মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৫০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٠٧) حضرت ابن سیرین (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتے ہوئے جانور فروخت کرتا ہے کہ میں فلاں عیب سے بری ہوں، فلاں عیب سے بری ہوں اور گنجے پن کی بیماری سے بھی بری ہو، آپ نے فرمایا جن عیوب کا وہ نام لے گا صرف ان عیوب سے بری ہوگا۔
(۲۱۵۰۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ الدَّابَّۃَ وَیَقُولُ : أَبْرَأُ مِنْ کَذَا ، أَبْرَأُ مِنْ کَذَا ، أَبْرَأُ مِنَ الْجَرْدِ ، قَالَ : لاَ ، وقَالَ : لاَ یَبْرَأُ إلاَّ مِنْ شَیْئٍ یُسَمِّیہِ وَیُریہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٠٨) حضرت دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) سے عرض کیا : مبیع فروخت کرنا یہ کہتے ہوئے کہ میں پھنسیوں سے، زخموں سے، ہاتھ اور پاؤں کے آبلوں سے اور ظاہر و باطن کے ہر عیب سے بری ہوں، یہ کہنا کیسا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ تو بری نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہہ دے کہ اس آنکھ کے عیب سے اور اس چیز کے عیب سے بری ہوں، اگر ایسا نہ کہے تو مبیع کو تجھے واپس کیا جائے گا۔
(۲۱۵۰۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دِینَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: أَبِیعُ السِّلْعَۃَ وَأَتَبرأ مِنَ الْقُرُوحِ وَالْجُرُوحِ والنفائغ وَالْبَاطِنِ وَالظَّاہِرِ ، فَقَالَ : لاَ تُبْرَأُ حَتَّی تَقُولَ : فِی ہَذہ الْعَیْنِ کَذَا ، وَہَذَا کَذَا ، وَإِلاَّ رُدَّ عَلَیْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٠٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک تمام عیوب کے نام نہ لے لے اور ان پر ہاتھ نہ رکھ کر بتادے وہ بری نہ ہوگا۔
(۲۱۵۰۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ یَبْرَأُ مِنَ الْعَیْبِ حَتَّی یُسَمِّیَہُ وَیَضَعَ یَدَہ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥١٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ صرف نام لینے سے بھی وہ بری ہوجائے گا، اگرچہ عیوب پر ہاتھ نہ بھی رکھے۔
(۲۱۵۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إسْمَاعِیلَ الأَزْرَقِ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: إذَا سمَّی بَرِئَ، وَإِنْ لَمْ یَضَعْ یَدَہُ عَلَی الْعَیْبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥١١) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک وہ عیوب پر ہاتھ نہ رکھے بری نہ ہوگا۔
(۲۱۵۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ شُرَیْحٍ، قَالَ: لاَ یَبْرَأُ حَتَّی یَضَعَ یَدَہ عَلَیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥١٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں گوشت چٹائی پر رکھ کر فروخت کروں گا، یا میں تجھے وہ چیز فروخت کروں گا جو زمین سے نکلے، اگر وہ عیوب کا نام لے لے تو بری ہوجائے گا۔
(۲۱۵۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا قَالَ : أَبِیعُک لَحْمًا عَلَی بَارِیۃِ أَبِیعُک مَا أَقَلَّتِ الأَرْضُ ، قَالَ : إذَا سَمَّی بَرِئَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اجیر کو اجرت بتائے بغیر اُس سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے ہیں
(٢١٥١٣) حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابو سعید (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدور کو اجرت پر لائے تو اس کو چاہیے کہ اس کی اجرت اس کو بتادے۔
(۲۱۵۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَأَبِی سَعِیدٍ ، قَالاَ : مَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَلْیُعْلِمْہُ أَجْرَہُ۔ (عبدالرزاق ۱۵۰۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اجیر کو اجرت بتائے بغیر اُس سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے ہیں
(٢١٥١٤) حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدور کو اجرت پر لائے تو اس کو چاہیے کہ اس کی اجرت اس کو بتادے۔
(۲۱۵۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سَہْلٍ السَّرَّاجِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : مَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَلْیُبَیِّنْ لَہُ أَجْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اجیر کو اجرت بتائے بغیر اُس سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے ہیں
(٢١٥١٥) حضرت ابراہیم اور حضرت ابن سیرین (رض) اجرت بتائے بغیر مزدور سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے تھے۔
(۲۱۵۱۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمَ وَحَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُسْتَعْمِلَ الأَجِیرَ حَتَّی یُبَیَّنَ لَہُ أَجْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اجیر کو اجرت بتائے بغیر اُس سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے ہیں
(٢١٥١٦) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو ناپسند خیال کرتے تھے کہ مزدور سے کام لیا جائے اور اس کو اجرت معلوم نہ ہو۔ جب تک اس کو اجرت نہ بتادے اس سے کام نہ لے۔
(۲۱۵۱۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُسْتَعْمِلَ الأَجِیرَ مَا لاَ یَدْرِی مَا ہُوَ ، إلاَّ أَنْ یَکُونَ شَیْئًا مَعْلُومًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اجیر کو اجرت بتائے بغیر اُس سے کام لینے کو ناپسند خیال کرتے ہیں
(٢١٥١٧) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ مزدور کو اجرت پر نہ لائے مگر اس کو اجرت بتا کر جو کہ معلوم ہو۔
(۲۱۵۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لاَ یُسْتَأْجَرُ الأَجِیرُ إلاَّ بِأَفْرَاقٍ مَعْلُومَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائے
(٢١٥١٨) حضرت حکم (رض) سے مروی ہے کہ کوئی شخص باندی خریدے اور بائع اس کو کہے کہ جب تک اس کو حیض نہ آجائے میں تیرے سپرد نہ کروں گا وہ کسی عادل اور امین شخص کے سپرد کردی گئی اور فوت ہوگئی،۔ آپ (رض) نے فرمایا وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگئی۔ ( نقصان بائع کا شمار ہوگا) ۔
(۲۱۵۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الْجَارِیَۃَ فَیَقُولُ الْبَائِعُ : لاَ أَدْفَعُہَا إلَیْک حَتَّی تَحِیضَ ، فَوُضِعَتْ عَلَی یَدَیْ عَدْلٍ فَمَاتَتْ ، فَقَالَ : ہِیَ مِنْ مَالُ الْبَائِعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائے
(٢١٥١٩) حضرت عامر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس کا خیال تھا کہ یہ باندی حاملہ ہے، جبکہ بائع نے اس کا انکار کیا، باندی عادل شخص کے سپرد کردی گئی یہاں تک کہ اس کا حمل ظاہر ہوا وہ مرگئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگی اور اگر حمل ظاہر نہ ہوا تو مشتری کے مال میں سے ہلاک ہوگی۔
(۲۱۵۱۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً فَزَعَمَ أَنَّہَا حُبْلَی ، فَأَنْکَرَ الَّذِی بَاعَہَا فَوَضَعُوا الْجَارِیَۃَ عَلَی یَدَیْ عَدْلٍ حَتَّی یَتَبَیَّنَ حَمْلُہَا فَمَاتَتْ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ تَبَیَّنْ حَمْلُہَا فَہِیَ مِنْ مَالِ الْبَائِعِ ، وإنْ لَمْ یَکُنْ تَبَیَّنْ حَمْلُہَا فَہِیَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائے
(٢١٥٢٠) حضرت عامر اور حضرت حکم (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس میں عیب نکل آئے اور اس کو کسی عادل کے سپرد کردیا گیا، پھر وہ باندی مرگئی، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ دونوں نے فرمایا کہ وہ بائع کے مال میں ہلاک ہوگی۔
(۲۱۵۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ وَالْحَکَمِ فِی رَجُلٍ بَاعَ من رجل جَارِیَۃً فَظَفِرَ بِعَیْبٍ، فَوَضَعَاہَا عَلَی یَدَیْ عَدْلٍ فَمَاتَتْ ، قَالاَ : ہِیَ مِنْ مَالِ الْبَائِعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢١) حضرت حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں عباس بن تمام کی شادی میں شریک تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت عکرمہ بھی تھے۔ کچھ لوگ بادام اور شیرینی وغیرہ لائے تاکہ اسے بکھیریں اور لوگوں کی طرف اچھا لیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ یہ چیزیں پلیٹوں میں لاؤ تاکہ ہم اپنی ضرورت کے مطابق لے لیں۔
(۲۱۵۲۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : شَہِدْت مِلاَکَ عَبَّاسِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَمَعَنَا عِکْرِمَۃُ ، فَجَاؤُوا بِاللَّوْزِ وَالسُّکّرِ لِیَنْثُرُوہُ فَقَالَ : عِکْرِمَۃُ : ائْتُونَا بِہِ عَلَی الأَطْبَاقِ ، فَلْنَأْخُذْ مِنْہُ حَاجَتَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ شادیوں اور ولیموں وغیرہ میں شیرینی وغیرہ بکھیرنے اور ایک دوسرے سے چھین کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۵۲۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالنَّہاب فِی الْعُرُسَاتِ وَالْوَلاَئِمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢٣) حضرت ابن سیرین (رض) پسند فرماتے تھے کہ شرینی وغیرہ کو پلیٹوں میں لایا جائے تاکہ اس میں سے لوگ بقدر حاجت لے لیں۔
(۲۱۵۲۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُ کَانَ یُحِبُّ أَنْ یُؤْتَی بِہِ عَلَی الأَطْبَاقِ فَیَنَالُونَ مِنْہُ حَاجَتَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢٤) حضرت شعبی (رض) بھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
(۲۱۵۲۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اس میں سے بچے اٹھا لیتے ہیں۔
(۲۱۵۲۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ إبراہیم ، أنہ قَالَ : یأخذہ الصبیان۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شادی میں بادام اور شیرینی تقسیم کرنا
(٢١٥٢٦) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی (رض) کو ایک شادی میں بلایا گیا، اس شادی میں لوگ لٹانے کے لیے شیرینی لے کر آئے، آپ (رض) نے فرمایا کہ یہ شیرینی ان کے درمیان تقسیم کردو۔
(۲۱۵۲۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : دُعی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی إلَی عُرْسٍ ، فَجَاؤُوا بِسُکّرٍ لِیَنْثُرُوہُ فَقَالَ : أَقْسِمُوہُ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক: