মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২৩০০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو گواہ گواہی دیں پھر اُن میں سے ایک رجوع کر لے
(٢٣٠٠٧) حضرت حسن سے مروی ہے کہ دو گواہ گواہی دیں، پھر وہ دونوں رجوع کرلیں، جبکہ حکم نافذ ہوچکا ہو تو فرماتے ہیں کہ حکم رد کردیا جائے گا۔
(۲۳۰۰۷) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی رَجُلَیْنِ شَہِدَا بِشَہَادَۃٍ ثُمَّ رَجَعَا جَمِیعًا ، فَحُکِمَ بِہَا ، قَالَ : یُرَدُّ الْحُکْمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو گواہ گواہی دیں پھر اُن میں سے ایک رجوع کر لے
(٢٣٠٠٨) حضرت ابو حصین سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت شریح کے پاس آ کر گواہی دی، پھر وہ دوبارہ آیا اور گواہی سے رجوع کرلیا، حضرت شریح نے فرمایا : ہم آپ کی شہادت قبول کرچکے ہیں۔
(۲۳۰۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ : أَنَّ رَجُلاً شَہِدَ عِنْدَ شُرَیْحٍ بِشَہَادَۃٍ ، فَجَائَ فَرَجَعَ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : قَدْ قَبِلْنَا شَہَادَتَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو گواہ گواہی دیں پھر اُن میں سے ایک رجوع کر لے
(٢٣٠٠٩) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ جب حکم جاری ہوجائے تو گواہی بھی جائز ہوگی اور اگر گواہی سے گواہ رجوع کرے تو اس کو ضامن بنایا جائے گا۔
(۲۳۰۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ : إذَا مَضَی الْحُکْمُ جَازَتِ الشَّہَادَۃُ ، وَیُغَرَّمُ الشَّاہِدُ إذَا رَجَعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کچھ لوگ زراعت میں شریک ہوں
(٢٣٠١٠) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں چار آدمیوں نے زراعت میں اشتراک کیا، ان میں سے ایک نے کہا : زمین میری طرف سے، دوسرے نے کہا : بیل میری طرف سے، تیسرے نے کہا : دانہ میری طرف سے ، چوتھے نہ کہا : کام سارا میرے ذمہ، جب کھیتی تیار ہوگئی تو وہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دانہ والے کے لیے کھیتی، زمین والے کے لیے بھوسا ، بیل والے کے لیے کچھ معلوم حصہ اور کام کرنے والے کے لیے ہر دن کے حساب سے ایک درہم مقرر فرما دیا۔
حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے نوکر سے (غلام) زیادہ پسند ہے، حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمیں زراعت سے زیادہ سونے اور چاندی اور کھانے کی تجارت پسند ہے۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ مزارعت بالنصف، ثلث اور ربع بھی جائز ہے کیونکہ لوگ (بکثرت) یہ کرتے ہیں۔
حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے نوکر سے (غلام) زیادہ پسند ہے، حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمیں زراعت سے زیادہ سونے اور چاندی اور کھانے کی تجارت پسند ہے۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ مزارعت بالنصف، ثلث اور ربع بھی جائز ہے کیونکہ لوگ (بکثرت) یہ کرتے ہیں۔
(۲۳۰۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِی جَمِیلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اشْتَرَکَ أَرْبَعَۃُ رَہْطٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی زَرْعٍ ، فَقَالَ أَحَدُہُمْ : قِبَلِی الأَرْضُ ، وَقَالَ الآخَرُ : قِبَلِی الْفَدَّانُ ، وَقَالَ الآخَرُ : قِبَلِی الْبَذْرُ ، وَقَالَ الآخَرُ : عَلَیَّ الْعَمَلُ ، فَلَمَّا اسْتُحْصِدَ الزَّرْعُ تَفَاتَوْا فِیہِ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الزَّرْعَ لِصَاحِبِ الْبَذْرِ ، وَأَلْغَی صَاحِبَ الأَرْضِ ، وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْفَدَّانِ شَیْئًا مَعْلُومًا ، وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْعَمَلِ دِرْہَمًا کُلَّ یَوْمٍ ، قَالَ وَاصِلٌ : فَحَدَّثْت بِہِ مَکْحُولاً ، فَقَالَ : لَہَذَا الْحَدِیثُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ وَصِیْفٍ۔
قَالَ وَکِیعٌ : أَحَبُّ من الزَّرْعِ إلَیْنَا التِّجَارَۃُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالطَّعَامِ وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَنَرْجُو أَنْ یَکُونَ النِّصْفُ وَالثُّلُثُ وَالرُّبُعُ جَائِزًا ، لأَنَّ النَّاسَ یَعْمَلُونَ بِہِ۔
قَالَ وَکِیعٌ : أَحَبُّ من الزَّرْعِ إلَیْنَا التِّجَارَۃُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالطَّعَامِ وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَنَرْجُو أَنْ یَکُونَ النِّصْفُ وَالثُّلُثُ وَالرُّبُعُ جَائِزًا ، لأَنَّ النَّاسَ یَعْمَلُونَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١١) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو الگ ہونے سے پہلے اختیار ہے، الا یہ کہ ان کی بیع میں خیار کی شرط ہو (تب افتراق کے بعد بھی ان کو خیار ہوگا) ۔
(۲۳۰۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ فِی بَیْعِہِمَا مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا ، إلاَّ أَنْ یَکُونَ بَیْعُہُمَا عَنْ خِیَارٍ۔ (مسلم ۴۶۔ ابن حبان ۴۹۱۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٢) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بائع اور مشتری کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہے۔
(۲۳۰۱۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
(احمد ۳/۴۰۲۔ ابن حبان ۴۹۰۴)
(احمد ۳/۴۰۲۔ ابن حبان ۴۹۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٣) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۳۰۱۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ جَمِیلِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْوَضِیئِ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
(ابوداؤد ۳۴۵۱۔ ابن ماجہ ۲۱۸۲)
(ابوداؤد ۳۴۵۱۔ ابن ماجہ ۲۱۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے یا یہ کہ ان کے درمیان کوئی خیار شرط وغیرہ ہو۔
(۲۳۰۱۴) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أیوب بْن عُتْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو کَثِیرٍ السُّحَیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَفْتَرِقَا مِنْ بَیْعِہِمَا ، أَوْ یَکُونُ بَیْنَہُمَا خِیَارٌ۔ (ابن حزم ۱۴۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٥) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک کہ وہ راضی ہو کر الگ نہ ہوجائیں۔
(۲۳۰۱۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ وَعَطَائٍ ، قَالاَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ حَتَّی یَتَفَرَّقَا عَنْ رِضًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو الگ ہونے سے قبل اختیار ہے۔
(۲۳۰۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٧) حضرت شریح سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۳۰۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٨) حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے ایک گھوڑا خریدا، پھر اس نے الگ ہونے سے قبل واپس کرنا چاہا، لیکن حضرت شعبی نے بیع کو اس پر لازم قرار دیا، تو ابو الضحٰی نے آپ کے سامنے گواہی دی کہ حضرت شریح کے پاس بھی ایسا مسئلہ آیا تھا، آپ نے بائع پر مبیع کو واپس کردیا تھا۔ حضرت شعبی نے حضرت شریح کے قول کی طرف رجوع فرما لیا۔
(۲۳۰۱۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی رَجُلٍ اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ بِرْذَوْنًا ، فَأَرَادَ أَنْ یَرُدَّہُ قَبْلَ أَنْ یَتَفَرَّقَا ، فَقَضَی الشَّعْبِیُّ أَنَّہُ قَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ ، فَشَہِدَ عِنْدَہُ أَبُو الضُّحَی ، أَنَّ شُرَیْحًا أُتِیَ فِی مِثْلِ ذَلِکَ فَرَدَّہُ عَلَی الْبَائِعِ ، فَرَجَعَ الشَّعْبِیُّ إلَی قَوْلِ شُرَیْحٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠١٩) حضرت ابن عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) جب بیع کرتے تو وہاں سے پھرجاتے (الگ ہوجاتے) تاکہ بیع نافذ ہوجائے۔
(۲۳۰۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا بَاعَ انْصَرَفَ لِیُوجِبَ الْبَیْعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠٢٠) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔
(۲۳۰۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠٢١) حضرت سعید بن المسیب سے بھی یہی مروی ہے۔
(۲۳۰۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بائع اور مشتری جب جدا نہ ہوں اُن کو اختیار ہے
(٢٣٠٢٢) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۲۳۰۲۲) حَدَّثَنَا أبو الأحوص ، عن عبد العزیز بْنِ رفیع ، عن ابن أبی ملیکۃ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات محض تکلم سے ہی بیع کو لازم قرار دیتے ہیں (یعنی مجلس سے جدا ہونا ضروری نہیں ہے)
(٢٣٠٢٣) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب خریداری کی بات مکمل ہوگئی تو اب بیع لازم ہوگی۔
(۲۳۰۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : إذَا تَکَلَّمَ بِالْبَیْعِ جَازَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات محض تکلم سے ہی بیع کو لازم قرار دیتے ہیں (یعنی مجلس سے جدا ہونا ضروری نہیں ہے)
(٢٣٠٢٤) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ بیع یا تو صفقہ ہے یا پھر خیار ہے۔
(۲۳۰۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ : إنَّمَا الْبَیْعُ عَنْ صَفْقَۃٍ أَوْ خِیَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات محض تکلم سے ہی بیع کو لازم قرار دیتے ہیں (یعنی مجلس سے جدا ہونا ضروری نہیں ہے)
(٢٣٠٢٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ بیع نافذ ہوجائے گی اگرچہ وہ الگ نہ بھی ہوں۔
(۲۳۰۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الْبَیْعُ جَائِزٌ وَإِنْ لَمْ یَتَفَرَّقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اگر یوں کہے کہ اگر میں نے اپنا غلام تجھے فروخت کیا تو آزاد ہے
(٢٣٠٢٦) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا : اگر میں نے اپنا غلام تجھے فروخت کیا، تو وہ آزاد ہے، دوسرے نے کہا : اگر میں نے اس کو خریدا تو وہ آزاد ہے۔ فرمایا بائع کی طرف سے آزاد شمار ہوگا کیونکہ وہ پہلے حانث ہوا ہے۔
(۲۳۰۲۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ : إِنْ بِعْتُک غُلاَمِی فَہُوَ حُرٌّ ، وَقَالَ الآخَرُ : إنِ اشْتَرَیْتہ فَہُوَ حُرٌّ ، قَالَ : یَعْتِقُ مِنْ مَالِ الْبَائِعِ لأَنَّہُ حَنِثَ قَبْلَہُ۔
তাহকীক: