মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২৩০৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
(٢٣٠٤٧) حضرت سلمان بن ربیعہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے سے اس شرط پر سامان خریدا کہ اس کو دیکھے گا، اور پھر ثمن کو ابھی ادا نہیں کیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ حضرت سلمان بن ربیعہ نے اس کو ضامن بنایا۔
(۲۳۰۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِی قُرَّۃَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ الْبَاہِلِیِّ: فِی رَجُلٍ اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ سِلْعَۃً عَلَی أَنْ یَنْظُرَ إلَیْہَا ، وَقَطَعَ الثَّمَنَ ، فَمَاتَتْ ، فَضَمَّنَہُ سَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
(٢٣٠٤٨) حضرت عامر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ آدمی اس شرط پر سامان خریدے کہ اس کو دیکھے گا، پھر وہ ہلاک ہوجائے، فرمایا : مشتری ضامن ہوگا۔
(۲۳۰۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ : فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی السِّلْعَۃَ عَلَی أَنْ یَنْظُرَ إلَیْہَا فَمَاتَتْ ، قَالَ : یَضْمَنُ الْمُشْتَرِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
(٢٣٠٤٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر خیار ہو تو مشتری ضامن ہوگا۔
(۲۳۰۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَتِیقٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : یَضْمَنُ الْمُشْتَرِی إذَا کَانَ بِالْخِیَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
(٢٣٠٥٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خیار کے ساتھ سامان خریدے، پھر وہ اس کے پاس ہلاک ہوجائے، اگر تو اس نے ثمن مقرر کردیا ہے تو وہ ضامن ہوگا، اور اگر ثمن مقرر نہیں کیا تو وہ امانت دار ہے۔ (امانت پر ضمان نہیں آتی) ۔
(۲۳۰۵۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا اشْتَرَی الرَّجُلُ الْمَتَاعَ عَلَی أَنَّہُ فِیہِ بِالْخِیَارِ فَہَلَکَ مِنْ عِنْدِہِ ، قَالَ : إِنْ کَانَ سَمَّی الثَّمَنَ ، فَہُوَ لَہُ ضَامِنٌ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ سَمَّی الثَّمَنَ ، فَہُوَ فِیہِ مُؤْتَمَنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
(٢٣٠٥١) اگر بیع میں بائع کو خیار ہو پھر سامان مشتری کے پاس ہلاک ہوجائے تو اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اس پر قیمت لازم ہے۔
(۲۳۰۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی یَقُولُ : إذَا کَانَ الْبَائِعُ بِالْخِیَارِ فَمَاتَتِ السِّلْعَۃُ فَلَیْسَ عَلَی الْمُشْتَرِی شَیْئٌ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ : یَضْمَنُ الْقِیمَۃَ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ : یَضْمَنُ الْقِیمَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص پوچھے کہ تیرے پاس گواہ ہیں ؟ وہ کہے کہ نہیں
(٢٣٠٥٢) حضرت عامر سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے سے پوچھے تیرے پاس گواہ ہیں ؟ وہ کہے کہ نہیں۔ پھر وہ خود آ کر اس کے حق میں گواہی دے۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ گواہی جائز ہے۔
(۲۳۰۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ : فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لِلرَّجُلِ : عِنْدَک شَہَادَۃٌ ؟ فَیَقُولُ : لاَ ، ثُمَّ یَجِیئُ فَیَشْہَدُ ، قَالَ : ہِیَ جَائِزَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص پوچھے کہ تیرے پاس گواہ ہیں ؟ وہ کہے کہ نہیں
(٢٣٠٥٣) حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد حضرت ابان بن عثمان کے پاس ایک شخص کی گواہی کے لیے حاضر ہوئے، اس شخص نے آپ کو گواہی میں ایک بات یاد دلائی، آپ فرمانے لگے کہ مجھے یاد نہیں آ رہا اور میں نے اس کے علاوہ یاد بھی نہیں کیا، پھر نکلے اور آپ کو یاد آگیا ابھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : اس نے مجھ سے گواہی کے متعلق کچھ سوال کیا تھا جو مجھے یاد نہیں تھا اور اب مجھے یاد آگیا ہے، میں گواہی دیتا ہوں جو اس نے کہا وہ سچ ہے اور میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔
(۲۳۰۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : شَہِدَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِشَہَادَۃٍ عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ لِرَجُلٍ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَذْکُرُہُ شَیْئًا فِی شَہَادَتِہِ ، فَیَقُولُ : لاَ أَذْکُرُہُ ، وَلاَ أَحْفَظُ إلاَّ ہَذَا ، ثُمَّ خَرَجَ فَذَکَرَ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ ، فَقَالَ : إنَّ ہَذَا سَأَلَنِی شَیْئًا فِی شَہَادَۃٍ کُنْت لاَ أَذْکُرُہُ لَہُ ، وَإِنِّی قَدْ ذَکَرْتہ وَأنَا أَشْہَدُ أَنَّ مَا قَالَ حَقٌّ وَأَنَا أَشْہَدُ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی بیع کا بیان
(٢٣٠٥٤) حضرت ابن مسعود (رض) مکاتب کی بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۳۰۵۴) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ الْمُکَاتَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی بیع کا بیان
(٢٣٠٥٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب پر بدل کتابت باقی ہو اور جس سے خریدا تھا اس کو فروخت کیا جائے، اور اس کو آزاد کرنے کا ضامن بنایا جائے، تو کوئی حرج نہیں، غلامی کے لیے اس کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
(۲۳۰۵۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَوْ عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُبَاعَ الْمُکَاتَبُ إِذَا بَقِیَ عَلَیْہِ شَیء مِنْ مُکَاتَبَتِہِ مِمَّنْ یَشْتَرِیہِ وَیَضْمَنُ عِتْقَہُ ، وَلاَ یُبَاعُ لِلرِّقِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی بیع کا بیان
(٢٣٠٥٦) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ جو مکاتبہ تھیں، میرے پاس آئیں تو میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ اگر میں اس کو خرید لوں تو کیا اس کی ولاء اس کے آقا کو ملے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو خرید کر آزاد کردو، ولاء اس کو ملتی ہے جو آزاد کرے۔
(۲۳۰۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ بَرِیرَۃَ أَتَتْہَا وَہِیَ مُکَاتَبَۃٌ ، فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَشْتَرِیہَا عَلَی أَنَّ وَلاَئَہَا لِمَوَالِیہَا؟ فَقَالَ: اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا ، فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔
(بخاری ۲۵۶۳۔ مسلم ۱۱۴۳)
(بخاری ۲۵۶۳۔ مسلم ۱۱۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتبہ باندی فوت ہو جائے اور اُس پر بھی بدل کتابت باقی ہو تو اِس کے بچوں کا حکم ۔۔۔
(٢٣٠٥٧) حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ ایک عورت (لونڈی) سے کتابت کی گئی۔ پھر اس نے حالت کتابت میں دو بچے جنے۔ پھر اس کا انتقال ہوگیا، اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس کی اولاد اپنی والدہ کی کتابت پر قائم رہنا چاہیں تو ان کو اجازت ہے، جب وہ ادا کریں گے تو آزاد ہوجائیں گے۔
(۲۳۰۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً کُوتِبَتْ ، فَوَلَدَتْ وَلَدَیْنِ فِی مُکَاتَبَتِہَا ، ثُمَّ مَاتَتْ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ؟ فَقَالَ : إِنْ أَقَامَا بِکِتَابَۃِ أُمِّہِمَا فَذَلِکَ لَہُمَا ، فَإِذَا أَدَّیَا عَتَقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتبہ باندی فوت ہو جائے اور اُس پر بھی بدل کتابت باقی ہو تو اِس کے بچوں کا حکم ۔۔۔
(٢٣٠٥٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کے بچے اس کے مرتبہ میں ہیں، اس کی آزادی کے ساتھ آزاد ہوجائیں گے، اور اس کی غلامی کے ساتھ غلام رہیں گے، اور اگر ان کی والدہ کا انتقال ہوجائے تو جو بدل کتابت رہ گیا ہے اس کی ادائیگی کی کوشش کریں گے اگر تو وہ ادا کردیا وہ آزاد ہوجائیں گے اور اگر ادا نہ کر پائے تو غلام رہیں گے۔
(۲۳۰۵۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : وَلَدُ الْمُکَاتَبَۃِ بِمَنْزِلَتِہَا ، یَعْتِقُونَ بِعِتْقِہَا وَیَرِقُّونَ بِرِقِّہَا ، فَإِنْ مَاتَتْ سَعَوا فِیمَا بَقِیَ مِنْ مُکَاتَبَتِہَا ، فَإِنْ أَدُّوا عَتَقُوا ، وَإِنْ عَجَزُوا أُرِقُّواْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتبہ باندی فوت ہو جائے اور اُس پر بھی بدل کتابت باقی ہو تو اِس کے بچوں کا حکم ۔۔۔
(٢٣٠٥٩) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ مکاتب کی اولاد بھی بدل کتابت کی ادائیگی کی کوشش میں اسی کے مثل ہے۔
(۲۳۰۵۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : وَلَدُہ بِمَنْزِلَتِہِ فِی السَّعْیِ۔ یَعْنِی : الْمُکَاتَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٠) حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمری والے مکان کو ورثاء کے لیے قرار دیا۔
( العمری بولتے ہیں کہ آدمی اپنا گھر کسی کو دے دے پھر جب دینے والا فوت ہوجائے تو وہ گھر ورثاء کی طرف لوٹ آتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح کیا کرتے تھے۔ )
( العمری بولتے ہیں کہ آدمی اپنا گھر کسی کو دے دے پھر جب دینے والا فوت ہوجائے تو وہ گھر ورثاء کی طرف لوٹ آتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح کیا کرتے تھے۔ )
(۲۳۰۶۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِیِّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْعُمْرَی لِلْوَارِثِ۔ (ابوداؤد ۳۵۵۴۔ نسائی ۶۵۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦١) حضرت طارق نے حضرت جابر (رض) کی روایت کی بناء پر عمری والے مکان کا وارثوں کے لیے فیصلہ فرمایا۔
(۲۳۰۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ طَارِقًا قَضَی بِالْعُمْرَی لِلْوَارِثِ لِقَوْلِ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۱۲۴۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٢) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمری کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جو گھر کسی کے حوالے کر دے وہ اسی کیلئے ہوگا۔
(۲۳۰۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عُمْرَی فَمَنْ أَعْمَرَ شَیْئًا ، فَہُوَ لَہُ۔ (ابن ماجہ ۲۳۷۹۔ نسائی ۶۵۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٣) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمری والا مکان جائز ہے، اس کے لیے جس نے اس کو عمری کے طور پر دیا ہے۔
(۲۳۰۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعُمْرَی جَائِزَۃٌ لِمَنْ أُعْمِرَہَا۔ (احمد ۱/۲۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمری والا مکان اس میں رہنے والے کی میراث ہے یا پھر جائز فرمایا۔
(۲۳۰۶۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَۃَََ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعُمْرَی مِیرَاثٌ لأَہْلِہَا أو جائزۃ لأہلہا۔ (ترمذی ۱۳۴۹۔ ابوداؤد ۳۵۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٥) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے اموال کو اپنے پاس ہی رکھو ان کو عمری نہ بناؤ، جو مکان کو عمری بنائے وہ میراث کے راستہ پر ہے۔
(۲۳۰۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ ابِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمْسِکُوا عَلَیْکُمْ أَمْوَالَکُمْ لاَ تُعْمِرُوہَا ، فَمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَی فَہِیَ سَبِیلُ الْمِیرَاثِ۔
(مسلم ۲۷۔ احمد ۳/۳۰۲)
(مسلم ۲۷۔ احمد ۳/۳۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عمری کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٢٣٠٦٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کو عمری کے طور پر کوئی مکان مل گیا تو وہ اسی کا ہے اور اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کا۔
(۲۳۰۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیع ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَی فَہِیَ لَہُ وَلِوَرَثَتِہِ مِنْ بَعْدِہِ۔
তাহকীক: