মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

دعاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮০১ টি

হাদীস নং: ৩০৩১০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کہے : انگلی بلند کرکے دعاء کی جائے
(٣٠٣١١) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ صحابہ جب بھی کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہا ہے۔ تو وہ ایک انگلی کو مارتے اور کہتے : یقیناً وہ ایک معبود ہے۔
(۳۰۳۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانُوا إذَا رَأَوْا إنْسَانًا یَدْعُو بِإِصْبَعَیْہِ ضَرَبُوا إحْدَاہُمَا ، وَقَالُوا : إنَّمَا ہُوَ إلَہٌ وَاحِدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کہے : انگلی بلند کرکے دعاء کی جائے
(٣٠٣١٢) ایک انصاری آدمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہوا اس حال میں کہ وہ دو انگلیوں سے دعا کر رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سے دعا کر کیونکہ وہ ایک ہے۔
(۳۰۳۱۲) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَن رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ حَدَّثَہُ ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَیْہِ وَہُوَ یَدْعُو بِیَدَیْہِ فَقَالَ: أَحِّدْ فَإِنَّہُ أَحَدٌ۔ (مسند ۶۶۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے دعا میں انگلی ہلانے کے بارے میں یوں فرمایا
(٣٠٣١٣) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد دعا میں انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔
(۳۰۳۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، أَنَّ أَبَاہُ کَانَ یُشِیرُ بِإِصْبَعِہِ فِی الدُّعَائِ ، وَلا یُحَرِّکُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٤) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کھڑے ہو کر دعا مت کرو جیسا کہ یہود اپنے گرجاؤں میں کرتے ہیں۔
حدثنا بقی بن مخلد ، قَالَ : حدثنا أبو بکر ، قَالَ :

(۳۰۳۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ قَالَ : لاَ تَقُومُوا تَدْعُونَ کَمَا تَصْنَعُ الْیَہُودُ فِی کَنَائِسِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٥) حضرت ابن الاصبھانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد کھڑا ہو کر دعا کررہا تھا۔ تو آپ نے اس کو بُرا بھلا کہا یا اس کو گالی دی۔
(۳۰۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَہَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً یَدْعُو قَائِمًا بَعْدَ مَا انْصَرَفَ فَسَبَّہُ ، أَوْ شَتَمَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٦) حضرت عبدہ بن ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید کھڑے ہو کر دعا کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
(۳۰۳۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ، أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٧) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : دو چیزیں بدعت ہیں : ایک یہ کہ آدمی نماز سے فارغ ہونے کے بعد کھڑا ہو کر قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگے۔ اور دوسری یہ کہ وہ دوسرا سجدہ کرے ۔ اور وہ سمجھتا ہو کہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرین کو زمین سے چپکائے اٹھنے سے پہلے۔
(۳۰۳۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃُ ، عَن حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : ثِنْتَانِ بِدْعَۃٌ : أَنْ یَقُومَ الرَّجُلُ بَعْدَ مَا یَفْرُغُ مِنْ صَلاتِہِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ یَدْعُو ، وَأَنْ یَسْجُدَ السَّجْدَۃَ الثَّانِیَۃَ فَیَرَی أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ یَلْزَقَ أَلْیَتَیْہِ بِالأَرْضِ قَبْلَ أَنْ یَنْہَضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٨) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نماز کے بعد کھڑے ہو کر دعا مانگنے کو ناپسند کرتے تھے یہود کی مشابہت کی وجہ سے۔
(۳۰۳۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ الْقِیَامَ بَعْدَہَا تَشَبُّہًا بِالْیَہُودِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣١٩) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو خبر پہنچی : کہ ایک قوم کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے۔ ضحاک فرماتے ہیں۔ پس آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : یہ کیا بُرا کام ہے ؟ !۔
(۳۰۳۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَن جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّہُ بَلَغَہُ ، أَنَّ قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا ، قَالَ : فَأَتَاہُمْ فَقَالَ : مَا ہَذَہ النُّکْراء ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣٢٠) حضرت جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو دیکھا وہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر میں نکل آیا اس حال میں کہ میں نے ان کو چھوڑا کہ وہ کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے اور تکبیر کہہ رہے تھے۔
(۳۰۳۲۰) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ الْبَیْتَ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجْت وَتَرَکْتہ قَائِمًا یَدْعُو وَیُکَبِّرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
(٣٠٣٢١) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ سے پوچھا؛ کیا حضرت ابراہیم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نماز سے فارغ ہو کر کوئی شخص قبلہ رو کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو بلند کرے ؟ تو آپ نے فرمایا ! جی ہاں !
(۳۰۳۲۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُغِیرَۃَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ یَکْرَہُ إذَا انْصَرَفَ أَنْ یَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کھڑے ہو کر دعا کرنے کی رخصت دی ہے
(٣٠٣٢٢) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو دیکھا کہ انھوں نے نماز میں اپنی آنکیں ص آسمان کی طرف اٹھائی ہوئی تھیں اور وہ کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے۔
(۳۰۳۲۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: رَأَیْتُ الْحَسَنَ یَرْفَعُ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ فِی الصَّلاۃِ یَدْعُو وَہُوَ قَائِمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی قنوت وتر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٢٣) حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ میرے نانا نے مجھے کچھ کلمات سکھائے ہیں جن کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں ! اے اللہ ! جن لوگوں کو تو نے راہ راست پر لگایا ہے ان کے ساتھ تو مجھے بھی راہ راست پر لگا دے۔ اور جن کو تو نے عافیت نصیب فرمائی ان لوگوں کے ساتھ مجھے بھی عافیت نصیب فرما دے اور جن کا تو کار ساز بنا ان کے ساتھ میرا بھی کارساز بن جا۔ اور جو فیصلہ تو فرما چکا اس کے شر سے مجھے بچا لے۔ اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے تو اس میں برکت عطا فرما۔ کیونکہ تو ہی فیصلہ فرماتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔ پس یقیناً جس کا تو کارساز ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا ، تو برکت والا اور بلندو برتر ہے۔
(۳۰۳۲۳) حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَن بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن أَبِی الْحَوْرَائِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ : عَلَّمَنِی جَدِّی کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْت ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْت ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْت ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْت ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْت ، إنَّک تَقْضِی ، وَلا یُقْضَی عَلَیْک ، فَإِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْت ، تَبَارَکْت وَتَعَالَیْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی قنوت وتر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٢٤) ایک شیخ جن کی کنیت ابو محمد ہے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی قنوت وتر میں یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! یقیناً تو دیکھتا ہے اور خود دکھائی نہیں دیتا اور تو بلند رتبہ اور منظر والا ہے۔ اور یقیناً تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔ اور تیرے لیے ہی آخرت اور پہلے کی زندگی ہے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ذلیل اور رسوا ہونے سے ۔
(۳۰۳۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن شَیْخٍ یُکَنَّی أَبَا مُحَمَّدٍ ، أَنَ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ کَانَ یَقُولُ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : اللَّہُمَّ إنَّک تَرَی ، وَلا تُرَی ، وَأَنْتَ بِالْمَنْظَرِ الأَعْلَی ، وَإِنَّ إلَیْک الرُّجْعَی ، وَإِنَّ لَکَ الآخِرَۃَ وَالأُولَی ، اللَّہُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی قنوت وتر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٢٥) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے : تیری تعریف ہے ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر کر ، اور جو چیز اس کے بعد ہے اس کی مقدار بھر کر تیری تعریف، بڑائی اور شرف والا ہے تو۔ اور جو جو بندوں نے کیا۔ اور سب تیرے ہی بندے ہیں۔ ان میں سب سے درست بات یہ ہے کہ جو نعمت تو بخش دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اس کا دینے والا کوئی نہیں ۔ اور تیرے سامنے کسی مرتبہ والے کا مرتبہ کچھ کام نہیں دیتا۔
(۳۰۳۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ہَارُونَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَمِلْئَ الأَرَضِینَ السَّبْعِ ، وَمِلْئَ مَا بَیْنَہُمَا مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، أَہْلُ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ : لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْت ، وَلا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْت ، وَلا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْک الْجَدُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی قنوت وتر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٢٦) حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ہمیں سکھایا کہ ہم قنوت وتر میں یہ دعا پڑھیں : اے اللہ ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اور ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں۔ اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے، اور ہم الگ کرتے ہیں اور ہم چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اور بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔
(۳۰۳۲۶) حَدَّثَنَا محمد بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ أَنْ نَقُولَ فِی الْقُنُوتِ یَعْنِی فِی الْوِتْرِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الخیر، وَلا نَکْفُرُک وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک إنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحَقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی قنوت وتر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٢٧) حضرت زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : تم صلوۃ الوتر میں یوں کہو : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔
(۳۰۳۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قلْ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہے : قنوت وتر میں کوئی دعا متعین نہیں
(٣٠٣٢٨) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : قنوت وتر میں کوئی دعا متعین نہیں۔ بیشک وہ تو دعا اور استغفار ہے۔
(۳۰۳۲۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ شَیْئٌ مُوَقَّتٌ ، إنَّمَا ہُوَ دُعَائٌ وَاسْتِغْفَارٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی وتر کے آخر میں یوں دعا کرے اور یہ کلمات کہے
(٣٠٣٢٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کے آخر میں یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں تیری ناراضگی سے، اور تیری معافی کی پناہ لیتا ہوں تیرے غصہ سے ، اور میں تجھ سے تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں۔ میں تیری پوری تعریف نہیں کرسکتا، تو ایسا ہی ہے جیسا کہ خود تو نے اپنی تعریف فرمائی۔
(۳۰۳۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ عَلِیٍّ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ فِی آخِرِ وِتْرِہِ: اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِرِضَاک مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْک ، لاَ أُحْصِی ثَنَائً علَیْک أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْت عَلَی نَفْسِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی وتر کے آخر میں یوں دعا کرے اور یہ کلمات کہے
(٣٠٣٣٠) حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھتے تھے اور نماز کے آخر میں بیٹھتے تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے ۔ پاک ہے وہ بادشاہ اور بہت ہی مقدس ہے۔ اور آخر میں اپنی آواز کو لمبا کرتے۔
(۳۰۳۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَن سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أبیہ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُوتِرُ ویقول فِی آخِرِ صَلاتِہِ إذَا جَلَسَ : سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ ثَلاثًا ، یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ فِی الآخِرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: