মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২০৯২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٧) حضرت حکم اور حضرت حماد عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر نہیں کرتے تھے۔
(۲۰۹۲۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یُضَمِّنَانِ الْمُسْتَعِیرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب صاحب عاریہ نے معاہدے کی مخالفت کی تو ضامن ہوگا۔
(۲۰۹۲۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا خَالَفَ صَاحِبَ الْعَارِیَّۃِ ضَمِنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٢٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان ہوتا ہے۔
(۲۰۹۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : الْعَارِیَّۃُ مَضْمُونَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٠) حضرت ابن عباس (رض) عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے اور ابن جریج کے مطابق جب مالک تقاضاکرے۔
(۲۰۹۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، وَمحمد بْنِ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُضَمِّنُ الْعَارِیَّۃَ ، وَزَادَ ابْنُ جُرَیْجٍ : إذَا تبعہا صَاحِبُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣١) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عاریہ نہ تو بیع ہے نہ اس کا ضمان ہوتا ہے، یہ ایک نیکی ہے البتہ اگر استعمال کرنے والا معاہدہ کی مخالفت کرے تو ضمان ہوگا۔
(۲۰۹۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : الْعَارِیَّۃُ لَیْسَتْ ببَیْعٍ ، وَلاَ مَضْمُونَۃً ، إنَّمَا ہُوَ مَعْرُوفٌ إلاَّ أَنْ یُخَالِفَ فَیُضَمَّنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٢) حضرت ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے گھوڑا عاریہ پر لیا، اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تو گھوڑا مرگیا ؟ انھوں نے فرمایا کہ ضمان نہیں ہوگا، کیونکہ آدمی گھوڑے کو ایڑ لگایا کرتا ہے۔
(۲۰۹۳۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ اسْتَعَارَ مِنْ رَجُلٍ فَرَسًا فَرَکَضَہُ حَتَّی مَاتَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ ضَمَانٌ لأَنَّ الرَّجُلَ یَرْکُضُ فَرَسَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٣) حضرت مسروق عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
(۲۰۹۳۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّہُ کَانَ یُضَمِّنُ الْعَارِیَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے جانور مانگ کر کرایہ پردے دیا تو ضامن ہوگا۔
(۲۰۹۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عن مبارک عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا اسْتَعَارَ دَابَّۃً فَأَکْرَاہَا ضَمِنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٥) حضرت عبداللہ بن صفوان کی اولاد کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفوان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے بھاگ گئے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف آدمی بھیجا، انھیں امان دیا اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی طرف جارہے تھے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے صفوان تمہارے پاس ہتھیار ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ عاریہ کے طور پر چاہیے یا غصب کے طور پر، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عاریہ کے طور پر، پس حضرت صفوان نے تیس زرہیں بطور عاریہ کے پیش کردیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی لڑائی لڑی، جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو حضرت صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں، چند زرہیں کم تھی، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے صفوان ! ہم نے تمہاری کچھ زرہیں کھو دی ہیں، کیا ہم آپ کے لیے ان کی متبادل زرہوں کا انتظام کردیں ؟ حضرت صفوان نے فرمایا کہ نہیں اے اللہ کے رسول ! جو چیز میرے دل میں آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
(۲۰۹۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ ہَرَبَ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فأمَّنَہُ وَأَسْلَمَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ حُنَیْنًا فَقَالَ : یَا صَفْوَانُ ، ہَلْ لَکَ مِنْ سِلاَحٍ ؟ قَالَ : عَارِیَّۃً أَمْ غَصْبًا؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ عَارِیَّۃً ، فَأَعَارَہُ مَا بَیْنَ الثَّلاَثِینَ إلَی الأَرْبَعِینَ دِرْعًا ، وَغَزَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُنَیْنًا ، فَلَمَّا ہَزَمَ المُشرکین جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ ، فَفَقَدَ مِنْہَا أَدْرَاعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا صَفْوَانُ ، إنَّا فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِکَ أَدْرَاعًا فَہَلْ نَغْرَمُ لَکَ ؟ فَقَالَ : لاَ یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إنَّ فِی قَلْبِی الْیَوْمَ مَا لَمْ یَکُنْ۔ (ابوداؤد ۳۵۵۸۔ احمد ۳/۴۰۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان کبھی مقرر نہیں کیا، سوائے اس کے کہ ایک عورت نے ایک انگوٹھی عاریہ پر لی، اسے غسل خانے میں رکھا تو وہ انگوٹھی کھو گئی، حضرت شریح نے اس کا ضمان لازم کیا۔
(۲۰۹۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا ضَمَّنَ شُرَیْحٌ عَارِیَّۃً إلاَّ امْرَأَۃً اسْتَعَارَتْ خَاتَمًا فَوَضَعَتْہُ فِی مَغْسَلِہَا فَحَلَّتْ فَضَمَّنَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٧) حضرت شریح عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
(۲۰۹۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ یُضَمِّنُ الْعَارِیَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٨) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت شریح عاریہ اور امانت کا ضمان لازم نہیں کرتے تھے، پھر انھیں زیاد نے ایسا کرنے کا حکم دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ پھر وہ کیا کرتے تھے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا کہ پھر وہ موت تک ضمان لازم ہونے کا فیصلہ کرتے رہے۔
(۲۰۹۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ لاَ یُضَمِّنُ الْعَارِیَّۃَ وَالْوَدِیعَۃَ حَتَّی أَمَرَہُ زِیَادٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : فَکَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ ؟ قَالَ : مَا زَالَ یُضَمِّنُہَا حَتَّی مَاتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٣٩) حضرت عبد الرحمن بن سائب کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے سے اونٹ عاریہ پر لیا، وہ اونٹ ہلاک ہوگیا تو مروان نے اس بارے میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا، انھوں نے اس پر ضمان کو لازم قرار دیا۔
(۲۰۹۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِب ، أَنَّ رَجُلاً اسْتَعَارَ مِنْ رَجُلٍ بَعِیرًا فَعَطِبَ الْبَعِیرُ فَسَأَلَ مَرْوَانُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ : یَضْمَنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٤٠) حضرت ابو امامہ باہلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ عاریہ اس کے مالک کی طرف بغیر ضمان کے لوٹایا جائے گا، قرضہ اس کے مالک کی طرف بغیر ضمان کے لوٹایا جائے گا اور کفیل ضامن ہوگا۔
(۲۰۹۴۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : الْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ ، وَالدَّیْنُ مُؤَدًّی ، وَالزَّعِیمُ غَارِمٌ یَعْنِی الْکَفِیلَ۔ (ترمذی ۱۲۶۵۔ ابوداؤد ۴۵۶۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
(٢٠٩٤١) حضرت سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہاتھ نے جو لیا وہ اس پر لازم ہے جب تک واپس نہ کردے۔
(۲۰۹۴۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عَلَی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّی تُؤَدِّیَہُ۔ (ابوداؤد ۳۵۵۶۔ احمد ۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے
(٢٠٩٤٢) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
(۲۰۹۴۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے
(٢٠٩٤٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
(۲۰۹۴۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ کِتَابَتِہِ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے
(٢٠٩٤٤) حضرت زید فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
(۲۰۹۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ زَیْدٍ، قَالَ : قَالَ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے
(٢٠٩٤٥) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
(۲۰۹۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو خالد الأحمر ، عن ابن أبی عروبۃ ، عن قتادۃ ، عن معبد الجہنی ، عن عمر ، قَالَ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے
(٢٠٩٤٦) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
(۲۰۹۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التیمی ، عن رجل ، قَالَ : قَالَ عمر : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক: