মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯৪ টি

হাদীস নং: ২৮৩০০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جو قابل سزا جر م کرتا ہو
(٢٨٣٠١) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ایسے غلام کے بارے میں جو کسی آدمی کا سر زخمی کردے پھر اس نے دوسرے کا سر زخمی کردیا پھر کسی دوسرے کا سر زخمی کردیا۔ تو آپ نے اس غلام کا آخری والے کے حق میں فیصلہ فرمایا۔
(۲۸۳۰۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی عَبْدٍ شَجَّ رَجُلاً ، ثُمَّ شَجَّ آخَرَ، ثُمَّ شَجَّ آخَرَ ، فَقَضَی بِہِ لِلآخَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جو قابل سزا جر م کرتا ہو
(٢٨٣٠٢) حضرت حماد بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت حماد اور حضرت ربیعہ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ اسے اپنے حصوں کے اعتبار سے تقسیم کرلیں گے۔
(۲۸۳۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن حَمَّادٍ ، وَرَبِیعَۃَ ، قَالاَ : یَقْتَسِمُونَہُ بِالْحِصَصِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٣) حضرت کردم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو قتل کردیا ہو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی ؟ ان سب حضرات نے فرمایا : کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اسے زندہ کردے ؟ کیا وہ اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلے یا آسمان میں سیڑھی ؟ کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ اس کو موت نہ آئے ؟
(۲۸۳۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَن کَرَدْمِ ؛ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ ، وَابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ، فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ فَکُلُّہُمْ قَالَ : یَسْتَطِیعُ أَنْ یُحْیِیَہُ ؟ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الأَرْضِ ، أَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَائِ ؟ یَسْتَطِیعُ أَنْ لاَ یَمُوتَ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٤) حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ابو عباس ! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا ؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ تیری ماں تجھے گم پائے ؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا ؟
(۲۸۳۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ ، وَیَحْیَی الْجَابِرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَرَأَیْتَ رَجُلاً قَتَلَ مُتَعَمِّدًا ، مَا جَزَاؤُہُ ؟ قَالَ : {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ} الآیَۃَ ، قَالَ : أَرَأَیْتَ إِنْ تَابَ ، وَآمَنَ ، وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا ، ثُمَّ اہْتَدَی ؟ فَقَالَ : وَأَنَّی لَہُ التَّوْبَۃُ ، ثَکِلَتْک أُمُّک ؟ إِنَّہُ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ آخِذًا بِرَأْسِہِ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَندَ الْعَرْشِ ، فَیَقُولُ : یَا رَبِّ ، سَلْ ہَذَا فِیمَ قَتَلَنِی۔ (ترمذی ۳۰۲۹۔ احمد ۲۲۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٥) حضرت ناجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں سنگین گناہ ہیں شرک اور قتل۔
(۲۸۳۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَن نَاجِیَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ہُمَا الْمُبْہَمَتَانِ : الشِّرْکُ ، وَالْقَتْلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٦) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے کسی چیز کے بارے میں بار بار نہیں پوچھا : جتنا میں نے اس سے مومن کو قتل کرنے والے کے با رے میں پوچھا : پس اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔
(۲۸۳۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُریثُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا نَازَلْتُ رَبِّی فِی شَیْئٍ ، مَا نَازَلْتُہُ فِی قَاتِلِ الْمُؤْمِنِ ، فَلَمْ یُجِبْنِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٧) حضرت ابو الضحی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ان کے خیمہ میں تھا کہ ایک آدمی نے آپ سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا ہو ؟ تو حضرت ابن عمر نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی : جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ پس تم غور کرو جو تم نے قتل کیا ہو !
(۲۸۳۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن ہَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِی فُسْطَاطِہِ ، فَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ؟ قَالَ : فَقَرَأَ عَلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ : {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا} الآیَۃِ ، فَانْظُرْ مَنْ قَتَلْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٨) حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنے والے کیلئے توبہ نہیں ہے۔
(۲۸۳۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ نُبَیْطٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : لَیْسَ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ تَوْبَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣٠٩) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک قیامت کے دن سب سے مبغوض جھگڑالو وہ آدمی ہوگا جس کو میں نے قتل کیا ہوگا اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا وہ کہے گا : اے پروردگار اس سے پوچھو کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا ؟
(۲۸۳۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَن یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَی : مَا مِنْ خَصْمٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُہُ ، تَشْخبُ أَوْدَاجُہُ دَمًا ، یَقُولُ : یَا رَبِّ ، سَلْ ہَذَا عَلاَمَ قَتَلَنِی ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩০৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٠) حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک شرک سے توبہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ میں مومن کے قتل سے توبہ کروں
(۲۸۳۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ نُبَیْطٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : لأَنْ أَتُوبَ مِنَ الشِّرْکِ ، أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتُوبَ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١١) حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : ترجمہ :۔ اور جس نے جان بوجھ کر مومن کو قتل کردیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ۔ جب سے یہ آیت اتر ی ہے اس کا کچھ حصہ بھی منسوخ نہیں ہوا۔
(۲۸۳۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ نُبَیْطٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ؛ (وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا) قَالَ : مَا نَسَخَہَا شَیْئٌ مُنْذُ نَزَلَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٢) حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ سے ملا اس حال میں کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا اور حرام خون نہیں بہایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(۲۸۳۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَن عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَقِیَ اللَّہَ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا ، لَمْ یَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔

(ابن ماجہ ۲۶۱۸۔ حاکم ۳۵۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : آدمی مسلسل دین کی کشادگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس کا ہاتھ خون سے صاف ہو۔ پس جب وہ اپنا ہاتھ حرام خون میں ڈبو لیتا ہے تو اس کی حیا سلب کرلی جاتی ہے۔
(۲۸۳۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ یَزَالُ الرَّجُلُ فِی فُسْحَۃٍ مِنْ دِینِہِ مَا نَقِیَتْ کَفُّہُ مِنَ الدَّمِ ، فَإِذَا غَمَسَ یَدَہُ فِی دَمٍ حَرَامٍ نُزِعَ حَیَاؤُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٤) حضرت شھر بن حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اور راستہ کے بیچ میں بیٹھ جائے گا جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا تو وہ کھڑا ہو کر اس کے گریبان کو پکڑ لے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھ کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا ! تو وہ شخص کہے گا کہ مجھے فلاں نے حکم دیا تھا۔ آپ نے فرمایا : قاتل اور حکم دینے والے دونوں کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
(۲۸۳۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن شِمْرٍ ، عَن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : یَجِیئُ الْمَقْتُولُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیُجْلِسُ عَلَی الْجَادَّۃِ ، فَإِذَا مَرَّ بِہِ الْقَاتِلُ قَامَ إِلَیْہِ فَأَخَذَ بِتَلْبِیبِہِ ، فَیَقُولُ : یَا رَبِّ ، سَلْ ہَذَا فِیمَ قَتَلَنِی ؟ قَالَ : فَیَقُولُ : أَمَرَنِی فُلاَن ، قَالَ : فَیُؤْخَذُ الْقَاتِلُ وَالآمِرُ فَیُلْقَیَانِ فِی النَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٥) حضرت ابو الاشھب فرماتے ہیں کہ حضرت مزاحم ضبی نے حضرت حسن بصری کو بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی اپنے حوض میں سیراب کرنے کے لیے اپنے اونٹوں کا انتظار کررہا تھا جو اس حوض پر اترنے والے تھے کہ اس کے پاس ایک پیاسا سوار شخص اطمناین کے ساتھ آیا اور کہنے لگا : کیا میں پانی کے پاس آجاؤں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں۔ پس وہ شخص دور ہوگیا۔ اس نے اپنی سواری کو باندھا جب اس کی سواری نے پانی دیکھا تو وہ حوض کے قریب ہوگئی اور حوض میں گھس گئی پھر وہ حوض کا مالک اٹھا اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس آدمی کو مارڈالا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص فتوی لینے کے لیے نکلا پس اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند لوگوں سے سوال کیا میں ان کے نام نہیں بتلاؤں گا وہ سب اس کو مایوس کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ ایک صحابی کے پاس گیا، انھوں نے اس آدمی سے کہا : کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے دے یا آسمان تک سیڑھی بنا لے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر وہ آدمی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین ہیں ؟ اس نے کہا میری والدہ زندہ ہیں۔ ان صحابی نے ان سے کہا کہ جا ان کی خدمت کر اور ان کی فرمان برداری کر۔ اگر دوسرا شخص جہنم میں داخل ہوا تو اللہ دور کرے اس شخص کو جو اسے دور کرے گا۔
(۲۸۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُزَاحِمًا الضَّبِّیَّ یُحَدِّثُ الْحَسَنَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَیْنَمَا رَجُلٌ قَدْ سَقَی فِی حَوْضٍ لَہُ ، یَنْتَظِرُ ذَوْدًا تَرِدُ عَلَیْہِ ، إِذْ جَائَہُ رَجُلٌ رَاکِبٌ ظَمْآنُ مُطْمَئِنٌّ ، قَالَ : أَرِدْ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَتَنَحَّی ، فَعَقَلَ رَاحِلَتَہُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَائَ دَنَتْ مِنَ الْحَوْضِ ، فَفَجَّرَتِ الْحَوْضَ ، قَالَ : فَقَامَ صَاحِبُ الْحَوْضِ فَأَخَذَ سَیْفًا مِنْ عنقِہِ ، ثُمَّ ضَرَبَہ بِہِ حَتَّی قَتَلَہُ، قَالَ: فَخَرَجَ یَسْتَفْتِی، فَسَأَلَ رِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ، لَسْتُ أُسَمِّیہِمْ ، وَکُلُّہُمْ یُؤَیِّسُہُ ، حَتَّی أَتَی رَجُلاً مِنْہُمْ ، فَقَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تُصْدِرَہُ کَمَا أَوْرَدْتَہُ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَہَلَ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الأَرْضِ ، أَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَائِ ؟ فَقَالَ : لاَ ، قَالَ : فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَذَہَبَ غَیْرَ بَعِیدٍ ، فَدَعَاہُ فَرَدَّہُ ، فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ وَالِدَیْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أُمِّی حَیَّۃٌ ، قَالَ : احْمِلْہَا وَبِرَّہَا ، فَإِنْ دَخَلَ الاٰخَرُ النَّارَ ، فَأَبْعَدَ اللَّہُ مَنْ أَبْعَدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
(٢٨٣١٦) حضرت سلیمان بن علی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری سے پوچھا گیا اس آیت کے بارے میں۔ ترجمہ :۔ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کرڈالا سب انسانوں کو کیا اس آیت کا حکم ہمارے لیے بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کے لیے تھا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں قسم ہے ! اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(۲۸۳۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْکِینٍ ، قَالَ ، حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخدری ، قَالَ : قِیلَ لَہُ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ ، أَوْ فَسَادٍ فِی الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا} ، أَہِیَ لنا کَمَا کَانَتْ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِی ، وَالَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣١٧) حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنے کی توبہ قبول ہے۔
(۲۸۳۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ تَوْبَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣١٨) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ یوں کہا جاتا تھا : قاتل کی توبہ اس صورت میں ہے جب وہ شرمندہ ہو۔
(۲۸۳۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : تَوْبَۃُ الْقَاتِلِ إِذَا نَدِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣١٩) حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : میں مومن کے قاتل کی توبہ کو استغفار کے سوا کسی میں نہیں جانتا۔
(۲۸۳۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لاَ أَعْلَمُ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ تَوْبَۃً ، إِلاَّ الاِسْتِغْفَارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩১৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
(٢٨٣٢٠) حضرت صباح بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : قاتل کی توبہ قبول ہے۔
(۲۸۳۲۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لِلْقَاتِلِ تَوْبَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক: