মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৩৬ টি
হাদীস নং: ৯১৫৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٥٩) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب دو آدمیوں کو فجر کے بارے میں شک ہو تو اس وقت تک کھاؤ جب تک ان دونوں کو یقین نہ ہوجائے۔
(۹۱۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا شَکَّ الرَّجُلاَنِ فِی الْفَجْرِ ، فَلْیَأْکُلاَ حَتَّی یَسْتَیْقِنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٦٠) حضرت مسلم بن صبیح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا کہ میں سحری کھانا کب چھوڑوں ؟ ان کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے کہا کہ جب تمہیں شک ہو تو اس وقت نہ کھاؤ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب تمہیں شک ہو اس وقت کھالو اور اس وقت تک کھاتے رہو جب تک شک نہ رہے۔
(۹۱۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَیْحٍ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَتَی أَدَعُ السُّحُورَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ جَالِسٌ عِنْدَہُ : کُلْ حَتَّی إذَا شَکَکْت فَدَعْہُ ، فَقَالَ : کُلْ مَا شَکَکْت حَتَّی لاَ تَشُکَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے ؟
(٩١٦١) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ میں نے برتن اپنے سامنے رکھا، پھر میں دیکھنے لگا کہ کیا فجر طلوع ہوگئی ہے ؟
(۹۱۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ: وَضَعْتُ الإِنَائَ عَلَی یَدَیَّ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ہَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ؟
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٢) حضرت طلق بن علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم اس وقت تک کھاؤ اور پیو ، اوپر کو اٹھنے والی روشنی تمہیں پریشان نہ کرے، اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک سرخ روشنی عرض کی شکل میں ظاہر نہ ہوجائے۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
(۹۱۶۲) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبِی طَلْقُ بْنُ عَلِیٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کُلُوا وَاشْرَبُوا ، وَلاَ یَہِیدَنَّکُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ ، کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَعْتَرِضَ لَکُمُ الأَحْمَرُ ، وَقَالَ ہَکَذَا بِیَدِہِ۔ (ترمذی ۷۰۵۔ ابوداؤد ۲۳۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٣) حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے اور نہ ہی طول کی صورت میں پھیلنے والی صبح تمہیں سحری سے منع کرے۔ البتہ افق میں عرض کی صورت میں پھیلنے والی صبح کے بعد سحری سے رک جاؤ۔
(۹۱۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَوَادَۃُ بْنُ حَنْظَلَۃَ الْہِلاَلِیُّ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَمْنَعَنَّکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنَ السُّحُورِ ، وَلاَ الصُّبْحُ الْمُسْتَطِیلُ ، وَلَکِنِ الصُّبْحُ الْمُسْتَطِیرُ فِی الأُفُقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٤) حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں، جو صبح بھیڑیئے کی دم کی طرح ہو وہ کسی چیز کو حلال و حرام نہیں کرتی، البتہ عرض کی صورت میں پھیلنے والی صبح کھانے پینے کو حرام کردیتی ہے۔
(۹۱۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ خَالہ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْفَجْرُ فَجْرَانِ ؛ فَأَمَّا الَّذِی کَأَنَّہُ ذَنَبُ السِّرْحَانِ ، فَإِنَّہُ لاَ یُحِلُّ شَیْئًا ، وَلاَ یُحَرِّمُہُ ، وَلَکِنِ الْمُسْتَطِیرُ۔ (دار قطنی ۲۔ بیہقی ۲۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٥) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ لمبائی کی صورت میں پھیلنے والی روشنی صبح نہیں ہوتی بلکہ چوڑائی کی صورت میں پھیلنے والی روشنی صبح ہوتی ہے۔
(۹۱۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَنْ غُنَیْمِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : لَیْسَ الْفَجْرُ الَّذِی ہَکَذَا ، یَعْنِی الْمُسْتَطِیلَ ، وَلَکِنِ الْفَجْرُ الَّذِی ہَکَذَا ، یَعْنِی الْمُعْتَرِضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٦) حضرت جعفر بن نہار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے سوال کیا کہ فجر لمبائی کی صورت میں ہوتی ہے یا چوڑائی کی صورت میں ؟ انھوں نے فرمایا کہ فجر چوڑائی کی صورت میں ہوتی ہے، لمبائی کی صورت میں تو صبح کاذب ہوتی ہے۔
(۹۱۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ حَوْشَبِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ نَہَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ : أَہُوَ السَّاطِعُ ، أَمِ الْمُعْتَرِضُ ؟ قَالَ : الْمُعْتَرِضُ ، وَالسَّاطِعُ : الصُّبْحُ الْکَاذِبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٧) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ لمبی روشنی صبح نہیں ہوتی بلکہ افق سے اٹھنے والی روشنی صبح ہوتی ہے۔
(۹۱۶۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : السَّاطِعُ ذَلِکَ الصُّبْحُ الْکَاذِبُ ، وَلَکِنْ إذَا انْفَضَحَ الصُّبْحُ فِی الأُفُقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٨) حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ اسلاف تمہاری صبح کو فجر نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اس روشنی کو فجر سمجھتے تھے جو راستوں اور گھروں کو روشن کردے۔
(۹۱۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، قَالَ : لَمْ یَکُونُوا یَعُدُّونَ الْفَجْرَ فَجْرَکُمْ ہَذَا ، إِنَّمَا کَانُوا یَعُدُّونَ الْفَجْرَ الَّذِی یَمْلأُ الْبُیُوتَ وَالطُّرُقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٦٩) حضرت عدی بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہمارا فجر کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ ہم حضرت ابراہیم کے پاس آئے تو انھوں نے کہا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فجرِ ساطع یعنی لمبائی میں پھیلنے والی فجر ہے یہ فجر کی نماز کو حلال اور کھانے کو حرام نہیں کرتی۔ اور ایک سرخ چوڑائی میں پھیلنے والی فجر ہے یہ نماز کو حلال اور کھانے پینے کو حرام کردیتی ہے۔
(۹۱۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : اخْتَلَفْنَا فِی الْفَجْرِ فَأَتَیْنَا إبْرَاہِیمَ ، فَقَالَ : الْفَجْرُ فَجْرَانِ ؛ فَأَمَّا أَحَدُہُمَا فَالْفَجْرُ السَّاطِعُ فَلاَ یُحِلُّ الصَّلاَۃَ وَلاَ یُحَرِّمُ الطَّعَامَ ، وَأَمَّا الْفَجْرُ الْمُعْتَرِضُ الأَحْمَر ، فَإِنَّہُ یُحِلُّ الصَّلاَۃَ وَیُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٧٠) حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ فجر چوڑائی میں پھیلتی ہے اور اس کے ساتھ روشنی ہوتی ہے۔
(۹۱۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إسْرَائِیلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، وَعَطَائٍ قَالاَ: الْفَجْرُ الْمُعْتَرِضُ الَّذِی إلَی جَنْبِہِ حُمْرَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٧١) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری اور حضرت میمون سے سوال کیا کہ میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، میں صبح کی روشنی کو ستون کی شکل میں دیکھتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ تم اس وقت تک کھا اور پی سکتے ہو جب تک آسمان کے افق میں چوڑائی کی صورت میں روشنی نظر نہ آنے لگے۔
(۹۱۷۱) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ وَمَیْمُونًا ، فَقُلْتُ : أُرِیدُ الصَّوْمَ ، فَأَرَی عَمُودَ الصُّبْحِ السَّاطِعِ ؟ فَقَالاَ جَمِیعًا : کُلْ وَاشْرَبْ حَتَّی تَرَاہُ فِی أُفُقِ السَّمَائِ مُعْتَرِضًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فجر کی حقیقت
(٩١٧٢) حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی { حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَد } تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے رکھے۔ ایک کالا دھاگا اور ایک سفید دھاگا۔ میں رات اور دن کو الگ الگ پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے، اس آیت میں مراد رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی ہے۔
(۹۱۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : {حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَد} ، قَالَ : قَالَ عَدِیٌّ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِی عِقَالَیْنِ؛ عِقَالاً أَسْوَدَ وَعِقَالاً أَبْیَضَ ، فَأَعْرِفُ اللَّیْلَ مِنَ النَّہَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ وِسَادَک لَطَوِیلٌ عَرِیضٌ ، إنَّمَا ہُوَ سَوَادُ اللَّیْلِ وَبَیَاضُ النَّہَارِ۔ (بخاری ۱۹۱۶۔ ابوداؤد ۲۳۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
(۹۱۷۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الصَّائِمُ بِالْخِیَارِ ، مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٤) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
(۹۱۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الصَّائِمُ بِالْخِیَارِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٥) حضرت انس فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے دل میں روزے کا ارادہ کیا اسے اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ بات نہ کرے۔ یہ اختیار دن کے اکثر حصے کے گذر جانے تک باقی رہتا ہے۔
(۹۱۷۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَنْ حَدَّثَ نَفْسَہُ بِالصِّیَامِ فَہُوَ بِالْخِیَارِ ، مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ حَتَّی یَمْتَدَّ النَّہَارُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٦) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب تم روزے کے ارادے سے صبح کرو تو تمہیں اختیار ہے، اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔ البتہ اگر تم نے رات کو اپنے اوپر روزہ فرض کرلیا تو اب روزہ رکھنا ضروری ہے۔
(۹۱۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا أَصْبَحْت وَأَنْتَ تُرِیدُ الصَّوْمَ فَأَنْتَ بِالْخِیَارِ ، إِنْ شِئْتَ صُمْت وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْت ، إِلاَّ أَنْ تَفْرِضَ عَلَی نَفْسِکَ الصَّوْمَ مِنَ اللَّیْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٧) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تم کھا پی نہ لو اس وقت تک تمہیں اختیار ہے۔
(۹۱۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : أَحَدُکُمْ بأَحَد النَّظَرَیْنِ مَا لَمْ یَأْکُلْ ، أَوْ یَشْرَبْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٨) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ کیا نفلی روزے کے بارے میں آدمی کو نصفِ نہار تک اختیار ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔
(۹۱۷۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لإبْرَاہِیمَ : الرَّجُلُ فِی صِیَامِ التَّطَوُّعِ بِالْخِیَارِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
তাহকীক: