মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৩৬ টি
হাদীস নং: ৯৪১৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤١٩) حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن سلمی کو دیکھا، انھوں نے غروب شمس سے پہلے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن ! آپ تو روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ روزہ دار کے پچھنوں کو کمزوری پیدا ہونے کے خوف سے مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
(۹۴۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیَّ احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، نَحْوًا مِمَّا یُوَافِقُ شَرْطُہُ فِطْرَہُ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ إنَّمَا تُکْرَہُ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ ، قَالَ : إنَّمَا تُکْرَہُ لَہُ مَخَافَۃَ الضَّعْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٠) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کی آسانی کے لیے ان پر شفقت کرتے ہوئے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے اور صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(۹۴۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا : إنَّمَا نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ ، وَالْوِصَالِ فِی الصِّیَامِ إبْقَائً عَلَی أَصْحَابِہِ۔ (ابوداؤد ۲۳۶۶۔ احمد ۴/۳۱۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢١) حضرت بزیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے روزہ کے دوران پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کی کراہت کمزوری کے اندیشے کی وجہ سے ہے۔
(۹۴۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ بُزَیْعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ ؟ فَقَالَ : إنَّمَا یُکْرَہُ ذَلِکَ لِلضَّعْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٢) حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
(۹۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِی الزَّاہِرِیَّۃِ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ؛ أَنَّ مُعَاذًا احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٣) حضرت عطاء اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو کمزوری کا خوف نہ ہو تو پچھنے لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔
(۹۴۲۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالاَ : لاَ بَأْسَ بِالْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ مَا لَمْ یَخَفْ ضَعْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٤) حضرت قاسم اور حضرت سالم سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۹۴۲۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَسَالِمٍ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٥) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عکرمہ سے روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تمہارے جسم سے نکلنے والے پاخانے کی طرح ہے۔
(۹۴۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عِکْرِمَۃَ عَنِ الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہَا ، إنَّمَا ہِیَ مِثْلُ کَذَا وَکَذَا یَخْرُجُ مِنْکَ ، ذَکَرَ الْحَاجَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٦) حضرت عروہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے۔
(۹۴۲۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَحْتَجِمُ وَہُوَ صَائِمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٧) حضرت ام سلمہ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
(۹۴۲۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ مَوْلًی لأُمِّ سَلَمَۃَ ؛ أَنَّہُ رَأَی أُمَّ سَلَمَۃَ تَحْتَجِمُ وَہِیَ صَائِمَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے، پھر انھوں نے ایسا کرنا چھوڑدیا۔ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ایسا کرنا کیوں چھوڑا، کسی کراہت کی وجہ سے چھوڑا یا کمزوری کی وجہ سے۔
(۹۴۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَزِیدَ ، وَعُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَحْتَجِمُ وَہُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ تَرَکَ ذَلِکَ ، فَلاَ أَدْرِی لأَیِّ شَیْئٍ تَرَکَہُ ؟ کَرِہَہُ ، أَوْ لِلضَّعْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٢٩) حضرت ابو طیبہ فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ کی حالت میں تھے اور میں نے آپ کے پچھنے لگائے۔
(۹۴۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِث ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ بِنَا أَبُو طیبۃَ ، فَقَالَ : حجَمْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (ترمذی ۳۶۶۔ ابویعلی ۴۲۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے
(٩٤٣٠) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے کمزوری کے اندیشہ کے پیش نظر پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
(۹۴۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ؛ إنَّمَا کُرِہَ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ مَخَافَۃَ الضَّعْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی عورت کو رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں حیض آجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٩٤٣١) حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی عورت کو رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں حیض آجائے تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا وہ کھانا پینا شروع کردے۔
(۹۴۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَک ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الْمَرْأَۃِ تَحِیضُ أَوَّلَ النَّہَارِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : تَأْکُلُ وَتَشْرَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی عورت کو رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں حیض آجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٩٤٣٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت رمضان میں سورج کے زرد ہونے کے بعد حائضہ ہوئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ اگر وہ حائضہ تھی، لیکن طلوع فجر کے بعدوہ پاک ہوگئی تو باقی دن کچھ نہ کھائے پئے۔
(۹۴۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْمَرْأَۃِ حَاضَتْ بَعْدَ مَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فِی رَمَضَانَ ، قَالَ : تُفْطِرُ ، قَالَ : وَإِنْ أَصْبَحَتْ حَائِضًا ، فَطَہُرَتْ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ؟ قَالَ : لاَ تَأْکُلُ بَقِیَّۃَ یَوْمِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی عورت کو رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں حیض آجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٩٤٣٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے پاکی کی حالت میں روزے کے ساتھ دن شروع کیا، پھر اسے حیض آگیا تو وہ کھا سکتی ہے۔
(۹۴۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی الْمَرْأَۃِ تُصْبِحُ صَائِمَۃً أَوَّلَ النَّہَارِ ، ثُمَّ تَحِیضُ ، قَالَ : تَأْکُلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی عورت کو رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں حیض آجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٩٤٣٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر رمضان کے دن میں کوئی عورت پاک ہوجائے تو مشرکین کی مشابہت سے بچنے کے لیے رات تک کچھ نہ کھائے۔
(۹۴۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْحَائِضِ تَطْہُرُ فَلاَ تَأْکُلُ شَیْئًا، کَرَاہَۃ أَنْ تُشْبِہَ الْمُشْرِکِینَ إلَی اللَّیْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسافر رمضان کے دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے مقام پر واپس آجائے
(٩٤٣٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس نے دن کے شروع کے حصہ میں کھایا ہے وہ آخری حصہ میں بھی کھائے۔
(۹۴۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَنْ أَکَلَ أَوَّلَ النَّہَارِ فَلْیَأْکُلْ آخِرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسافر رمضان کے دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے مقام پر واپس آجائے
(٩٤٣٦) حضرت حسن اس شخص کے بارے میں جو ماہ رمضان میں دن کے ابتدائی حصہ میں مسافر تھا، اس نے کچھ کھایا اور پھر اپنے مقام پر پہنچ گیا، وہ باقی دن کچھ نہ کھائے۔
(۹۴۳۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : فِی رَجُلٍ قَدِمَ فِی رَمَضَانَ أَوَّلَ النَّہَارِ وَقَدْ أَکَلَ ، قَالَ : لاَ یَأْکُلُ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسافر رمضان کے دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے مقام پر واپس آجائے
(٩٤٣٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سفر سے واپس پہنچا اور اس نے کچھ کھالیا تھا تو باقی دن کچھ نہ کھائے۔ عبداللہ بن نمیر کی روایت میں ہے کہ وہ مشرکین کی مشابہت سے بچنے کے لیے کچھ نہ کھائے۔
(۹۴۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْمُسَافِرِ یَقْدَمُ وَقَدْ کَانَ أَکَلَ؟ قَالَ : لاَ یَأْکُلُ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : لاَ یَأْکُلُ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَتَشَبَّہَ بِالْمُشْرِکِینَ ، إلَی اللَّیْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسافر رمضان کے دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے مقام پر واپس آجائے
(٩٤٣٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مسافر جب اپنے شہر میں پہنچ جائے تو کچھ نہ کھائے، خواہ وہ پہلے کچھ کھاچکا ہو۔
(۹۴۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حُرَیْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ الْمِصْرَ لَمْ یَطْعَمْ شَیْئًا ، وَإِنْ کَانَ أَکَلَ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ۔
তাহকীক: