মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৪৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اگر غلام کو تصرف ( تجارت) وغیرہ کرنے سے روک دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٤٦٧) حضرت بکار العنزی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو تجارت سے روک دیا، وہ حضرت علی (رض) کے پاس معاملہ لے گیا، حضرت علی (رض) نے مالک سے دریافت کیا کہ کیا تو اسے درہم دے کر گوشت وغیرہ لینے بھیجتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، یہ سن کر آپ نے اس غلام کو تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
(۲۱۴۶۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ بَکَّارٍ الْعَنَزیِّ ، أَنَّ رَجُلاً حَجَرَ عَلَی غُلاَمٍ لَہُ فَرُفِعَ إلَی عَلِیٍّ فَقَالَ : کُنْت تُرْسِلُہُ بِدِرْہَمٍ یَشْتَرِی بِہِ لَحْمًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَجَعَلَہُ مَأْذُونًا لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات آزاد شخص کو تجارت سے روکنے کو ناپسند کرتے ہیں اور جو حضرات اُس کی اجازت دیتے ہیں
(٢١٤٦٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ آزاد شخص کو تجارت سے نہیں روکا جائے گا۔
(۲۱۴۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ یُحْجَرُ عَلَی حُرٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات آزاد شخص کو تجارت سے روکنے کو ناپسند کرتے ہیں اور جو حضرات اُس کی اجازت دیتے ہیں
(٢١٤٦٩) حضرت حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح (رض) کے پاس حاضر تھا ایک شخص آیا اس کے ساتھ اس کا بھتیجا تھا جس کے خلاف وہ مدد چا ہ رہا تھا، اس شخص نے عرض کیا کہ یہ میرا بھتیجا نشہ آور اشیاء بہت کھاتا ہے (اس کا اشارہ شراب کی طرف تھا) حضرت شریح (رض) نے فرمایا اس کا جیب خرچ روک دے اور اس پر اچھے طریقے سے خرچ کر، حضرت حصین (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے بھتیجے کی داڑھی کے بال آ چکے تھے۔
(۲۱۴۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : شَہِدْت شُرَیْحًا وَأَتَاہُ رَجُلٌ ، مَعَہُ ابْنُ أَخِیہِ قَدَ اسْتَعْدَی عَلَیْہِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إنَّ ابْنَ أَخِی یُکْثِرُ أَکْلَ السَّکَرَ ، یُعرِّضُ بِالشَّرَابِ ، قَالَ شُرَیْحٌ : أَمْسِکْ عَلَیْہِ مَالَہُ ، وَأَنْفِقْ عَلَیْہِ بِالْمَعْرُوفِ ، قَالَ : وَکَانَ ابْنُ أَخِیہِ قَدْ خَرَجَتْ لِحْیَتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات آزاد شخص کو تجارت سے روکنے کو ناپسند کرتے ہیں اور جو حضرات اُس کی اجازت دیتے ہیں
(٢١٤٧٠) حضرت عبد الملک بن مغیرۃ (رض) سے مروی ہے کہ نجدۃ نے حضرت ابن عباس (رض) کو لکھا اور دریافت کیا کہ وہ بوڑھا شخص جس کی عقل زائل ہوچکی ہو یا ناسمجھ ہوچکا ہو، ( اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ (رض) نے اس کو لکھا کہ جب اس کی عقل زائل ہوجائے یا وہ ناسمجھ ہوجائے تو اس کو تجارت وغیرہ سے روک دیا جائے گا۔
(۲۱۴۷۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ، قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنِ الشَّیْخِ الْکَبِیرِ الَّذِی قَدْ ذَہَبَ عَقْلُہُ ، أَوْ أَنْکَرَ عَقْلُہُ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ : إذَا ذَہَبَ عَقْلُہُ ، أَوْ أَنْکَرَ عَقْلُہُ حُجِرَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات آزاد شخص کو تجارت سے روکنے کو ناپسند کرتے ہیں اور جو حضرات اُس کی اجازت دیتے ہیں
(٢١٤٧١) حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۱۴۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوًا مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ( غلام اور باندی کو) حماقت کی وجہ سے واپس کیا جائے گا
(٢١٤٧٢) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ حماقت کی وجہ سے ( باندی یا غلام کو ) واپس کردیا جائے گا۔
(۲۱۴۷۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَرُدُّ مِنَ الْحُمْقِ الْبَات۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ( غلام اور باندی کو) حماقت کی وجہ سے واپس کیا جائے گا
(٢١٤٧٣) حضرت زید ابو المعلّی (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ایاس بن معاویہ (رض) کے پاس حاضر تھا، اس کے پاس ایک باندی کا جھگڑا لایا گیا، ایک شخص نے کہا کہ میں نے اِ س سے باندی خریدی تھی یہ تو احمق ہے، دوسرے نے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم کہ حماقت کی وجہ سے واپس لوٹایا جائے گا، اس شخص نے عرض کیا کہ حماقت بھی تو جنون کی طرح ہے، آپ (رض) نے اس خاتون (باندی) سے فارسی میں دریافت کیا کہ تجھے وہ رات یاد ہے جس میں تو پیدا ہوئی تھی ؟ اس نے کہا کہ ہاں، آپ (رض) نے اس سے پوچھا کہ تیری کون سی ٹانگ لمبی ہے ؟ اس نے ایک ٹانگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ، پس اس کو واپس پہلے مالک کی طرف لوٹا دیا گیا۔
(۲۱۴۷۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَیْدٍ أَبِی الْمُعَلَّی ، مَوْلًی لِبَنِی تَمِیمٍ ، قَالَ : شَہِدْت إیَاسَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ واخْتُصِمَ إلَیْہِ فِی جَارِیَۃٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إنِّی اشْتَرَیْت مِنْ ہَذَا جَارِیَۃً فَوَجَدْتُہَا حَمْقَائَ ! قَالَ : مَا أَعْلَمُہُ یُرَدُّ مِنَ الْحُمْقِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ حُمْقٌ کَالْجُنُونِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہَا بِالْفَارِسِیَّۃِ : تَذْکُرِینَ لَیْلَۃَ وُلِدْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقَالَ لَہَا : أَیَّ رِجْلَیْکِ أَطْوَلَ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ بِإحدَی رِجْلَیْہَا : ہَذہ ، قَالَ : فَرَدَّہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ( غلام اور باندی کو) حماقت کی وجہ سے واپس کیا جائے گا
(٢١٤٧٤) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ معمولی حماقت ونادانی کی وجہ سے واپس نہیں کیا جائے گا، ہاں البتہ اگر حماقت پاگل پن جیسی ہو تو اسے واپس کردیا جائے گا۔
(۲۱۴۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ فِی الْہَوَجِ ، قَالَ : لاَ یُرَدُّ مِنْہُ إلاَّ أَنْ یَکُونَ شَیْئًا مَعْرُوفًا۔ یَعْنِی : حُمْقًا مَعْرُوفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام خریدے، پھر اس کے آدھے سر کو گنجا پائے یا گنجے پن کی بیماری میں مبتلا پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٤٧٥) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ گنجے پن کی وجہ سے غلام کو واپس کیا جائے گا۔
(۲۱۴۷۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ شَیْخٍ مِنَ الزَّعَافِرِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَرُدُّ مِنَ الصَّلَعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام خریدے، پھر اس کے آدھے سر کو گنجا پائے یا گنجے پن کی بیماری میں مبتلا پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٤٧٦) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا پھر جب وہ اس کو لے کر گیا تو وہ گنجا تھا، وہ شخص اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے حضرت شریح (رض) کے پاس آیا ، اور عرض کیا کہ میں نے اس سے غلام خریدا تھا یہ تو گنجا ہے آپ اس کے گنجے پن کو دیکھئے، یہ گنجا پن کوئی نیا نہیں ہے۔ حضرت شریح (رض) نے فرمایا : میں یہ نہیں کرسکتا کہ فیصلہ بھی کروں اور گواہ بھی بنوں، میرے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی دکھا دو ، پھر ان کے ساتھ میرے پاس آؤ تاکہ وہ تمہارے حق میں گواہی دیں وگرنہ بیچنے والا قسم اٹھائے گا کہ اس نے گنجے پن کے ساتھ نہیں بیچا تھا۔
(۲۱۴۷۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ غُلاَمًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ بِہِ إذَا بِہِ قَرَعٌ ، فَخَاصَمَ صَاحِبَہُ إلَی شُرَیْحٍ ، قَالَ : فَقَالَ : إنِّی اشْتَرَیْت مِنْ ہَذَا ہَذَا الْغُلاَمَ وَبِہِ قَرَعٌ ، فَانْظُرْ إلَی قَرَعِہِ فَإِنَّ الْقَرَعَ لاَ یَحْدُثُ ، قَالَ : فَقَالَ شُرَیْحٌ : لاَ أَجْمَعُ أَنْ أَکُونَ قَاضِیًا وَشَاہِدًا ، أَرِہِ غَیْرِی ، ثُمَّ ائْتِنِی بِہِمْ فَلْیَشْہَدُوا لَکَ ، وَإِلاَّ فَیَمِینُہُ بِاللَّہِ : مَا بَاعَکَہُ وَبِہِ ہَذَا الْقَرَعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٧٧) حضرت ابن عمر اور حضرت زید بن ثابت نے راشن کی پرچیاں خریدنے کو جائز قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قبضہ سے پہلے نہ بیچو۔
(۲۱۴۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا بِشِرَاء الرَّزْقِ إذَا خَرَجَت الْقُطُوطُ ، وَہِیَ : الصِّکَاکُ ، وَیَقُولُونَ : لاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٧٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حکیم بن حزام راشن کی پرچیوں کو بیچتے تھے تو حضرت عمر (رض) نے انھیں قبضے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
(۲۱۴۷۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : نُبِّئْت ، أَنَّ حَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ کَانَ یَشْتَرِی صِکاک الرَّزْقِ ، فَنَہَی عُمَرُ أَنْ یَبِیعَ حَتَّی یَقْبِضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٧٩) حضرت عمر (رض) سے یونہی منقول ہے۔
(۲۱۴۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٨٠) حضرت عامر سے راشن کی فروخت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں لیکن قبضے سے پہلے نہ بیچو۔
(۲۱۴۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ بَیْعِ الرّزْقِ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ، وَلَکِنْ لاَ یَبِیعَہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٨١) حضرت محمد نے راشن کی پرچیاں نکلنے کے بعد اس کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۲۱۴۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ الرزقِ إِذَا خَرَجَتِ الصِّکَاکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٨٢) حضرت حسن نے اسے مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس میں برابری نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اسلاف جریب کے ذریعے ماپتے تھے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مقررہ پیمانے کو مقررہ مدت تک کے لیے خریدو۔
(۲۱۴۸۲) حَدَّثَنَا عبد الأعلی ، عن ہشام ، عن الحسن : أنہ کان یکرہہ ویقول : إنہ لاَ یجیء سواء ، ویقول: إنہم یکیلون بالجریب ، ویقول : اشتر کیلا مسمی إلی أجل مسمی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٨٣) حضرت ابراہیم نے پرچی کے حصول تک راشن کی بیع کو مکروہ کہا ہے۔
(۲۱۴۸۳) حَدَّثَنَا وکیع ، عن سفیان ، عن سلم بن عبد الرحمن ، عن الحارث ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أنہ کرہ بیع الرزق حتی یقبض الصک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ راشن کی پرچیوں کو فروخت کرنے کا بیان
(٢١٤٨٤) حضرت زہری نے قبضہ تک راشن کی بیع کو مکروہ کہا ہے۔
(۲۱۴۸۴) حَدَّثَنَا وکیع ، عن سفیان ، عن معمر ، عن الزہری ، أنہ کرہ بیع الرزق حتی یقبضہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے کوئی ایک اُس غلام کو مکاتب بنا لے
(٢١٤٨٥) حضرت حسن (رض) اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک اس کو مکاتب بنا لے، تو اس شخص سے لے لیا جائے گا جو وہ مکاتب غلام سے وصول کرے اور وہ مال تینوں شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا، اور غلام تینوں کی ملکیت میں رہے گا اس کا مکاتب بنانا جائز نہیں ہے۔
(۲۱۴۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی عَبْدٍ بَیْنَ ثَلاَثَۃٍ کَاتَبَہُ أَحَدُہُمْ ، قَالَ : یُؤْخَذُ مِنْہُ مَا أَخَذَ مِنْہُ فَیُقْسَمُ بَیْنَ شُرَکَائِہِ ، وَالْعَبْدُ بَیْنَہُمْ ، لاَ تَجُوزُ کِتَابَتُہُ۔ قال: وکان عطاء یقول : علیہ نفاذ عتقہ کما یکون علی الذی أعتق۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے کوئی ایک اُس غلام کو مکاتب بنا لے
(٢١٤٨٦) حضرت سعید بن المسیب (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک مکاتب تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہے، ان میں سے بعض نے اس کو کتابت سے علیحدہ کردیا اور بعض نے مال کتابت وصول کیا اور علیحدہ نہ کیا، وہ مکاتب غلام فوت ہوگیا اور اس نے ترکہ میں بہت سے مال چھوڑا، تو اس کا ترکہ کس کو ملے گا ؟ حضرت سعید بن المسیب (رض) نے فرمایا : جنہوں نے مکاتب بنایا تھا ان کو بقیہ مال کتابت دیا جائے گا پھر جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان مشترک ہوگا۔
(۲۱۴۸۶) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ أُنَیْسِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ مُکَاتَبٍ کَانَ بَیْنَ ثَلاَثَۃٍ قَاطَعَہُ بَعْضُہُمْ وَتَمَسَّکَ بَعْضُہُمْ بِکِتَابَتِہِ فَلَمْ یُقَاطِعْہُ ، وَمَاتَ الْمُکَاتَبُ وَتَرَکَ مَالاً کَثِیرًا ، لِمَنْ ترکتُہ ؟ قَالَ : فَقَالَ : سَعِید بْنَ الْمُسَیَّبِ : یستوفی الَّذِینَ تَمَسَّکُوا بَقِیَّۃَ کِتَابَتِہِمْ ، ثُمَّ یَکُونُ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمْ۔
তাহকীক: