মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২০৮২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٢٧) حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک معاملے میں دو معاملے سود ہیں، البتہ اگر آدمی یوں کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو یہ درست ہے۔
(۲۰۸۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، أَوْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : صَفْقَتَانِ فِی صَفْقَۃٍ رِبًا ، إِلاَّ أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ : إِنْ کَانَ بِنَقْدٍ فَبِکَذَا ، وَإِنْ کَانَ بِنَسِیئَۃٍ فَبِکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٢٨) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۲۰۸۲۸) وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ بِمِثْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٢٩) حضرت محمد اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی سامان کے بارے میں یوں کہے کہ نقد اتنے کا اور ادھار اتنے کا۔
(۲۰۸۲۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَسْتَامَ الرَّجُلُ بِالسِّلْعَۃِ یَقُولُ : ہِیَ بِنَقْدٍ بِکَذَا ، وَبِنَسِیئَۃٍ بِکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٠) حضرت سعید بن مسیب نے ایسی دو بیعات کرنے سے منع کیا ہے جو ایک معاملے پر مشتمل ہوں۔
(۲۰۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَنْہَی عَنِ الْبَیْعَتَیْنِ تحویہما الصَّفْقَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣١) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اگر دو قسموں میں سے ایک کو لے تو کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۸۳۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ إذَا أَخَذَہُ عَلَی أَحَدِ النَّوْعَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٢) حضرت طاوس اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس بات میں کچھ حرج نہیں کہ آدمی یوں کہے کہ یہ کپڑا نقد اتنے کا اور ادھار اتنے کا ہے اور ان دونوں میں سے ایک معاملے کو قائم رکھے۔
(۲۰۸۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الأَوْزَاعِی ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالاَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَقُولَ : ہَذَا الثَّوْبُ بِالنَّقْدِ بِکَذَا ، وَبِالنَّسِیئَۃِ بِکَذَا ، وَیَذْہَبُ بِہِ عَلَی أَحَدِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدے اور پھر کہے کہ میرے پاس اس کی قیمت نقد نہیں، میں اس کو ادھار پر خریدتا ہوں پھر اگر وہ دونوں پہلی بیع کو ختم کردیں تو وہ چاہے تو ادھار کے ساتھ خرید سکتا ہے۔
(۲۰۸۳۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ اشْتَرَی بَیْعًا ، ثُمَّ قَالَ : لَیْسَ عِنْدِی ہَذَا ، أَشْتَرِیہِ بِالنَّسِیئَۃِ ، قَالَ : إذَا تتارکا الْبَیْع اشْتَرَاہُ إِنْ شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک بیع میں دو بیعات کیں اس کے لیے ان دونوں میں سے کم مالیت والی ہے وگرنہ وہ سود ہوگا۔
(۲۰۸۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ فَلَہُ أَوْکَسُہُمَا ، أَوِ الرِّبَا۔ (ترمذی ۱۲۳۱۔ ابوداؤد ۳۴۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) جب تجارتی قافلہ بھیجتے تو انھیں ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے منع فرماتے تھے۔
(۲۰۸۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، أَنَّ جَدَّہُ کَانَ إذَا بَعَثَ تِجَارَۃً نَہَاہُمْ عَنْ شَرْطَیْنِ فِی بَیْعٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے : اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
(٢٠٨٣٦) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص چیز خریدتے ہوئے کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، جب اس نے جدائی سے پہلے ایک معاملے کو اختیار کرلیا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت مغیرہ سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب وہ دونوں میں سے ایک بات پر راضی ہو کر جدا ہوں تو حضرت ابراہیم بھی اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۲۰۸۳۶) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ یَشْتَرِی مِنَ الرَّجُلِ الشَّیْئَ فَیَقُولُ: إِنْ کَانَ بِنَقْدٍ فَبِکَذَا، وَإِنْ کَانَ إلَی أَجَلٍ فَبِکَذَا، قَالَ: لاَ بَأْسَ إذَا انْصَرَفَ عَلَی أَحَدِہِمَا قَالَ: شُعْبَۃُ، فَذَکَرْت ذَلِکَ لَمُغِیرَۃَ فَقَالَ: کَانَ إبْرَاہِیمُ لاَ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا إذَا تَفَرَّقَ عَلَی أَحَدِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٣٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولاء کی بیع اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۰۸۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْوَلاَئِ ، وَعَنْ ہِبَتِہِ۔ (بخاری ۲۵۳۵۔ مسلم ۱۱۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٣٨) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۳۸) حدَّثَنَا جَرِیرٌ وَحَفْصٌ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الْوَلاَئُ لاَ یُبَاعُ ، وَلاَ یُوہَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٣٩) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، کیا آدمی اپنے نسب کو بیچ سکتا ہے ؟
(۲۰۸۳۹) حدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّمَا الْوَلاَئُ کَالنَّسَبِ ، أَفَیَبِیعُ الرَّجُلُ نَسَبَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ولاء حلف کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے، اسے وہیں رکھو جہاں اللہ تعالیٰ نے اسے مقرر کردیا ہے۔
(۲۰۸۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : الْوَلاَئُ بِمَنْزِلَۃِ الْحِلْفِ ، لاَ یُبَاعُ، وَلاَ یُوہَبُ ، أَقِرُّوہُ حَیْثُ جَعَلَہُ اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤١) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ولاء رحم کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۴۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ أَیُّوبَ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عُمَر ، قَالَ : الْوَلاَئُ کَالرَّحِمِ لاَ یُبَاعُ ، وَلاَ یُوہَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٢) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : الْوَلاَئُ کَالنَّسَبِ لاَ یُبَاعُ ، وَلاَ یُوہَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی مِسْکِینٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الْوَلاَئُ لاَ یُبَاعُ ، وَلاَ یُوہَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٤) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے، نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے صدقہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۴۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ، عَن لَیْثٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، قَالَ: لاَ یُبَاعُ الْوَلاَئُ، وَلاَ یُوہَبُ، وَلاَ یُتَصَدَّقُ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٥) حضرت حسن اور حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی ایک قسم ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۲۰۸۴۵) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ ، قَالاَ : الْوَلاَئُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَبِ لاَ یُبَاعُ، وَلاَ یُوہَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کی بیع اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان
(٢٠٨٤٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب ولاء مکاتبت کی وجہ سے ہو تو اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر عتق کی وجہ سے ہو تو مکروہ ہے۔
(۲۰۸۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِبَیْعِ الْوَلاَئِ إذَا کَانَ مِنْ مُکَاتبہ وَیَکْرَہُہُ إذَا کَانَ عِتْقًا۔
তাহকীক: