মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৩৬ টি

হাদীস নং: ৯১৩৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٣٩) ایک اور سند سے یہ واقعہ منقول ہے۔ البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے تمہیں نگہبان نہیں بنایا، ہم نے تمہیں دعوت دینے والا بنایا تھا۔ ہم نے کوشش کرلی تھی۔ بہرحال ایک دن کی قضاء آسان ہے۔
(۹۱۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عُمَرَ ، نَحْوِہِ ، إِلاَّ أَنَّ سُفْیَانَ قَالَ : إنَّا لَمْ نَبْعَثکَ رَاعِیًا ، إنَّمَا بَعَثْنَاکَ دَاعِیًا ، وَقَدِ اجْتَہَدْنَا وَقَضَائُ یَوْمٍ یَسِیرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٠) حضرت بشر بن قیس کہتے ہیں کہ غروب شمس سے پہلے افطار کرنے کی صورت میں حضرت عمر نے لوگوں کو قضاء کرنے کا حکم دیا تھا۔
(۹۱۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَمَّنْ سَمِعَ بِشْرَ بْنَ قَیْسٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ رحمہ اللہ أَمَرَہُمْ بِالْقَضَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤١) حضرت اسمائ فرماتی ہیں کہ عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں لوگوں نے ایک مرتبہ غروب شمس سے پہلے ایک بادلوں کے دن میں روزہ افطار کرلیا تھا اور سورج بعد میں غروب ہوا تھا۔ ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام سے کہا کہ کیا انھیں قضاء کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اس کے سوا چارہ بھی کیا تھا ؟
(۹۱۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَائَ ؛ أَنَّہُمْ أَفْطَرُوا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی یَوْمِ غَیْمٍ ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔

قَالَ أَبُو أُسَامَۃَ: فَقُلْتُ لِہِشَامٍ : فَأُمِرُوا بِالْقَضَائِ ؟ قَالَ : وَمِنْ ذَلِکَ بُدٌّ ؟ (ابوداؤد ۲۳۵۱۔ احمد ۶/۳۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وقت سے پہلے افطار کرنے والا روزہ کی قضا کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { أَتِمُّوا الصِّیَامَ إلَی اللَّیْلِ }
(۹۱۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْن أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : یَقْضِی ، لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ : {أَتِمُّوا الصِّیَامَ إلَی اللَّیْلِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٣) حضرت عمر کی آگے آنے والی حدیث ایک اور سند سے منقول ہے۔
(۹۱۴۳) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی الأَسْوَد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عُمَرَ ، بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ الَّذِی یَأْتِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غروب شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کا روزہ ہوگیا۔
(۹۱۴۴) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ فِیمَنْ أَفْطَرَ وَہُوَ یَرَی أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ ، ثُمَّ اسْتَبَانَ لَہُ أَنَّہَا لَمْ تَغِبْ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : أَجْزَأَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٥) حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ کے گھر سے کھانے کا ایک بڑا برتن لایا گیا تو لوگ سمجھے کہ سورج غروب ہوگیا۔ اس دن بادل تھے، اس پر لوگوں نے روزہ افطار کرلیا۔ کچھ دیر بعد بادل چھٹے تو چمکتا سورج نظر آنے لگا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم گناہ سے نہیں بچ سکے۔
(۹۱۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : أُخْرِجَتْ عِسَاسٌ مِنْ بَیْتِ حَفْصَۃَ وَعَلَی السَّمَائِ سَحَابٌ ، فَظَنُّوا أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ فَأَفْطَرُوا ، فَلَمْ یَلْبَثُوا أَنْ تَجَلَّی السَّحَابُ فَإِذَا الشَّمْسُ طَالِعَۃٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَجَانَفْنَا مِنْ إِثْمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٦) حضرت قطن فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں لوگوں نے رمضان کا روزہ غروب شمس سے پہلے افطار کرلیا تو حضرت معاویہ نے انھیں قضا کا حکم دیا۔
(۹۱۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ قَطَنٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ فِی رَمَضَانَ فَأَفْطَرُوا ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَقْضُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٧) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ میں نے بادلوں والے دن میں رمضان کا روزہ یہ سمجھتے ہوئے افطار کرلیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے، پھر سورج ظاہر ہوگیا تو کیا میں اس روزے کی قضا کروں اور کفارہ نہ دوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ یونہی کرو۔
(۹۱۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ: قُلْتُ: أَفْطَرْتُ فِی یَوْمٍ مُغَیِّمٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ، وَأَنَا أَحْسِبُہُ اللَّیْلَ ، ثُمَّ بَدَتِ الشَّمْسُ ، أَفَأَقْضِی ذَلِکَ الْیَوْمَ قَطُّ ، وَلاَ أُکَفِّرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٨) حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سرزمین روم میں حضرت زیاد بن نضر کے ساتھ تھا۔ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا تو لوگوں نے روزہ رکھا جن میں حضرت عبداللہ، عامر بن سعد، سمیع، ابوعبداللہ، ابو معمر اور ابو مسافع تھے۔ لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا اس دن آسمان پر بادل تھے۔ ہم حارث اور حویرث نامی دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ میں نے اس وقت تک افطار نہ کیا جب تک رات ظاہر نہ ہوگئی۔ پھر سورج نکلا اور ہم نے پہاڑوں پر اسے دیکھا۔ تو زیاد نے کہا کہ ہم اس دن کی قضا کریں گے اور ہم نے اس روزے کا اعتبارنہ کیا۔
(۹۱۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : غَزَوْت مَعَ زِیَادِ بْنِ النَّضْرِ أَرْضَ الرُّومِ ، قَالَ: فَأَہْلَلْنَا رَمَضَانَ فَصَامَ النَّاسُ وَفِیہِمْ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ ؛ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَسُمَیْعٌ ، وَأَبُو عَبْدِ اللہِ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، وَأَبُو مُسَافِعٍ فَأَفْطَرَ النَّاسُ یَوْمًا وَالسَّمَائُ مُتَغَیِّمَۃٌ ، وَنَحْنُ بَیْنَ جَبَلَیْنِ ؛ الْحَارِثِ وَالْحُوَیْرِثِ ، وَلَمْ أُفْطِرْ أَنَا حَتَّی تبدّی اللَّیْل ، ثُمَّ إنَّ الشَّمْسَ خَرَجَتْ فَأَبْصَرْنَاہَا عَلَی الْجَبَلِ ، فَقَالَ زِیَادٌ : أَمَّا ہَذَا الْیَوْمُ فَسَوْفَ نَقْضِیہِ ، وَلَمْ نَتَعَمَّدْ فِطْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٤٩) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رمضان کے مہینے میں روزہ افطار کیا تو ان سے کہا گیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے ! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ معمولی غلطی ہے، ہم نے تو پوری کوشش کی ہے لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔
(۹۱۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَخِیہِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَفْطَرَ عُمَرُ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَقِیلَ لَہُ : قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : خَطْبٌ یَسِیرٌ ، قَدْ کُنَّا جَاہِدِینِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٠) حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سحری کے بارے میں سوال کرنے کے لیے حضرت ابن عباس کے پاس آیا۔ حضرت ابن عباس کے ایک صاحب مجلس نے ان سے کہا کہ اس وقت کھانا نہ کھاؤ جب تمہیں شک ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس نے کوئی بات نہیں کی، اس وقت تک کھاؤ جب تک تمہیں شک ہو یہاں تک کہ شک نہ رہے۔
(۹۱۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنِ السُّحُورِ ؟ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِہِ : کُلْ حَتَّی لاَ تَشُکَّ ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إنَّ ہَذَا لاَ یَقُولُ شَیْئًا ، کُلْ مَا شَکَکْت حَتَّی لاَ تَشُکَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥١) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت ابوبکر کے پاس آئے اس وقت وہ سحری کھا رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ فجر طلوع ہوگئی ہے۔ دوسرے نے کہا کہ فجر ابھی تک طلوع نہیں ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ کھاؤ ، ان دونوں کا اختلاف ہوگیا ہے۔
(۹۱۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْوَلِیدِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلاَنِ عَلَی أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ یَتَسَحَّرُ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَقَالَ الآخَرُ : لَمْ یَطْلُعْ بَعْدُ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : کُلْ قَدِ اخْتَلَفَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٢) حضرت ابوبکر سے ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۹۱۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْوَلِیدِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، بِنَحْوِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٣) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر نے زمزم کے کنویں سے ایک ڈول پانی کالیا۔ انھوں نے دو آدمیوں سے کہا کہ کیا فجر طلوع ہوگئی ؟ ان میں سے ایک نے کہا نہیں، دوسرے نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت ابن عمر نے پانی پی لیا۔
(۹۱۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ دَلْوًا مِنْ زَمْزَمَ ، فَقَالَ لِرَجُلَیْنِ : أَطَلَعَ الْفَجْرُ ؟ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : لاَ ، وَقَالَ الآخَرُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَشَرِبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس وقت تک کھاؤ جب تک روشنی چوڑائی کی شکل میں ہو۔
(۹۱۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُلْ حَتَّی تَرَاہُ مُعْتَرِضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٥) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت تک کھاؤ جب تک افق پر چادر کی پھٹن جیسی صورت ہو۔
(۹۱۵۵) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کُلْ حَتَّی تَرَاہُ مِثْلَ شِقِّ الطَّیْلَسَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس حضرت ام ہانی کے گھر میں رمضان کے مہینے میں سحری کھا رہے تھے۔ آپ کے دو غلاموں میں سے ایک نے کہا کہ فجر طلوع ہوگئی ہے اور دوسرے نے کہا کہ فجر ابھی تک طلوع نہیں ہوئی۔ انھوں نے فرمایا کہ مجھے پانی پلاؤ۔
(۹۱۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِغُلاَمَیْنِ لَہُ ، وَہُوَ فِی دَارِ أُمِّ ہَانِیئٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ وَہُوَ یَتَسَحَّرُ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَقَالَ الآخَرُ : لَمْ یَطْلُعْ ، قَالَ : اِسْقِیَانِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٧) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ کھاؤ یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے۔
(۹۱۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَر ، قَالَ : کُلْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الْفَجْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৫৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٨) حضرت یزید بن زید نے کہا کہ حضرت حسن سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ جب مجھے صبح کے بارے میں شک ہو تو کیا میں سحری کھا سکتا ہوں ؟ حضرت حسن نے فرمایا کہ جب تک تمہیں شک ہو تو تم کھاتے رہو، خدا کی قسم ! صبح کے اندر کوئی خفاء نہیں ہے۔
(۹۱۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : أَتَسَحَّرُ وَأَمْتَرِی فِی الصُّبْحِ ؟ فَقَالَ : کُلْ مَا امْتَرَیْت ، إِنَّہُ وَاللَّہِ لَیْسَ بِالصُّبْحِ خَفَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক: