মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৮২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٧) حضرت ابن مسعود (رض) ہر اس چیز کے بیع سلم میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے جس میں وقت متعین ہو سوائے حیوانات کے۔
(۲۱۸۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ لاَ یَرَی بِالسَّلَمِ فِی کُلِّ شَیْئٍ بَأْسًا إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ مَا خَلاَ الْحَیَوَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں بیع سلم کرنا
(٢١٨٢٨) حضرت ابن عباس (رض) سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کپڑوں میں بیع سلم کرے تو وہ سپرد کرنے سے پہلے ان کی بیع کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
(۲۱۸۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَجُلٍ أَسْلَمَ فِی سَبَائِبَ ، أَیُبَعْنَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَوْفَیْنَ ، قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٢٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب لگاتار بدل کتابت کی دو قسطیں ادا نہ کرسکے تو وہ بیت مال میں داخل ہوجائے گا اگر وہ ایک قسط نہ ادا کر پایا تو اس کو دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔
(۲۱۸۲۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ حُصَیْن الْحَارِثِیُّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا تَتَابَعَ عَلَی الْمُکَاتَبِ نَجْمَانِ فَدَخَلَ فِی السَّنَۃِ فَلَمْ یُؤَدِّ نُجُومَہُ ، رُدَّ فِی الرِّقِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب خود کہہ دے کہ میں بدل کتابت سے عاجز ہوں تو اس کو غلامی میں دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔
(۲۱۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: إذَا ، قَالَ الْمُکَاتَبُ : قَدْ عَجَزْت ، رُدَّ رَقِیقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣١) حضرت عطا (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے غلام کو ہزار دینار پر مکاتب بنایا، اس نے سو دینار کم سارا مال ادا کردیا، آپ (رض) نے اس کو دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا۔
(۲۱۸۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیِّ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ عَلَی أَلْفِ دِینَارٍ ، فَأَدَّاہَا إلاَّ مِئَۃ ، فَرَدَّہُ فِی الرِّقِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣٢) حضرت حارث عکلی فرماتے ہیں کہ جب بدل کتابت کی قسط دوسری قسط میں داخل ہوجائے تو اس سے مکاتب کا عجز ثابت ہوجائے گا۔
(۲۱۸۳۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ ، قَالَ : إذَا دَخَلَ نَجْمٌ فِی نَجْمٍ فَقَدِ اسْتَبَانَ عَجْزُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣٣) حضرت شریح (رض) نے مکاتب کو دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جب وہ بدل کتابت سے عاجز ہوگیا۔
(۲۱۸۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن شُرَیْحٍ : أَنَّہُ کَانَ یَرُدُّ الْمُکَاتَبَ إذَا عَجَزَ، وَلاَ یَسْتَأْنِی بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣٤) حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص غلام کو سو اوقیہ پر مکاتب بنائے ، پھر وہ غلام دس اوقیہ کے سوا باقی سارا ادا کر دے پھر وہ اس دس کے ادا کرنے سے عاجز آجائے تو اس کو دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔
(۲۱۸۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا کَاتَبَ غُلاَمَہُ عَلَی مِئَۃ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَ أَوَاقٍ ، ثُمَّ عَجَزَ رُدَّ فِی الرِّقِّ۔

(ابوداؤد ۳۹۲۲۔ احمد ۲۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز آ جائے تو اُس کو غلامی میں واپس لوٹا دیا جائے گا
(٢١٨٣٥) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ مکاتب اگر کئی سالوں کی قسطیں ادا کرنے سے عاجز آجائے تو پھر اس کو دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔
(۲۱۸۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِید ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لاَ یُرَدُّ حَتَّی یَعْجِزَ عَنْ سِنِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٣٦) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب کسی چیز کی مقدار معلوم ہو تو پھر اس کو اندازے سے فروخت نہ کرو۔
(۲۱۸۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : إذَا عَلِمْت مَکِیلَۃَ شَیْئٍ فَلاَ تَبِعْہُ جُزَافًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٣٧) حضرت معتمر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ایک شخص کہنے لگا کہ میں نے اس مٹکے کو تولا ہے اس میں اتنے من ہے، اور مجھے نہیں معلوم شاید یہ کم ہوگیا ہو، یا اس میں سے چوری ہوگیا ہو یا پھر کسی اور مٹکے سے مل گیا ہو یا پھر اس میں کچھ غلطی ہوگئی ہو، میں اس کو کیل کر کے فروخت نہیں کروں گا، میں اس کو اندازاً فروخت کروں گا، اب اس بیع کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین نے اس کو ناپسند کیا اور حضرت حسن (رض) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۱۸۳۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَِبِی : الرَّجُلُ یَقُولُ : قَدْ کِلْت فِی ہَذِہِ الخابیۃ کَذَا وَکَذَا مَنًا ، وَلاَ أَدْرِی لَعَلَّہُ نقصُ ، أَوْ سُرق ، أَوْ تشْتبِہُ الْخَابِیَۃ ، أَوْ کَانَ فِیہِ غَلَطٌ ، لاَ أَبِیعُک کَیْلاً ، إنَّمَا أَبِیعُک جُزَافًا، قَالَ : کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَکْرَہُہُ ، وَکَانَ الْحَسَنُ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٣٨) حضرت ابراہیم (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اندازے سے خریدتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ تیرے گھر میں گندم ہے وہ اتنے میں اور جو بھی جُوْ ہے وہ اتنے اتنے میں ؟ حضرت ابراہیم (رض) نے اس کو ناپسند فرمایا۔
(۲۱۸۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ عَن رَجُلٍ کَالَ جُزَافًا ؟ فَقَالَ لَہُ : مَا کَانَ فِی بَیْتِکَ مِنْ حِنْطَۃٍ فَبِکَذَا ، وَمَا کَانَ مِنْ شَعِیرٍ فَبِکَذَا وَکَذَا ، قَالَ : فَکَرِہَہُ إبْرَاہِیمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٣٩) حضرت شعبی (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کچھ دیہاتی ہمارے پاس غلہ لے کر آئے ہم نے ان سے کیل کر کے کچھ خریدا پھر وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ اندازے سے بیع کرو ؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کرو یہاں تک کہ وہ بیع چھوڑنے پر راضی ہوجائیں۔
(۲۱۸۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فِطْرٍ : أَنَّہُ سَأَلَ الشَّعْبِیَّ عَنْ قَوْمٍ مِنَ الأَعْرَابِ یَقْدَمُونَ عَلَیْنَا بِالطَّعَامِ فَنَشْتَرِی مِنْہُمْ کَیْلاً ، ثُمَّ نَقُولُ : بِیعُونَا جُزَافًا ، قَالَ : لاَ ، حَتَّی تَتَارَکُوا الْبَیْعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٤٠) حضرت عطا (رض) اندازاً بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جبکہ اس چیز کی مقدار معلوم ہو۔
(۲۱۸۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَبِیعَہُ جُزَافًا إذَا أَعْلَمَہُ أَنَّہُ یَعْلَمُ کَیْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٤١) حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ اور حضرت عطا سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس آتا ہے اور اندازاً گندم کی بیع کرتا ہے، اور بعض اوقات گندم کی مقدار معلوم بھی ہوتی ہے تو ایسی بیع کرنا کیسا ہے ؟ سب حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔
(۲۱۸۴۱) حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ جَرَّاحٍ أَبُو عِصَامٍ الْعَسْقَلاَنِیُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَمُجَاہِدًا وَعِکْرِمَۃَ وعَطَاء ، عَنْ رَجُلٍ یَأْتِی الرَّجُلَ فَیبْتَاعَ مِنْ بَیْتِہِ طَعَامًا فِیہِ مُجَازَفَۃً ، وَرَبُّ الطَّعَامِ قَدْ عَلِمَ کَیْلَہُ ؟ فَکَرِہَہُ کُلُّہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٤٢) حضرت نافع (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو دیکھا کہ ان کے سامنے غلے کے وسق لائے جاتے تھے اور ایک آدمی کہتا کہ میں نے ان چیزوں کو کیل کر کے لیا ہے میں انھیں کیل کے حساب سے نہیں بلکہ اندازے سے بیچوں گا۔ اصحاب نبی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۲۱۸۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عن نَافِعٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتنَا وَفِینَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجَائُ بِالأَوْسَاقِ فَتُلْقَی فی الْمُصَلَّی فَیَقُولُ الرَّجُلُ : کِلْت کَذَا وَکَذَا ، وَلاَ أَبِیعُہُ مُکَایَلَۃً ، إنَّمَا أَبِیعُہُ مُجَازَفَۃً ، فَلَمْ یَرَوْا بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
(٢١٨٤٣) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ سواروں سے ملتے اور ان سے اندازے سے گندم وغیرہ خریدتے تھے ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے روک دیا جب تک کہ ہم اس کو اس کی جگہ سے منتقل نہ کردیں۔
(۲۱۸۴۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنَّا نَتَلََقَی الرُّکْبَانِ ، فَنَشْتَرِی مِنْہُمَ الطَّعَامَ مُجَازَفَۃً ، فَنَہَانا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِیعَہُ حَتَّی نُحَوِّلَہُ مِنْ مَکَانِہِ ، أَوْ نَنْقُلَہُ۔

(بخاری ۲۱۶۶۔ مسلم ۱۱۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ بدل کتابت بھی ہو اور اُس پر قرض بھی ہو
(٢١٨٤٤) حضرت شریح (رض) اس مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں جو اس حال میں فوت ہو کہ اس پر قرض بھی ہو اور بدل کتابت بھی باقی ہو تو قرض سے پہلے آقاؤں کی واجب الاداء قسطیں ادا کی جائیں گی۔
(۲۱۸۴۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ وَأَشْعَثَ وَإِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ : فِی مُکَاتَبٍ مَاتَ ، وَعَلَیْہِ دَیْنٌ وَبَقِیَّۃٌ مِنْ مُکَاتَبَتِہِ ، قَالَ : یَضْرِبُ مَوَالِیہِ بِمَا حَلَّ مِنْ نُجُومِہِ۔

وَقَالَ حَمَّادٌ : یَضْرِبُونَ بِمَا حَلَّ مَا لَمْ یَحِلَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ بدل کتابت بھی ہو اور اُس پر قرض بھی ہو
(٢١٨٤٥) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شریح (رض) اگرچہ قاضی تھے لیکن ان سے غلطی ہوئی ہے، حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے تھے بدل کتابت سے پہلے قرض اداکریں گے۔
(۲۱۸۴۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : أَخْطَأَ شُرَیْحٌ ، وَإِنْ کَانَ قَاضِیًا ، کَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُولُ : یُبْدَأُ بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْمُکَاتَبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ بدل کتابت بھی ہو اور اُس پر قرض بھی ہو
(٢١٨٤٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب غلام اس حال میں فوت ہو کہ اس پر قرض ہو تو اس کے آقا کو قرض خواہوں کے ساتھ رکھیں گے، قسطوں میں سے جو واجب الاداء ہے وہ پہلے دیں گے اور اگر اس پر فی الفور کوئی قسط لازم نہ ہو تو قرض خواہوں سے ابتداء کریں گے پس وہ اپنا قرض وصول کرلیں گے، اور اگر اس میں سے کچھ بچ جائے تو وہ آقاوں کو ملے گا یہاں تک کہ بدل کتابت مکمل ہوجائے اور اگر بدل کتابت ادا کرنے کے بعد بھی کچھ بچ جائے تو وہ اس کے ورثاء کے ملے گا۔
(۲۱۸۴۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا مَاتَ الْمُکَاتَبُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ یَضْرِبُ مَوَالِیہِ بِمَا حَلَّ مِنْ نُجُومِہِ مَعَ الْغُرَمَائِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ نَجْمٌ حَالٌّ بُدِئَ بِالْغُرَمَائِ فَأَخَذُوا دَیْنَہُمْ ، فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ کَانَ لِمَوَالِیہِ حَتَّی تَتِمَّ مُکَاتَبَتُہُ ، فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ بَعْدَ مُکَاتَبَتِہِ کَانَ لِوَرَثَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক: