মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২০৭৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٨٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ باطل ہے۔
(۲۰۷۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذَلِکَ الْبَاطِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٨٨) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اپنے سامان کے ساتھ اضافی معاوضہ واپس نہ لو۔
(۲۰۷۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لاَ تَأْخُذْ سِلْعَتَکَ وَتَأْخُذَ مَعَہَا فَضْلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٨٩) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ اگر ایک آدمی دوسرے سے ایک بکری خریدے اور بکری پر قبضہ سے پہلے اس کی رائے بدل جائے اور وہ اس بیع کو ختم کرنا چاہے، بائع بیع کو ختم کرنے سے انکار کرے اور کہے کہ تم مجھے ایک درہم دو پھر میں اقالہ کروں گا، اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
(۲۰۷۸۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن رَجُلٍ بَاعَ شَاۃً مِنْ رَجُلٍ ، ثُمَّ بَدَا لَہُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْخُذَہَا فَقَالَ : أَقِلْنِی ، فَأَبَی ، وَقَالَ : أَعْطِنِی دِرْہَمًا وَأُقِیلُکَ فَکَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک آدمی کو ایک سواری بیچی، خریدار نے ارادہ کیا کہ وہ یہ سواری واپس کر دے اور ساتھ کچھ دراہم بھی دے، حضرت علقمہ نے اس سے فرمایا کہ یہ سواری تو ہماری ہے اور تیرے دراہم پر ہمارا کیا حق ہے ؟
(۲۰۷۹۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّ عَلْقَمَۃَ بَاعَ رَجُلاً دَابَّۃً ، فَأَرَادَ صَاحِبُہَا أَنْ یَرُدَّہَا وَیَرُدَّ مَعَہَا دراہم فَقَالَ عَلْقَمَۃُ : ہَذِہِ دَابَّتُنَا فَمَا حَقُّنَا فِی دَرَاہِمِکَ ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩١) حضرت اسود نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ سامان واپس کرے اور اس کے ساتھ درہم بھی دے۔
(۲۰۷۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَرُدَّہَا وَیَرُدَّ مَعَہَا دِرْہَمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٢) حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے دکان یا زمین کو خریدا، پھر وہ اقالہ کرنا چاہتا ہے لیکن بائع راضی نہیں ہوتا، پھر وہ بائع کے لیے دس یا بیس دراہم چھوڑ دیتا ہے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۷۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی معبد ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ ابْتَاعَ دارا أو عقارا، فَأَرَادَ أَنْ یُقِیلَہُ فَأَبَی فَتَرَکَ لَہُ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ ، أَوْ عِشْرِینَ دِرْہَمًا فَأَقَالَہُ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٣) حضرت شعبی نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ چیز واپس کرے اور ساتھ درہم بھی دے۔
(۲۰۷۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَرُدَّہَا وَیَرُدَّ مَعَہَا دِرْہَمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٤) حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے اونٹ خریدا پھر اسے اس معاملے پر افسوس ہوا، وہ اونٹ واپس کرتا ہے ساتھ آٹھ دراہم بھی دیتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، سود ان چیزوں میں ہوتا ہے جن کا کیل یا وزن کیا جاتا ہے یا جب کھائی اور پی جاتی ہیں۔
(۲۰۷۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَی بَعِیرًا فَنَدِمَ الْمُبْتَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ یَرُدَّہُ وَیَرُدَّ مَعَہُ ثَمَانیَۃَ دَرَاہِمَ فَقَالَ سَعِیدٌ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، إنَّمَا الرِّبَا فِیمَا یُکَالُ وَیُوزَنُ مِمَّا یُؤْکَلُ وَیُشْرَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٥) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت شریح کے پاس آئے اور گفتگو شروع کی، ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ گواہی دیں کہ میں نے اپنا اونٹ اور تیس درہم قبول کرلیے، حضرت شریح خاموش رہے، میرے خیال میں اگر وہ اس معاملے کو ناپسند کرتے تو انکار فرما دیتے۔
(۲۰۷۹۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلاَنِ فَقَامَا عِنْدَ شُرَیْحٍ ، ثُمَّ تَحَاوَرَا ، فَقَالَ لَہُ أَحَدُہُمَا : اشْہَدُوا أَنِّی قَدْ قَبِلْتُ جَمَلِی وَثَلاَثِینَ دِرْہَمًا ، فَسَکَتَ شُرَیْحٌ ، قَالَ : فَأُرَاہُ لَوْ کَرِہَہُ لأَنْکَرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٦) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، جبکہ آدمی بیع کے بھاؤ بڑھائے۔
(۲۰۷۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا لَمْ یَرَیَا بِذَلِکَ بَأْسًا إذَا استغلی الرَّجُلُ الْبَیْعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی ایک اونٹ خریدے اور پھر اسے کچھ دراہم کے ساتھ واپس کر دے۔
(۲۰۷۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مُغِیثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی رَجُلٍ اشْتَرَی بَعِیرًا ، فَأَرَادَ أَنْ یَرُدَّہُ وَیَرُدَّ مَعَہُ دراہم فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٨) حضرت حسن اور حضرت ابراہم فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی چیز کو دراہم کے ساتھ واپس کرے۔
(۲۰۷۹۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی السِّلْعَۃَ ، ثُمَّ یَسْتَغْلِیہَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَرُدَّہَا وَیَرُدَّ مَعَہَا دراہم۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے ؟
(٢٠٧٩٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب اس کی حالت بدل گئی تو ایسا کرنے میں کچھ حرج نہیں۔
(۲۰۷۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا تَغَیَّرَتْ عَنْ حَالِہَا فَلاَ بَأْسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٠) حضرت عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک غلام دو غلاموں سے بہتر ہے، ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہے، ایک کپڑا دو کپڑوں سے بہتر ہے، فوری ادائیگی کے ساتھ ہونے میں کوئی حرج نہیں، سودا ادھار میں ہوتا ہے، کیلی اور وزنی چیزوں کے علاوہ میں۔
(۲۰۸۰۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْمُثَنَّی ، عَنْ جَدِّہِ رِیَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ، قَالَ : الْعَبْدُ خَیْرٌ مِنَ الْعَبْدَیْنِ ، وَالْبَعِیرُ خَیْرٌ مِنَ الْبَعِیرَیْنِ ، وَالثَّوْبُ خَیْرٌ مِنَ الثَّوْبَیْنِ ، لاَ بَأْسَ بِہِ یَدًا بِیَدٍ إنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ ، إلاَّ مَا کِیلَ وَوُزِنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠١) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے مقام ربذہ میں چار اونٹوں کے بدلے چار اونٹنیاں خریدیں، پھر آپ نے اپنے بائع سے فرمایا کہ انھیں لے جاؤ اور دیکھو اگر تم راضی ہو جاؤ تو بیع لازم ہوگئی۔
(۲۰۸۰۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ اشْتَرَی نَاقَۃً بِأَرْبَعَۃِ أَبْعِرَۃٍ بِالرَّبَذَۃِ فَقَالَ لِصَاحِبِہِ : اذْہَبْ فَانْظُرْ ، فَإِنْ رَضِیْتَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٢) حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی ابن حنفیہ سے کہا کہ کیا میں ایک اونٹ کو دو اونٹنیوں کے بدلے میں ایک مخصوص مدت تک کے لیے بیچ سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں البتہ اگر فوری ادائیگی ہو تو ٹھیک ہے۔
(۲۰۸۰۲) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : أَبِیعُ بَعِیرًا بِبَعِیرَیْنِ إلَی أَجَلٍ ؟ قَالَ : لاَ وَلاَ بَأْسَ بِہِ یَدًا بِیَدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٣) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ایک حیوان کو دو کے بدلے بیچنا اکٹھا (ادھار کے ساتھ) درست نہیں۔
(۲۰۸۰۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحَیَوَانُ وَاحِدٌ بِاثْنَیْنِ لاَ یَصْلُحُ ، یَعْنِی نَسِیئَۃً۔ (ترمذی ۱۳۳۸۔ ابن ماجہ ۲۲۷۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٤) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جانور کو دو کے بدلے (ادھار کے ساتھ) بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۰۸۰۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْحَیَوَانِ وَاحِدٌ بِاثْنَیْنِ ، یَعْنِی نَسِیئَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٥) حضرت یزید بن عبداللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک اونٹ کو دو اونٹوں کے بدلے فروخت کیا۔ خریدنے والے نے کہا کہ آپ میرا اونٹ میرے حوالے کردیں اور میں آپ کو آپ کے دو اونٹ لا دیتا ہوں، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ میرا ہاتھ اس کی لگام کو اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک تم میرے پاس میرے اونٹ نہیں لے آتے۔
(۲۰۸۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، قَالَ : بَاعَ عَلِیٌّ بَعِیرًا بِبَعِیرَیْنِ فَقَالَ لَہُ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْہُ : سَلِّمْ لِی بَعِیرِی حَتَّی آتِیَکَ بِبَعِیرَیْکَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ تُفَارِقُ یَدَیْ خِطَامَہُ حَتَّی تَأْتِیَ بِبَعِیرَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ
(٢٠٨٠٦) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۸۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ لَمْ یَرَ بَأْسًا بِالْبَعِیرِ بِالْبَعِیرَیْنِ۔
তাহকীক: