মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৮০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی سے غلام اجرت پر لینا
(٢١٨٠٧) حضرت حسن (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو اپنا غلام ایک سال کے لیے اجرت پردے دے پھر وہ دورانِ سال اس غلام کو فروخت کرنے کا ارادہ کرے ، فرمایا اگر وہ چاہے تو اس کو فروخت کرسکتا ہے۔
(۲۱۸۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ آجَرَ غُلاَمَہُ سَنَۃً ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَبِیعَہُ ، قَالَ : یَبِیعُہُ إِنْ شَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی سے غلام اجرت پر لینا
(٢١٨٠٨) حضرت ایاس بن معاویہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو اپنا غلام دوسرے شخص کے پاس بھیجے تاکہ وہ اس کو تعلیم دے، پھر وہ شرط مکمل ہونے سے قبل ہی اس کو وہاں سے نکال لے، تو جو کچھ معلّم نے اس غلام پر خرچ کیا ہے وہ اس کو لوٹایا جائے گا۔
(۲۱۸۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ إیَاسِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ فِی الْغُلاَمِ یَدْفَعُہُ الرَّجُلُ إلَی الرَّجُلِ یُعَلِّمُہُ ، ثُمَّ یُخْرِجُہُ قَبْلَ أَنْ یَنْقَضِیَ شَرْطُہُ ، قَالَ : یُرَدُّ عَلَی مُعَلِّمِہِ مَا أَنْفَقَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی سے غلام اجرت پر لینا
(٢١٨٠٩) حضرت حکم سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے اپنا غلام ایک سال کے لیے اجرت پر دیا ہوا ہے پھر وہ اس کو اس سے نکالنے کا ارادہ کرتا ہے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اس کو واپس نکالنے کی ( اس سے لینے کی ) اجازت نہیں ہے۔ پھر میں نے حضرت حماد سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اس سے نہ لے مگر نقصان سے خلاصی پانے کے لئے۔
(۲۱۸۰۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَأَلْتُہ عَنْ رَجُلٍ آجَرَ غُلاَمَہُ سَنَۃً فَأَرَادَ أَنْ یُخْرِجَہُ ؟ قَالَ : لَہُ أَنْ یَأْخُذَہُ۔

قَالَ : وَسَأَلْت حَمَّادًا ، فَقَالَ : لاَ یَأْخُذُہُ إلاَّ مِنْ مَضَرَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی سے غلام اجرت پر لینا
(٢١٨١٠) حضرت شریح (رض) اور حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنا غلام ایک سال، یا ایک مہینے کے لیے یا کچھ مدت کے لیے کرایہ پردے پھر وہ اس سے غلام واپس لینے کا ارادہ رکھتا ہوں تو وہ واپس لے سکتا ہے۔
(۲۱۸۱۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَی یَذْکُرُ : أَنَّ شُرَیْحًا وَمَسْرُوقًا کَانَا یَقُولاَنِ فِی الرَّجُلِ إذَا آجَرَ الْعَبْدَ سَنَۃً أَوْ شَہْرًا أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ ، ثُمَّ بَدَا لَہُ أَنْ یَأْخُذَ مِنْہُ : فَذَلِکَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا ؟
(٢١٨١١) حضرت ابن ابی نجیع سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس امانت رکھوائی جائے اور وہ اس کو تجارت میں لگا لے ؟ حضرت عطا (رض) نے فرمایا جو منافع حاصل ہو وہ رب المال کو ملے گا، اور حضرت مجاہد (رض) نے فرمایا نہ رب المال کو ملے گا اور نہ ہی امانت دار کو بلکہ وہ مساکین کو ملے گا۔
(۲۱۸۱۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، قَالَ : سَأَلَہُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ رَجُلٍ اسْتَوْدَعَ مَالاً فَتَجَرَ فِیہِ ؟ فَقَالَ : کَانَ عَطَائُ یَقُولُ : مَا کَانَ فِیہِ مِنْ نَمَائٍ فَہُوَ لِرَبِّ الْمَالِ ، وَقَالَ مُجَاہِدٌ : لَیْسَ لِرَبِّ الْمَالِ وَلاَ المُسْتَودَعِ ، وَہُوَ لِلْمَسَاکِینِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا ؟
(٢١٨١٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ امانت کے مال کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کاروبار میں مت لگاؤ، اگر اس سے بغیر اجازت ایسا کیا تو وہ ضامن ہوگا اور جو منافع اس کو حاصل ہوا وہ اسی کا ہوگا۔
(۲۱۸۱۲) حَدَّثَنَا أبو بَکر ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ تُحَرَّکُ الْوَدِیعَۃُ إلاَّ بِإِذْنِ رَبِّہَا ، فَإِنْ فَعَلَ ، فَہُوَ ضَامِنٌ ، وَلَہُ الرِّبْحُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا ؟
(٢١٨١٣) حضرت ابراہیم (رض) امانت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس پر اس وقت ضمان نہیں آئے گا جب تک وہ اس کو اس کی جگہ سے پھیر نہ دے یا اس کو اس کی حالت سے تبدیل نہ کر دے، اگر وہ اس کو اس کی حالت سے تبدیل کر دے اور اس کو کچھ منافع حاصل ہو تو اس کو نفع کو صدقہ کر دے وہ ان میں سے کسی کا نہیں ہوگا۔
(۲۱۸۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الْوَدِیعَۃِ : لاَ ضَمَانَ عَلَیْہِ إلاَّ أَنْ یُحَوِّلَہَا عَنْ مَوْضِعِہَا ، أَوْ یُغَیِّرَہَا عَنْ حَالِہَا ، فَإِنْ ہُوَ غَیَّرَہَا عَنْ مَوْضِعِہَا ، فَکَانَ فِیہِ رِبْحٌ فَإِنَّہُ یَتَصَدَّقُ بِہِ ، وَلَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا ؟
(٢١٨١٤) حضرت ابن عمر (رض) سے یتیم کے مال کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ واپس نہ کردیا جائے وہ مضمون (قابلِ ضمان) رہتا ہے، دریافت کیا گیا کہ اس میں کچھ منافع بھی ہے، فرمایا منافع کے ساتھ جو چاہے کرے لیکن یتیم کا مال جب تک واپس نہ کرے مضمون (قابلِ ضمان) رہے گا۔
(۲۱۸۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ مَالِ الْیَتِیمِ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مَضْمُونٌ حَتَّی یَدْفَعَہُ إلَیْہِ ، قَالَ : إِنَّہُ قَدْ کَانَ فِیہِ فَضْلٌ ، قَالَ : اصْنَعْ بِفَضْلِہِ مَا شِئْت ، ہُوَ مَضْمُونٌ حَتَّی تَدْفَعَہُ إلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا ؟
(٢١٨١٥) حضرت ابراہیم (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کے پاس یتیموں کا مال ہے ، تو کیا وہ اس کو تجارت میں استعمال کرسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا اگر وہ ان کی اجازت کے بغیر کرے تو وہ ضامن ہوگا، اور جو منافع حاصل ہو اس کو صدقہ کرے گا۔
(۲۱۸۱۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی الرَّجُلِ یَکُونُ عِنْدَہُ المَالُ لأَیْتَامِ فَیَعْمَلُ بِہِ ، قَالَ : ہُوَ ضَامِنٌ إذَا عَمِلَ بِغَیْرِ إذْنِہِمْ فَالرِّبْحُ یَتَصَدَّقُ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
(٢١٨١٦) محمد بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ بعض اوقات کوئی شخص کسی کے ساتھ ایک ہزار درہم میں بیع سلم کرتا ہے، اور یوں کہتا ہے کہ اگر تو نے مجھے گندم دیا تو یہ سودا اتنے کا ہوگا اور اگر جُوْ دی تو اتنے میں ہوگا، آپ (رض) نے فرمایا کہ ان میں سے ہر نوع ( قسم) کے لیے الگ قیمت بیان کرے ، اگر اسی قیمت میں مجھے دے دے تو ٹھیک وگرنہ اس سے اپنا راس المال واپس لے لے۔
(۲۱۸۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : رُبَّمَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ إلَی الرَّجُلِ أَلْف درہم وَنَحْوَہَا فَیَقُولُ : إِنْ أَعْطَیْتنِی بُرًّا فَبِکَذَا ، وَإِنْ أَعْطَیْتنِی شَعِیرًا فَبِکَذَا ، قَالَ : سَمِّ فِی کُلِّ نَوْعٍ مِنْہَا وَرِقاً مُسَمَّاۃً ، فَإِنْ أَعْطَاک الَّذِی فِیہِ وَإِلاَّ فَخُذْ رَأْسَ مَالِکِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
(٢١٨١٧) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے کہ جو کچھ تیرے پاس گندم میں سے ہے وہ اتنے کا اور جو کچھ تیرے پاس دانوں میں سے وہ اتنے میں، تو ایسا کرنا ناپسندیدہ ہے۔
(۲۱۸۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : فِی الرَّجُلِ یُسْلِمُ فَیَقُولُ : مَا کَانَ عِنْدَکَ مَنْ حِنْطَۃٍ فَبِکَذَا ، وَمَا کَانَ عِنْدَکَ مِنْ حُبُوبٍ فَبِکَذَا : أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
(٢١٨١٨) حضرت عامر سے گندم اور جُوْ کی بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا کہ جو بھی آسانی سے میسر ہو دے سکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : بیع اس کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ (درست نہیں ہے)
(۲۱۸۱۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی ابْن أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنِ السَّلَمِ فِی الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ أَیُّہُمَا اسْتَیْسَرَ عَلَیْہِ أَعْطَاہُ ؟ قَالَ : لاَ یَصْلُحُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
(٢١٨١٩) حضرت عطا (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص کسی متعین چیز میں متعین وقت کے لیے بیع سلم کرے اگر وہ اس کو اتنی نہ دے سکے تو اتنی مقدار میں کوئی اور متعین چیز دے سکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا یہ درست نہیں ہے۔
(۲۱۸۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ : فِی رَجُلٍ أَسْلَمَ فِی شَیْئٍ مَعْلُومٍ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ ، فَإِنْ لَمْ یَدْفَعْہُ فَکَذَا وَکَذَا لِشَیْئٍ آخَرَ مَعْلُومٍ ، قَالَ : لاَ یَصْلُحُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
(٢١٨٢٠) حضرت حسن (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص یوں کہتے ہوئے سلم کرے کہ اگر گندم ہو تو اتنے میں اور جُوْ ہو تو اتنے میں تو کیسا ہے ؟ آپ (رض) نے اس کو ناپسند فرمایا۔
(۲۱۸۲۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی الرَّجُلِ یُسْلِفُ فَیَقُولُ : إِنْ کَانَ بُرًّا فَبِکَذَا ، وَإِنْ کَانَ شَعِیرًا فَبِکَذَا : أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢١) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ کپڑوں میں اس طرح بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ ذراع بھی متعین ہوں اور وقت بھی متعین ہو۔
(۲۱۸۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَسْلَمَ ، عْن عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ رَزِینِ بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بالسَّلَمِ فِی الثِّیَابِ ، ذَرْعٌ مَعْلُومٌ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٢) حضرت بکیر ابن عبداللہ بن الاشج سے کپڑوں میں بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہاں مگر کپڑا کی مقدار وغیرہ معلوم ہو۔
(۲۱۸۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَشِیطٍ ، قَالَ : سَأَلَتْ بُکَیْر بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنِ السَّلَمِ فِی الثِّیَابِ ؟ فَقَالَ : لاَ یَصْلح إلاَّ مَعْلُومَ الرُّقْعَۃِ مَعْلُومَ کَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٣) حضرت عامر سے سوتیکپڑوں میں بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ میں تو کرتا تھا۔
(۲۱۸۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنِ السَّلَمِ فِی الْکَرَابِیسِ ؟ فَقَالَ : قَدْ کُنْت أَفْعَلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٤) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ جب کپڑے کا ذراع اور مقدار وغیرہ معلوم ہو تو پھر بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۸۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إذَا أَسْلَمَ فِی ثَوْبٍ یَعْرِفُ ذَرْعُہُ وَرُقعتہ فَلاَ بَأْسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٥) حضرت جابر (رض) اور حضرت عطا فرماتے ہیں کہ اون اور کپڑوں میں بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۸۲۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ وَعَطَائٍ ، قَالاَ : لاَ بَأْسَ فِی السَّلَمِ فِی الصُّوفِ وَالأَکْسِیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٦) حضرت قاسم (رض) سے سوتی کپڑوں میں بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا اگر ذراع اور وقت متعین ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۸۲۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ السَّلَمِ فِی الْکَرَابِیسِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ إذَا کَانَ فِی ذَرْعٍ مَعْلُومٍ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ۔
tahqiq

তাহকীক: