسُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، تَرَکْتُ خَلْفِی شَوْکَۃً شَدِیدَۃً ، وَعَدَدًا کَثِیرًا ، إِنْ قَتَلْتُہُ أَیِسَ الْقَوْمُ مِنَ الْحَیَاۃِ ، وَکَانَ أَشَدَّ لِشَوْکَتِہِمْ ، وَإِنِ اسْتَحْیَیْتہ طَمِعَ الْقَوْمُ۔

فَقَالَ : یَا أَنَسُ ، أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ ، وَمَجْزَأَۃ بْنِ ثَوْرٍ ؟ فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَبْسُطَ عَلَیْہِ ،قُلْتُ لَہُ : لَیْسَ لَکَ إِلَی قَتْلِہِ سَبِیلٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ ؟ أَعْطَاک ؟ أَصَبْتَ مِنْہُ ؟ قُلْتُ : مَا فَعَلْتُ، وَلَکِنَّک قُلْتَ لَہُ : تَکَلَّمْ فَلاَ بَأْسَ ، فَقَالَ : لَتَجِیئَنَّ بِمَنْ یَشْہَدُ مَعَکَ ، أَوْ لأَبْدَأَن بِعُقُوبَتِکَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ ، فَإِذَا بِالزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَدْ حَفِظَ مَا حَفِظْتُ ، فَشَہِدَ عِنْدَہُ فَتَرَکَہُ ، وَأَسْلَمَ الْہُرْمُزَانُ ، وَفُرِضَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٥) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں جب ہم خانقین میں تھے، حضرت عمر (رض) کا خط ہمارے پاس آیا، اس میں تھا جب کوئی شخص کسی سے کہے لا تدھل (مت ڈر) تو اس نے اس کو امان دے دی، اور اگر کہا لا تخف تو بھی اس کو امان دے دی، اور اگر کہا مطرس تو اس کو امان دے دی، بیشک اللہ تعالیٰ سب زبانوں کو جانتا ہے۔
(۳۴۰۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانَقِینَ : إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : لاَ تَدْہل ، فَقَدْ أَمَّنَہُ ، وَإِذَا قَالَ : لاَ تَخَفْ فَقَدْ أَمَّنَہُ ، وَإِذَا قَالَ : مَطَّرَس فَقَدْ أَمَّنَہُ ، فَإِنَّ اللَّہُ یَعْلَمُ الأَلْسِنَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٦) حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے جو شخص دشمن کی طرف اشارہ کرے، اگر تو نے گرفتاری دی تو میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے اتر کر گرفتاری دے دی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ امان ہے تو اس کو امان حاصل ہوگی۔
(۳۴۰۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَیْدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: أَیُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ أَشَارَ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْعَدُوِّ ، لَئِنْ نَزَلْتَ لأَقْتُلَنَّکَ ، فَنَزَلَ وَہُوَ یَرَی أَنَّہُ أَمَانٌ فَقَدْ أَمَّنَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان کیا ہے ؟ اور کیسے ہوگی ؟
(٣٤٠٨٧) حضرت عمر (رض) نے اجناد کے امراء کی طرف لکھا : مسلمانوں میں سے جو شخص دشمن کے کسی آدمی کی طرف اشارہ کرے، کہ اگر تو نے گرفتاری دی تو میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے اتر کر گرفتاری دے دی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ امان ہے تو اس کو امان حاصل ہوگی۔
(۳۴۰۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ کَریْزٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أُمَرَائِ الأَجْنَادِ : أَیُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ أَشَارَ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْعَدُوِّ : لَئِنْ نَزَلْتَ لأَقْتُلَنَّکَ ، فَنَزَلَ وَہُوَ یَرَی أَنَّہُ أَمَانٌ ، فَقَدْ أَمَّنَّہُ۔

حَدَّثَنَا بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ امان میں اللہ کا ذمہ دیا جائے
(٣٤٠٨٨) حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو اس کے امیر کو یہ وصیت فرماتے کہ : جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو، پھر تم ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ دینے کا ارادہ کرو تو ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذمہ مت بناؤ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے ذمہ توڑ دو یہ زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑو۔

حضرت سفیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن مقرن المزنی بھی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
(۳۴۰۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ ، أَوْ سَرِیَّۃٍ أَوْصَاہُ ، فَقَالَ : إِذَا حَاصَرْتُمْ أَہْلَ حِصْنٍ ، فَأَرَادُوکُمْ عَلَی أَنْ تَجْعَلُوا لَہُمْ ذِمَّۃَ اللہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلاَ تَجْعَلُوا لَہُمْ ذِمَّۃَ اللہِ، وَلاَ ذِمَّۃَ رَسُولِہِ ، وَلَکِنِ اجْعَلُوا لَہُمْ ذِمَّتَکُمْ وَذِمَّۃَ آبَائِکُمْ ، فَإِنَّکُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ آبَائِکُمْ ، أَہْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّۃَ اللہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

قَالَ سُفْیَانُ : قَالَ عَلْقَمَۃُ : فَحَدَّثْتُ بِحَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ مُقَاتِلَ بْنَ حَیَّانٍ ، فَقَالَ مُقَاتِلُ بْنُ حَیَّانٍ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ ہَیصَم الْعَبْدِیُّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنِ الْمُزَنِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِہِ۔

(مسلم ۴)
tahqiq

তাহকীক: