মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৭৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٦٧) حضرت عدی بن فضیل (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کنویں کی کھدوائی کی درخواست کی۔ انھوں نے فرمایا اس کا احاطہ پچاس ذراع لکھ لو، اور اس میں صرف مسلمان کا حق نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس کو نقصان پہنچائے گا، اور مسافر اس سے پینے کا زیادہ حق دار ہوگا۔
(۲۱۷۶۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ الْفُضَیْلِ ، قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَاسْتَحْفَرْتُہُ بِئْرًا ، قَالَ : اُکْتُبْ حَرِیمُہَا خَمْسِینَ ذِرَاعًا وَلَیْسَ لَہُ حَقُّ مُسْلِمٍ ، وَلاَ یَضُرُّہُ ، وَابْنُ السَّبِیلِ أَوْلَی مَنْ یَشْرَبُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٦٨) حضرت محمد بن اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم (رض) سے کنویں کے احاطہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں اس کے ارد گرد کے لیے پچاس ذراع ہوتا تھا، دو کنوؤں کے درمیان سو ہوتا تھا، جب اسلام کا دور آیا تو دیکھا گیا کہ اس سے کم بھی کافی ہوجاتا ہے، پھر ہر کنویں کے لیے پچیس ذراع بنایا گیا ، اس کے ارد گرد کے لیے پچاس ذراع۔
(۲۱۷۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا بَکْرٍ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنِ الأَعْطَانِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ فَکَانَتْ خَمْسِینَ ذِرَاعًا لِنَاحِیَتِہَا یَکُونُ بَیْنَ الْبِئْرَیْنِ مِئَۃ ، فَلَمَّا کَانَ الإِسْلاَمُ رَأَوْا ، أَنَّ دُونَ ذَلِکَ مُجْزِئٌ ، فَجُعِلَ لِکُلِّ بِئْرٍ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا لِنَاحِیَتیہَا خَمْسُونَ ذِرَاعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٦٩) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ کنویں کا احاطہ ( منڈیر) سارا کا سارا چالیس ذراع کا ہوگا۔ کسی کو اس کی جگہ اور پانی پر قبضہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
(۲۱۷۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حرِیمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا کُلُّہَا ، لَیْسَ لأَِحَدٍ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہِ فِی عَطَنِہِ ، وَلاَ مَائِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٠) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ جو کنواں دور اسلام میں کھودا جائے اس کا احاطہ پچیس ذراع ہوگا، اور پورے کھودے ہوئے کنویں کا پچاس ذراع اور کھیتی باڑی والے کنویں کا تین سو ذراع ہوگا۔ حضرت امام زہری (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ چشمے والے کنویں کا چھ سو ذراع ہوگا۔
(۲۱۷۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃ ، قَالَ : حرِیمُ الْبَدِیء خَمْسَۃٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا ، وَحَرِیمُ الْعَادِیَّۃِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا ، وحرِیمُ الزَّرع۔

قَالَ الزُّہْرِیُّ : وَبَلَغَنِی ، أَنَّ حَرِیمَ الْعَیْنِ ستمِئَۃِ ذِرَاعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ کنویں کا منڈیر چالیس ذراع ہے۔
(۲۱۷۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ۔ وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : حَرِیمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٢) حضرت سعید بن المسیب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کنواں دور اسلام میں کھودا جائے اس کی منڈیر پچیس ذراع ہوگی، اور پرانے کنویں کی پچاس ذراع ہوگی، حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ بئر الذھب کی تین سو ذراع ہوگی۔
(۲۱۷۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : حَرِیمُ بِئْرِ الْبَدِیء خَمْس وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا ، وَحَرِیمُ الْبِئْرِ الْعَادِیَّۃِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا ، قَالَ سَعِیدٌ ، وَحَرِیمُ بِئْرِ الذَّہَبِ ثَلاَثُ مِئَۃِ ذِرَاعٍ۔ (ابوداؤد ۴۰۲۔ حاکم ۹۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٣) حضرت بلال بن یحییٰ العیسی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین چیزوں کے علاوہ کے لیے احاطہ کرنا نہیں ہے : کنویں کا احاطہ، مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا احاطہ۔ (تیسری چیز یہاں مذکور نہیں لیکن حدیث کی دوسری کتابوں میں ہے اور وہ ہے : طول الفرس، یعنی جہاں آدمی گھوڑا باندھے اس جگہ کا احاطہ)
(۲۱۷۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعدِ بْنِ أَوْسٍ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ یَحْیَی الْعَبْسِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ حِمَی إلاَّ فِی ثَلاَث : ثَلَّۃُ الْقَلِیبِ۔ یَعْنِی حَرِیمَ الْبِئْرِ وَحَلْقَۃَ الْقَوْمِ۔ (بیہقی ۱۵۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٤) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ السُّکَرِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَبَّرَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ غُلاَمًا لَہَا ، ثُمَّ أَرَادَتْ أَنْ تُکَاتِبَہُ ، فَکَتَبَ الرَّسُولُ إلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؟ فَقَالَ : کَاتِبْیہ ، فَإِنْ أَدَّی مُکَاتَبَتَہُ فَذَاکَ ، وَإِنْ حَدَثَ بِکْ حَدَثٌ عَتَقَ ، قَالَ : وَأَرَاہُ مَا کَانَ عَلَیْہِ لَہ۔ (بیہقی ٣١٤)
کوئی شخص اپنے مدبر غلام کو مکاتب بنا لے پھر وہ فوت ہو جائے جبکہ مکاتب پر بدل کتابت میں سے کچھ ابھی باقی ہو، تو کیا حکم ہے؟
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٥) حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مدبر غلام کی خدمت کو فروخت کر دے تو جو کچھ اس کا آقا وصول کرچکا ہے، وہ اس کا شمار ہوگا اور جو باقی رہ گیا ہے وہ غلام پر لازم نہ ہوگا۔
(۲۱۷۷۵) حَدَّثَنَا عَبَّادُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ مُدَبَّرہ خِدْمَتُہُ ، قَالَ : مَا أَخَذَ سَیِّدُہُ فَہُوَ لَہُ ، وَمَا بَقِیَ فَلاَ شَیْئَ لہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٦) حضرت ابن مسعود (رض) سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں اس کا اضافہ ہے کہ جب تمہارا ساتھی مرجائے تو پھر تمہارے لیے کچھ نہیں ہے۔
(۲۱۷۷۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمِثْلِ حَدِیثِ عَبَّادٍ ، إلأَ أَنَّہُ قَالَ : لاَ شَیْئَ لَکُمْ إذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٧) حضرت داؤد بن حریث فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح (رض) کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔
(۲۱۷۷۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی دَاوُد بْنُ حُرَیْثٍ ، قَالَ : شَہِدْت شُرَیْحًا قَضَی بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جو باقی اس کے ذمہ رہ گیا ہے وہ بھی اس سے وصول کرے گا۔
(۲۱۷۷۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : یُؤْخَذُ منْہُ مَا بَقِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٧٩) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو فروخت نہ کرے مگر اس کے نفس کے بدلے میں۔
(۲۱۷۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ أَیُّوبَ وَہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : لاَ یُبَاعُ الْمُدَبَّرُ إلاَّ مِنْ نَفْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٨٠) حضرت ابن سیرین (رض) مدبر غلام کی بیع کو ناپسند کرتے تھے، اور مدبر غلام کو مکاتب بنانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۱۷۸۰) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَہُ ، وَلاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُکَاتِبَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنویں کی منڈیر ( احاطہ) کتنا ذراع ہو ؟
(٢١٧٨١) حضرت عطا (رض) فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کی خدمت کو فروخت نہ کرے مگر اس کے نفس ( جان) کے بدلے میں۔
(۲۱۷۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ تُبَاعُ خِدْمَۃُ الْمُدَبَّرِ إلاَّ مِنْ نَفْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال مضاربۃ میں دینا
(٢١٧٨٢) حضرت ابن عمر (رض) کی تربیت میں ایک یتیم بچی تھی، آپ نے اس کی شادی کردی اور اس کا مال بطور مضاربت اس کے شوہر کو دے دیا۔
(۲۱۷۸۲) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عن نافع : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ فِی حَجْرِہِ یَتِیمَۃٌ ، فَزَوَّجَہَا ، وَدَفَعَ مَالَہَا إلَی زَوْجِہَا مُضَارَبَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال مضاربۃ میں دینا
(٢١٧٨٣) حضرت حمید اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان کے پاس یتیم کا مال بطور مضاربت بھیجا۔ انھوں نے اس سے تجارت کی اور نفع کمایا، پھر انھوں نے منافع کو تقسیم فرمایا اور اس معاملے الگ الگ ہوگئے ۔
(۲۱۷۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دُفِعَ إلَیْہِ مَالُ یَتِیمٍ مُضَارَبَۃً فَطَلَبَ فِیہِ فَأَصَابَ فَقَاسَمَہُ الْفَضْلُ ، ثُمَّ تَفَرَّقَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال مضاربۃ میں دینا
(٢١٧٨٤) حضرت عمر (رض) کے پاس یتیم کا مال موجود تھا، آپ (رض) نے وہ مال بطور مضاربت بحری تجارت میں دے دیا۔
(۲۱۷۸۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ عِنْدَہُ مَالُ یَتِیمٍ فَأَعْطَاہُ مُضَارَبَۃً فِی الْبَحْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال مضاربۃ میں دینا
(٢١٧٨٥) حضرت حسن (رض) یتیم کے مال کے والی تھے، انھوں نے وہ مال اس کے مولیٰ ( سرپرست) کو (بطور مضاربت ) دے دیا۔
(۲۱۷۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ: أَنَّہُ وَلِیَ مَالَ یَتِیمٍ فَدَفَعَہُ إلَی مَوْلَی لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال مضاربۃ میں دینا
(٢١٧٨٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وصی یتیم کے مال کو کاروبار میں لگائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اگر مال ہلاک ہوجائے تو ضامن ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ نہیں۔
(۲۱۷۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَعْمَلَ الْوَصِیُّ بِمَالِ الْیَتِیمِ ، قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : إِنْ تَوِیَ یَضْمَنُ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক: