মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

دعاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮০১ টি

হাদীস নং: ৩০৩৩০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی وتر کے آخر میں یوں دعا کرے اور یہ کلمات کہے
(٣٠٣٣١) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے آخر میں تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے تھے : پاک ہے وہ بادشاہ انتہائی مقدس ہے۔
(۳۰۳۳۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبِی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن طَلْحَۃَ ، عَن ذَرٍّ ، عَن سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ فِی آخِرِ صَلاتِہِ : سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ ثَلاثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٢) حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی ، تو انھوں نے قنوت فجر میں یہ دعا پڑھی : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں۔ اور ہم تیری نا شکری نہیں کرتے۔ اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب تو کافروں کو ملنے والا ہے۔
(۳۰۳۳۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الْغَدَاۃَ فَقَالَ فِی قُنُوتِہِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مِنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٣) حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انھوں نے پہلے جیسا عمل کیا۔
(۳۰۳۳۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَن ذَرٍّ ، عَن سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إِنَّہُ کَانَ صَلَّی خَلْفَ عُمَرَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٤) حضرت ھشیم فرماتے ہیں کہ حضرت حصین نے فرمایا : میں نے ایک دن صبح کی نماز پڑھائی، اور عثمان بن زیاد نے میرے پیچھے نماز پڑھی آپ فرماتے ہیں، میں نے صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی : فرماتے ہیں کہ جب میری نماز مکمل ہوئی تو عثمان بن زیاد نے مجھ سے کہا : آپ نے قنوت میں کون سی دعا پڑھی ؟ تو میں نے کہا : میں نے یہ کلمات ذکر کیے : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اور ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے۔ اور ہم الگ ہوتے اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تر ی نافرمانی کرے ۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہم تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور ہم تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ حضرت حصین فرماتے ہیں ! کہ عثمان بن زیاد نے مجھے کہا : حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان دونوں ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
(۳۰۳۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، قَالَ : صَلَّیْت الْغَدَاۃَ ذَاتَ یَوْمٍ وَصَلَّی خَلْفِی عُثْمَانُ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : فَقَنَتُّ فِی صَلاۃِ الصُّبْحِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَیْت صَلاتِی ، قَالَ لِی : مَا قُلْتَ فِی قُنُوتِکَ ؟ فَقُلْتُ : ذَکَرْت ہَؤُلائِ الْکَلِمَاتِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک الجد ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ ، قَالَ : قَالَ لِی عُثْمَانُ : کَذَا کَانَ یَصْنَعُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٥) حضرت عبد الرحمن بن سوید الکاھلی فرماتے ہیں کہ حضرت علی فجر میں ان دو سورتوں کو بطور قنوت کے پڑھتے تھے۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی ہم نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی ہم دوڑتے ہیں اور تیری خدمت میں ہی ہم حاضر ہوتے ہیں۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔
(۳۰۳۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُوَیْد الْکَاہِلِیِّ ، أَنَّ عَلِیًّا قَنَتَ فِی الْفَجْرِ بِہَاتَیْنِ السُّورَتَیْنِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ ، وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٦) حضرت میمون بن مھران حضرت ابی بن کعب کی قراءت کے متعلق یوں نقل فرماتے ہیں : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے۔ اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے ہم نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور تیری ہی طرف ہم دوڑتے ہیں اور خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔
(۳۰۳۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَن مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ، وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحِقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت فجر میں یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٧) حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو فجر کی نماز میں یوں قنوت نازلہ پڑھتے ہوئے سنا : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں ، اور ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ہم تجھ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم ترای ناشکری نہیں کرتے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے لیے ہی ہم نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور تیری ہی طرف دوڑتے ہیں اور خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرے عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ ! کافر اہل کتاب کو عذاب دے ۔ جو روکتے ہیں تیرے راستہ سے۔
(۳۰۳۳۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقْنُتُ فِی الْفَجْرِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، نَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ ، اللَّہُمَّ عَذِّبْ کَفَرَۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیلِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٨) حضرت عمر بن کثیر بن افلح فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر گمشدہ چیز کے بارے میں فرماتے تھے : وضو کرے اور دو رکعت نماز نفل پڑھے، اور کلمہ شہادت اور یہ کلمات پڑھے : اللہ کے نام کے ساتھ بھٹکنے والوں کو راستہ دکھانے والے۔ اور گمشدہ کو لوٹانے والے۔ میری گمشدہ چیز اپنی عزت اور بادشاہت کے وسیلہ سے مجھے واپس لوٹا دے۔ کیونکہ وہ تیرے فضل اور عطا ہی سے ملی تھی۔
(۳۰۳۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَن عُمَرَ بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الضَّالَّۃِ یَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَیَتَشَہَّدُ وَیَقُولُ : بِسْمِ اللہِ یَا ہَادِیَ الضَّالِّ ، وَرَادَّ الضَّالَّۃِ ارْدُدْ عَلَیَّ ضَالَّتِی بِعِزَّتِکَ وَسُلْطَانِکَ فَإِنَّہَا مِنْ عَطَائِکَ وَفَضْلِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٣٩) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : بیشک محافظین کے علاوہ اللہ کے کچھ زائد فرشتے ہیں۔ درخت کا جو پتہ گرتا ہے وہ اس کو لکھتے ہں ۔ پس جب تم میں سے کسی شخص کو سفر میں کوئی تکلیف پہنچے تو ان کلمات کی ندا لگاؤ۔ اللہ کے بندوں کی مدد کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔
(۳۰۳۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إنَّ لِلَّہِ مَلائِکَۃً فَضْلاً سِوَی خَلْقِہِ یَکْتُبُونَ وَرَقِ الشَّجَرِ ، فَإِذَا أَصَابَتْ أَحَدَکُمْ عَرْجَۃٌ فِی سَفَرٍ فَلِیُنَادِ : أَعِینُوا عِبَادَ اللہِ رَحِمَکُمُ اللَّہُ۔ (بزار ۳۱۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
(٣٠٣٤٠) حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، پس جب اس پر سوار ہو تو جیسے اللہ نے حکم دیا ہے ان کلمات کو پڑھو : اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا۔ اور ہم اسے قبضہ کرنے والے نہ تھے۔ اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اور پھر تم خدمت کرو اس کی۔ پس اللہ ہی نے سواری دی ہے۔
(۳۰۳۴۰) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَلَی ذِرْوَۃِ کُلِّ بَعِیرٍ شَیْطَانٌ فَإِذَا رَکِبْتُمُوہَا فَقُولُوا کَمَا أَمَرَکُمُ اللَّہُ {سُبْحَانَ اللہِ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ} وَامْتَہِنُوہَا لأَنْفُسِکُمْ فَإِنَّمَا یَحْمِلُ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
(٣٠٣٤١) حضرت حمزہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ پس جب تم پر اس پر سوار ہو تو اس کی آزمائش کرو۔ اور اللہ کے نام کا ذکر کرو۔ پھر تم اپنی ضروریات سے رکے مت رہو۔
(۳۰۳۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بن عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَلَی ذِرْوَۃِ کُلِّ بَعِیرٍ شَیْطَانٌ ، فَإِذَا رَکِبْتُموہا فَامْتَہِنُوہَا ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ ، ثم لاَ تقصروا عن حوائجکم۔ (احمد ۴۹۴۔ دارمی ۲۶۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
(٣٠٣٤٢) حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ پس تم اس پر سوار ہو تو اللہ کے نام کا ذکر کرو۔ پس تم اس کی خدمت کرو بیشک اللہ ہی نے سواری دی ہے۔
(۳۰۳۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن سُفْیَانَ، عَن حبیب، عَن عبد الرحمن بن أبی عمرۃ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِن عَلَی ذِرْوَۃِ کُلِّ بَعِیرٍ شَیْطَانًا ، فَإِذَا رَکِبْتُمْ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ وَامْتَہِنُوہَا فَإِنَّمَا یَحْمِلُ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
(٣٠٣٤٣) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی نے ایک آدمی کو دیکھا جو سواری پر سوار ہوا پھر اس نے یہ دعا پڑھی ! اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے تابع کیا اور ہم اسے قبضہ کرنے والے نہ تھے۔ تو آپ نے فرمایا : تمہیں کیا اس طرح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ اس نے کہا : میں کیسے پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : اس طرح کہو : سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت بخشی۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے بنایا مجھے بہترین امت میں جسے لوگوں کی نفع رسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، پھر یہ دعا پڑھو۔ اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا۔
(۳۰۳۴۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، أَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ رَأَی رَجُلاً رَکِبَ دَابَّۃً فَقَالَ : {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ} ، قَالَ أَفَبِہَذَا أُمِرْت ، قَالَ : کَیْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانِی لِلإِسْلامِ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی مَنَّ عَلَیَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَنِی فِی خَیْرِ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ، ثُمَّ تَقُولُ: {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہذا}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٤) حضرت مرّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص عاجز ہو دشمن سے جہاد کرنے سے اور رات کو مشقت برداشت کرنے سے اور بخل کی وجہ سے مال بھی خرچ نہ کرسکتا ہو تو وہ کثرت سے ان کلمات کا ورد کرے ، اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
(۳۰۳۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن زُبَیْدٍ ، عَن مُرَّۃَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَنْ جَبُنَ مِنْکُمْ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ یُجَاہِدَہُ ، وَاللَّیْلِ أَنْ یُکَابِدَہُ وَضَنَّ بِالْمَالِ أَنْ یُنْفِقَہُ فَلْیُکْثِرْ مِنْ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٥) حضرت مورّق عجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ عاجز ہو راتوں کو مشقت برداشت کرنے سے اور دشمن سے جہاد کرنے سے، اور مال کے خرچ کرنے سے تو کثرت کے ساتھ ان کلمات کا ورد کرو : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، پس یہ کلمات میرے نزدیک سونے اور چاندی کے پہاڑ سے بھی زیادہ پسندیدہ ہیں۔
(۳۰۳۴۵) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَن مُوَرِّقٍ الْعِجْلِیّ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إِنْ عَجَزْتُمْ عَنِ اللَّیْلِ أَنْ تُکَابِدُوہُ ، وَعَنِ الْعَدُوِّ أَنْ تُجَاہِدُوہُ ، وَعَنِ الْمَالِ أَنْ تُنْفِقُوہُ ، فَأَکْثِرُوا مِنْ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ فَإِنَّہُنَّ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ جَبَلَیْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٦) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم التیمی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب بندہ کہتا ہے ! سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ تمام عیوب سے پاک ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں : اور اس کی تعریف کے ساتھ۔ پس جب بندہ کہتا ہے۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، تو فرشتے کہتے ہیں : اللہ تجھ پر رحم فرمائے : پس جب بندہ کہتا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، تو فرشتے کہتے ہیں : بہت بڑا، پس جب بندہ کہتا ہے : اللہ سب بڑوں سے بڑا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں : اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتے کہتے ہیں : تمام جہانوں کا پالنے والا بھی۔ اور جب بندہ یوں کہتا ہے ، تمام جہانوں کا پالنے والا بھی تو فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔
(۳۰۳۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، أَنَّہُ سَمِعَ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ یَقُولُ : إذَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسُبْحَانَ اللہِ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ وَبِحَمْدِہِ ، فَإذَا قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ، قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : رَحِمَکَ اللَّہُ ، فَإذَا قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ کَبِیرًا ، فَإذَا قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : رَحِمَک اللَّہُ ، فَإذَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : رَبِّ الْعَالَمِینَ ، وَإذَا قَالَ : رَبِّ الْعَالَمِینَ ، قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : رَحِمَک اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے ارشاد فرمایا : کیا میں ایسے صدقہ کی طرف تمہاری راہنمائی نہ فرماؤں جو آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے ؟ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ دن میں تیس مرتبہ ان کلمات کا پڑھنا آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے۔
(۳۰۳۴۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَن زِیَادٍ الْمصفِّر ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَبِی بَکْرٍ : أَلا أَدُلُّک عَلَی صَدَقَۃٍ تَمْلأ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ فِی یَوْمٍ ثَلاثِینَ مَرَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٨) حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ڈھالیں پکڑ لو۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس موجود دشمن کے مقابلہ میں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ جہنم سے بچنے کے لیے۔ ہم نے عرض کیا : جہنم سے بچانے والی ڈھال کون سی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ پس یہ کلمات آئیں گے قیامت کے دن آگے ہوں گے اور پیچھے ہوں گے اور بچانے والے ہوں گے۔ پس یہ کلمات باقی رہنے والے اور اچھے ہیں۔ ( اور وہ باقیات اور صالحات ہیں)
(۳۰۳۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَلِیلِ ، عَن خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذُوا جُنَّتَکُمْ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، مِنْ عَدُوٍّ حَضَرَ ؟ قَالَ : لاَ بَلْ مِنَ النَّارِ ، قُلْنَا : مَا جُنَّتُنَا مِنَ النَّارِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، فَإِنَّہُنَّ یَأْتِینَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُقَدِّمَاتٍ وَمُعَقِّبَاتٍ وَمُجَنِّبَاتٍ ، وَہُنَّ {الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ}۔

(نسائی ۱۰۶۸۴۔ حاکم ۵۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٤٩) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو جو مختلف تسبیحات کررہا تھا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اس پر رحم فرمائے۔ بیشک اس کے لیے کافی ہے کہ یوں کہے؛ اللہ پاک ہے آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے ! اللہ سب سے بڑا ہے آسمانوں اور زمین، اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔
(۳۰۳۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَن وقاء ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : رَأَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إنْسَانًا یُسَبِّحُ بِتَسَابِیحَ معہ ، فَقَالَ عُمَرُ : رحمہ اللہ إنَّمَا یُجْزِیہِ مِنْ ذَلِکَ أَنْ یَقُولَ : سُبْحَانَ اللہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، وَیَقُولَ : الْحَمْدُ للہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، وَیَقُولُ : اللَّہُ أَکْبَرُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
(٣٠٣٥٠) حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمرو اکٹھے ہوئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : میں ان کلمات کو پڑھتا ہوں جب بھی کبھی نکلتا ہوں یہاں تک کہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤں۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ میرے نزدیک یہ کلمات زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے ان کی تعداد کے بقدر گھوڑوں اور سوار ہونے سے اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک ان کلمات کا پڑھنا اللہ کے راستہ میں ان کی تعداد کے بقدر دینار خرچ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(۳۰۳۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لأَنْ أَقُول إذَا خَرَجْت حَتَّی أَبْلُغُ حَاجَتِی سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَ عَلَی عَدَدِہِنَّ مِنَ الْجِیَادِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو : لأَنْ أَقُولَہُنَّ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُنْفِقَ عَدَدَہُنَّ دَنَانِیرَ فِی سَبِیلِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
tahqiq

তাহকীক: