মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২০৯০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آقا اپنی مدبرہ باندی سے جماع کرسکتا ہے ؟
(٢٠٩٠٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مدبرہ باندی سے وطی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَقَعَ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آقا اپنی مدبرہ باندی سے جماع کرسکتا ہے ؟
(٢٠٩٠٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ مدبرہ باندی سے وطی کرنا مکروہ ہے۔
(۲۰۹۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَغْشَی الرَّجُلُ أَمَتَہُ وَقَدْ أَعْتَقَہَا عَنْ دُبُرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آقا اپنی مدبرہ باندی سے جماع کرسکتا ہے ؟
(٢٠٩٠٩) حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنی مدبرہ باندی سے وطی کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ اس وقت میرے پاس ہے۔
(۲۰۹۰۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ وَحَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ أَیَطَأُ الرَّجُلُ مُدَبَّرَتَہُ ؟ فَقَالَ : ہِیَ عِنْدِی الآنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا مہر اس کے خاوند پر لازم ہو اور وہ مرجائے، جبکہ اس پر کچھ قرضہ بھی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی فوت ہوجائے اور اس پر اس کی بیوی کا مہر لازم ہو تو وہ عورت بھی قرض خواہ ہوں میں سے ایک ہوگی، اگر اس آدمی کے گھر میں تیل یا گندم وغیرہ ہوں تو وہ ورثہ کے لیے ہوں گے اور اگر کوئی چیز اس نے حالت صحت میں اپنی منکوحہ بیوی کے لیے مقرر کردی ہو تو ٹھیک ہے۔
(۲۰۹۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إذَا تُوُفِّیَ الرَّجُلُ وَعَلَیْہِ صَدَاقُ امْرَأَتِہِ ، فَہِیَ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ ، فَإِنْ کَانَ فِی بَیْتِہِ زَیْتٌ ، أَوْ قَمْحٌ ، أَوْ غَیْرُ ذَلِکَ ، فَہُوَ لِلْوَرَثَۃِ إلاَّ أَنْ یَکُونَ سَمَّاہُ لِلَّتِی دَخَلَ بِہَا وَہُوَ صَحِیحٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا مہر اس کے خاوند پر لازم ہو اور وہ مرجائے، جبکہ اس پر کچھ قرضہ بھی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١١) حضرت عمر بن عبد العزیز نے قرض اور بیویوں کے مہر کے بارے میں گورنروں کو خط میں لکھا کہ بیویوں کا مہر بھی قرض کی طرح دیا جائے گا۔
(۲۰۹۱۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ سَوَادَۃَ بْنِ زِیَادٍ وَعَمْرِو بْنِ مُہَاجِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إلَی الْوُلاَۃِ فِی الدَّیْنِ وَمُہُورِ النِّسَائِ أَنَّہُنَّ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٢) حضرت ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ باقی غلام مل کر بدل کتابت کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔
(۲۰۹۱۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی النَّفَرِ یُکَاتِبُونَ جَمِیعًا فَیَمُوتُ بَعْضُہُمْ ، قَالَ : یَسْعَی الْبَاقُونَ فِیمَا کَاتَبُوا عَلَیْہِ جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٣) حضرت حفص بن غیاث سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ حضرت حسن کی کیا رائے تھی کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ان سے ان کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
(۲۰۹۱۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَمْرًا : مَا کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ ؛ فِی الرَّجُلِ کَاتَبَ مَمَالِیکَہُ جَمِیعًا فَیَمُوتُ بَعْضُہُمْ ، قَالَ : یَرْفَعُ عَنْہُمْ بِالْحِصَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے دو غلاموں کو مکاتب بنایا اور پھر ان میں سے ایک مرگیا تو اس کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
(۲۰۹۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی رَجُلٍ کَاتَبَ عَبْدَیْنِ لَہُ فَمَاتَ أَحَدُہُمَا قَالَ : یَرْفَعُ عَنْہُ بِالْحِصَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٥) حضرت حکم سے سوال کیا گیا کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ان کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
(۲۰۹۱۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الرَّجُلِ یُکَاتِبُ أَہْلَ الْبَیْتِ جَمِیعًا فَیَمُوتُ بَعْضُہُمْ ، قَالَ : یَرْفَعُ بِالْحِصَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٦) حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ باندی اس کو واپس کی جائے گی، باندی کے بچے کی قیمت لگائی جائے گی اور باندی کو بیچنے والے سے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
(۲۰۹۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ فِی رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً فَوَلَدَتْ مِنْہُ أَوْلاَدًا ، ثُمَّ أَقَامَ الرَّجُلُ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا لَہُ ، قَالَ : تُرَدُّ عَلَیْہِ وَیُقَوَّمُ عَلَیْہِ وَلَدُہَا فَیُغَرَّمُ الَّذِی بَاعَہَا بِمَا عَزَّ وَہَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی باندی کو کسی آدمی کے پاس دیکھا کہ اس آدمی نے اس کی باندی کو خریدا اور اس سے اس آدمی کی اولاد ہوئی تو وہ باندی کو لے لے گا اور اولاد کے باپ سے اولاد کی قیمت لے گا۔
(۲۰۹۱۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ وَجَدَ أَمَتَہُ عِنْدَ رَجُلٍ اشْتَرَاہَا وَقَدْ وَلَدَتْ مِنْہُ ، قَالَ : یَأْخُذُہا وَیَأْخُذُ قِیمَۃَ الْوَلَدِ مِنْ أَبِیہِمْ وَیُہْضَمُ عَنْہُم مِنَ الْقِیمَۃِ شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٨) حضرت میسرہ فرماتے ہیں کہ ہر خادم کے بدلے ایک خادم ہے۔
(۲۰۹۱۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَیْسَرَۃَ : مَکَانَ کُلِّ وَصِیْفٍ وَصِیفٌ فَرِیضَۃً قَدْ حَلبَا وصرَّا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩١٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ہر خادم کے بدلے ایک خادم ہے۔
(۲۰۹۱۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الحسن قَالَ : مَکَانَ کل وصیف وصیفٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی باندی خریدے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو اور پھر کوئی آدمی اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ باندی اس کی ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٢٠) حضرت سالم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا کہ لڑکے کی قیمت کب سے لگائی جائے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ جس دن وہ پیدا ہوا۔
(۲۰۹۲۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عن مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : مَتَی یُقَوَّمُ الْوَلَدُ ؟ قَالَ : یَوْمَ وُلِدُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢١) حضرت ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان دلواؤ اگر چیز کا مالک چاہے۔
(۲۰۹۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : کَتَبَ إلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ ضَمِّنِ الْعَارِیَّۃَ إِنْ شَائَ صَاحِبُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٢) حضرت سوادہ بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ ایک عورت نے شادی کے لیے کسی سے زیور مانگا، پھر وہ زیور ضائع ہوگیا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر عورت نے اس میں کوئی خیانت نہیں کی تو ضمان نہیں ہے۔
(۲۰۹۲۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ سَوَادَۃَ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : کَتَبْتُ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی امْرَأَۃٍ اسْتَعَارَتْ حَلْیًا لِعُرْسٍ فَہَلَکَ الْحَلْیُ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ: لاَ ضَمَانَ عَلَیْہَا إلاَّ أَنْ تَکُونَ بَغتہ غَائِلَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٣) حضرت عمر بن عبد العزیز عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
(۲۰۹۲۳) حدثنا عبد الوہاب الثقفی ، عن داود ، عن عمر بن عبد العزیز ، أنہ کان یضمن العاریۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٤) حضرت علی (رض) عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ امانت ہے۔
(۲۰۹۲۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، أَنَّ عَلِیًّا ، قَالَ فِی الْعَارِیَّۃِ : ہُوَ مُؤْتَمَنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٥) حضرت شباک فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے کسی سے انگوٹھیاں استعمال کے لیے حاصل کیں، ایک دن وہ وضو کرنے لگی تو اس نے انگوٹھیاں اپنی گود میں رکھ دیں، انگوٹھیاں کہیں گرگئیں، یہ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا، ان سے کہا گیا کہ یہ انگوٹھیاں اس نے عاریہ کے طور پر لی تھیں تاکہ واپس کرے، اب اس نے معاہدے کی مخالفت کی ہے، حضرت شریح نے اس کا ضمان مقرر کیا۔
(۲۰۹۲۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ شِبَاک ، قَالَ : اسْتَعَارَتِ امْرَأَۃٌ خَوَاتِیمَ فَأَرَادَتْ أَنْ تَوَضَّأَ فَوَضَعَتْہَا فِی حِجْرِہَا فَضَاعَتْ ، فَارْتَفَعُوا إلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ : إنَّمَا اسْتَعَارَتْ لِتَرُدَّہَا فَخَالَفَتْ ، فَضَمَّنَہَا شُرَیْحٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ کرایہ پر چیز لینے والے اور مانگ کرلینے والے پر ضمان نہیں ہے، لیکن اگر معاملے کی مخالفت کریں تو پھر ہے۔
(۲۰۹۲۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی الْمُسْتَکْرِی وَالْمُسْتَعِیرِ ضَمَانٌ إلاَّ أَنْ یُخَالِفَا۔
তাহকীক: