মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৯৪ টি
হাদীস নং: ২৮৩২০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢١) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے قتل کیا تھا کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں تم مایوس مت ہو اور آپ نے اس پر سورة حم مومن کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔
(۲۸۳۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَتَلْتُ ، فَہَلْ لِی مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلاَ تَیْأَسْ ، وَقَرَأَ عَلَیْہِ مِنْ حم الْمُؤْمِنِ : {غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٢) حضرت تیمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے { فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : جہنم اس کی سزا ہے پس اگر وہ اس کی سزا سے تجاوز کرنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔
(۲۸۳۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ {فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ}، قَالَ : ہِیَ جَزَاؤُہُ ، فَإِنْ شَائَ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنْ جَزَائِہِ فَعَلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٣) حضرت سیار نے حضرت ابو صالح سے مذکورہ ارشاد اس سند سے نقل کیا ہے۔
(۲۸۳۲۳) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَیَّارٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ؛ نَحْوَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٤) حضرت زیاد بن ابو مریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن معقل سے پوچھا : کیا تم نے اپنے والد کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو سنا اور انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : توبہ ندامت کا نام ہے ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں۔
(۲۸۳۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَن زِیَادِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ لَہُ : أَسَمِعْتَ أَبَاک یَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ یَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : التَّوْبَۃُ نَدَمٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
(ابن ماجہ ۴۲۵۲۔ احمد ۳۷۶)
(ابن ماجہ ۴۲۵۲۔ احمد ۳۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٥) حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت معقل بن مقرن مزنی نے حضرت ابن مسعود سے دریافت کیا ! کہ کیا آپ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ توبہ ندامت کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں
(۲۸۳۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَن زِیَادِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْقِلٍ ؛ أَنَّ أَبَاہُ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِیَّ قَالَ لابْنِ مَسْعُودٍ : أَسَمِعْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : التَّوْبَۃُ نَدَمٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ (احمد ۴۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٦) حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور کہنے لگا : کیا مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے جہنم کے پس جب وہ شخص چلا گیا۔ آپ کے ہم نشینوں نے آپ سے کہا : آپ ہمیں ایسے تو فتویٰ نہیں دیتے تھے۔ آپ تو ہمیں یوں فتویٰ نہیں دیتے تھے کہ یقیناً مومن کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے تو آج اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا میرا خیال ہے یہ شخص غصہ میں ہے اور کسی مومن کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے راوی نے کہا : پس وہ لوگ اس آدمی کے پیچھے گئے انھوں نے اسے ایسا ہی پایا۔
(۲۸۳۲۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا تَوْبَۃٌ ؟ قَالَ : لاَ ، إِلاَّ النَّارُ ، فَلَمَّا ذَہَبَ قَالَ لَہُ جُلَسَاؤُہُ : مَا ہَکَذَا کُنْتَ تُفْتِینَا ، کُنْتَ تُفْتِینَا أَنَّ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا تَوْبَۃٌ مَقْبُولَۃٌ ، فَمَا بَالُ الْیَوْمِ ؟ قَالَ : إِنِّی أَحْسِبُہُ رَجُلاً مُغْضَبًا یُرِیدُ أَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِنًا ، قَالَ : فَبَعَثُوا فِی أَثَرِہِ فَوَجَدُوہُ کَذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٢٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کعبۃ اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور ارشاد فرمایا : تیری عزت و حرمت بہت زیادہ ہے اور تیرا حق بہت زیادہ اور یقیناً مسلمان حرمت و عزت میں تجھ سے بڑھا ہوا ہے اللہ رب العزت نے اس کا مال حرام کردیا اور اس کو تکلیف پہنچانا حرام کردیا اور یہ کہ اس کے متعلق براخیال رکھا جائے۔
(۲۸۳۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ نَظَرَ إِلَی الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : مَا أَعْظَمَ حُرْمَتَکَ ، وَمَا أَعْظَمَ حَقَّک ، وَلَلْمُسْلِمُ أَعْظَمُ حُرْمَۃً مِنْکِ ، حَرَّمَ اللَّہُ مَالَہُ ، وَحَرَّمَ دَمَہُ ، وَحَرَّمَ عِرْضَہُ وَأَذَاہُ ، وَأَنْ یُظَنَّ بِہِ ظَنَّ سوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٢٨) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک دنیا کے ختم ہونے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔
(۲۸۳۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بِنْ عَمْرٍو ، قَالَ : قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللہِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا۔ (ترمذی ۱۳۹۵۔ نسائی ۳۴۴۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٢٩) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے { فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ :۔ گویا کہ اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا : جس نے اس کو ہلاک کردیا۔ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } اور جس نے اسے زندہ رکھا گویا وہ پوری انسانیت کو قتل کرنے سے رک گیا۔
(۲۸۳۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن خُصَیْفٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ {فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا} ، قَالَ : مَنْ أَوْبَقَہَا ، {وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا} ، قَالَ : مَنْ کَفَّ عَن قَتْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٠) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے { وَمَنْ أَحْیَاہَا } کا یوں معنی بیان کیا کہ جس نے اس کو ڈوبنے یا جلنے سے بچایا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔
(۲۸۳۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ؛ {وَمَنْ أَحْیَاہَا} ، قَالَ : مَنْ أَنْجَاہَا مِنْ غَرَقٍ ، أَوْ حَرْقٍ فَقَدْ أَحْیَاہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣١) حضرت علاء بن عبدالکریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو اس آیت کا معنی یوں بیان فرماتے ہوئے سنا ؟ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ :۔ اور جس نے اسے زندگی بخشی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔ یعنی جو شخص اس کے قتل سے رک گیا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔
(۲۸۳۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا ، یَقُولُ : {وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا} ، قَالَ : مَنْ کَفَّ عَن قَتْلِہَا فَقَدْ أَحْیَاہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٢) حضرت حبہ بن جو ین حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے آیت ! اے ہمارے رب ! دکھا تو ہمیں وہ دونوں گروہ جنہوں نے گمراہ کیا ہے ہمیں جنوں اور انسانوں کو کا معنی یوں بیان کیا کہ مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور شیطانوں کا سردار مراد ہے۔
(۲۸۳۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی الْمِقْدَامِ ، عَن حَبَّۃَ بْنِ جُوَیْنٍ الْحَضْرَمِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ {رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَیْنِ أَضَلاَّنَا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ} ، ابْنَ آدَمَ الَّذِی قَتَلَ أَخَاہُ ، وَإِبْلِیسَ الأَبَالِسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٣) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور شیطان ہے۔
(۲۸۳۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : ابْنُ آدَمَ الَّذِی قَتَلَ أَخَاہُ وَإِبْلِیسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٤) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر آدم کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ جاری کیا۔
(۲۸۳۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا ، إِلاَّ کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِہَا ، لأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔ (بخاری ۶۸۶۷۔ مسلم ۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٥) حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر یہ کہ آدم کے پہلے بیٹے اور شیطان پر اس کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے۔
(۲۸۳۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا ، إِلاَّ کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ وَالشَّیْطَانِ کِفْلٌ مِنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٦) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر یوں بیان فرمائی : ترجمہ : فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب اس کے جو کماتے ہیں ہاتھ انسانوں کے آپ نے فرمایا : خشکی میں آدم کا بیٹا مراد ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور سمندر میں مراد وہ بادشاہ ہے جو ہر کشتی کو غصب کرلیتا تھا۔
(۲۸۳۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ؛ {ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ}، قَالَ: فِی الْبَرِّ ابْنُ آدَمَ الَّذِی قَتَلَ أَخَاہُ، وَفِی الْبَحْرِ الَّذِی کَانَ یَأْخُذُ کُلَّ سَفِینَۃٍ غَصْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
(٢٨٣٣٧) حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا، جس شخص نے دو آدمیوں کو قتل کردیا تو وہ جبار ہے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ تم چاہتے ہو کہ قتل کردو مجھے جیسے تم نے قتل کردیا تھا ایک انسان کو کل ؟ نہیں چاہتے ہو تم مگر یہ کہ ہو رہو جبار۔ الخ
(۲۸۳۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مَنْ قَتَلَ رَجُلَیْنِ فَہُوَ جَبَّارٌ ، وَتَلاَ: {أَتُرِیدُ أَنْ تَقْتُلَنِی کَمَا قَتَلْت نَفْسًا بِالأَمْسِ، إِنْ تُرِیدُ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ جَبَّارًا} الآیۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : قتل عمد کی صورت میں قصاص ہوگا
(٢٨٣٣٨) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جو قتل ارادے سے اسلحہ کے ساتھ ہو تو اس میں قصاص ہوگا۔
(۲۸۳۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا کَانَ مِنْ قَتْلٍ بِسِلاَحٍ عَمْدٍ ، فَفِیہِ الْقَوَدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : قتل عمد کی صورت میں قصاص ہوگا
(٢٨٣٣٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : ہر عمد کی صورت میں قصاص ہوگا۔
(۲۸۳۳۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : الْعَمْدُ کُلُّہُ قَوَدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : قتل عمد کی صورت میں قصاص ہوگا
(٢٨٣٤٠) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت عامر شعبی، حضرت حسن بصری، حضرت ابن سیرین اور حضرت عمرو بن دینار نے ارشاد فرمایا : عمد میں قصاص ہوگا۔
(۲۸۳۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَامِرٍ، وَالْحَسَنِ، وَابْنِ سِیرِینَ، وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ، قَالُوا: الْعَمْدُ قَوَدٌ۔
তাহকীক: