মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০০৮ টি
হাদীস নং: ১০১৩৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٣٥) حضرت مغیرہ ارشاد فرما سے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سنا اس وقت حضرت ابراہیم تشریف فرما تھے، وہ فرماتے ہیں کہ : ترکاری پر، پھل پر اور سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۱۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا ، وَإِبْرَاہِیمَ جَالِسٌ یَقُولُ : لَیْسَ فِی الْبُقُولِ ، وَلاَ فِی التُّفَّاحِ ، وَلاَ فِی الْخَضِرِ زَکَاۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٣٦) حضرت حکم ارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۱۳۶) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْخَضِرَاوَاتِ صَدَقَۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٣٧) حضرت مطرف ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت حکم سے گھاس، دالوں اور تل سے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا ان میں کچھ نہیں ہے۔ حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جو ہم نے اپنے اصحاب سے یاد کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان میں کچھ نہیں ہے سوائے گندم، جو، کھجور اور کشمش کے (ان پر زکوۃ ہے) ۔
(۱۰۱۳۷) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ عَنِ الْفَصَافِصِ ، وَالأَقْطَانِ ، وَالسَّمَاسِمِ ؟ فَقَالَ : لَیْسَ فِیہَا شَیْئٌ . قَالَ الْحَکَمُ : فِیمَا حَفِظْنَا عَنْ أَصْحَابِنَا أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ : لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنْ ہَذَا شَیْئٌ ، إِلاَّ فِی الْحِنْطَۃِ ، وَالشَّعِیرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِیبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٣٨) حضرت عطاء خراسانی ارشاد فرماتے ہیں کہ پھلوں پر عشر نہیں ہے، اخروٹ، بادام، ترکاری اور سبزیوں پر بھی، ہاں اگر ان کو فروخت کیا جائے اور ان کی قیمت دو سو درھم یا اس سے زائد ہوجائے تو پھر اس پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۳۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْفَاکِہَۃِ عُشُورٌ ؛الْجَوْزُ ، وَاللَّوْزُ ، وَالْبُقُولُ کُلُّہَا ، وَالْخَضِرُ ، وَلَکِنْ مَا بِیعَ مِنْہُ فَبَلَغَ مِئَتَیْ دِرْہَمٍ فَصَاعِدًا ، فَفِیہِ الزَّکَاۃُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٣٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ترکاری، بانس، خربوزہ، ککڑی، روئی اور پھلوں پر کچھ نہیں ہے۔ مالٹا، سیب، زیتون، انار اور آڑو، اور پھلوں کو شمار کیا جائے گا سب میں زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۳۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَائٌ: لَیْسَ فِی الْبُقُولِ، وَالْقَصَبِ، وَالْخِرْبَزِ، وَالْقِثَّائِ، وَالْکُرْسُفِ ، وَالْفَوَاکِہِ ، وَالأُتْرُجِّ ، وَالتُّفَّاحِ ، وَالتِّینِ ، وَالرُّمَّانِ ، وَالْفَرْسَکِ ، وَالْفَاکِہَۃِ تُعَدُّ کُلُّہَا صَدَقَۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سبزیوں پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٤٠) حضرت ابو العلاء بن شخیر فرماتے ہیں کہ گھاس اور ترکاری پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۱۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الأَعْلاَفِ ، وَلاَ فِی الْبُقُولِ صَدَقَۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیتون پر زکوۃ نہیں ؟
(١٠١٤١) حضرت امام زہری زیتون سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو کیل کیا جائے گا اور اس میں عشر ہے۔
(۱۰۱۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ فِی الزَّیْتُونِ ، قَالَ : ہُوَ یُکَالُ فِیہِ الْعُشْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیتون پر زکوۃ نہیں ؟
(١٠١٤٢) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ : زیتون میں عشر ہے۔
(۱۰۱۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِی الزَّیْتُونِ الْعُشْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیتون پر زکوۃ نہیں ؟
(١٠١٤٣) حضرت رجاء بن ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت یزید بن یزید بن جابر سے زیتون کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عمر نے شام والوں سے عشر لیا تھا۔
(۱۰۱۴۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حَبَّابٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ یَزِیدَ بْنَ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنِ الزَّیْتُونِ ؟ فَقَالَ : عَشَّرَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالشَّامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیتون پر زکوۃ نہیں ؟
(١٠١٤٤) حضرت عطاء خراسانی ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں عشر ہے۔
(۱۰۱۴۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حَبَّابٍ ، عَنْ رَجَائٍ ، عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ ، قَالَ : فِیہِ الْعُشْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد میں زکوۃ ہے کہ نہیں ؟
(١٠١٤٥) حضرت ابو سیارۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں (شہید ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر عشر ادا کرو۔ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول تو وہ آپ مجھ سے وصول فرما لیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصول فرما لیا۔
(۱۰۱۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، عَنْ أَبِی سَیَّارَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ لِی نَحْلاً ، قَالَ : أَدِّیَنَّ الْعُشْرُ ؟ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، احْمِہَا لِی ، قَالَ : فَحَمَاہَا لِی. (احمد ۲۳۶۔ ابن ماجہ ۱۸۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد میں زکوۃ ہے کہ نہیں ؟
(١٠١٤٦) حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو امیر طائف نے خط لکھا کہ شہد والوں نے ہم سے روک لیا ہے جو وہ ہم سے پہلے والوں کو دیا کرتے تھے، حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ اگر تو وہ اتنا ہی ادا کریں جتنا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادا کرتے تھے تو ان سے وصول کرلو وگرنہ نہ وصول کرو، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمروبن شعیب کا گمان یہ تھا کہ وہ ہر دس مشکیزوں پہ ایک مشکیزہ دیا کرتے تھے۔
(۱۰۱۴۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ؛ أَنَّ أَمِیرَ الطَّائِفِ کَتَبَ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ أَہْلَ الْعَسَلِ مَنَعُونَا مَا کَانُوا یُعْطُونَ مَنْ کَانَ قَبْلَنَا ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ إِنْ أَعْطَوْک مَا کَانُوا یُعْطُونَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحْمِ لَہُمْ ، وَإِلاَّ فَلاَ تَحْمِہَا لَہُمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ أَنَّہُمْ کَانُوا یُعْطُونَ مِنْ کُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَۃً. (ابوداؤد ۱۵۹۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد میں زکوۃ ہے کہ نہیں ؟
(١٠١٤٧) حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ شہد میں عشر ہے۔
(۱۰۱۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : فِی الْعَسَلِ عُشْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد میں زکوۃ ہے کہ نہیں ؟
(١٠١٤٨) حضرت سعد بن ابو ذباب اپنی قوم کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا : شہد میں زکوۃ ہے اور اس مال میں کوئی خیر نہیں جس کی زکوۃ نہ ادا کی گئی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ قوم والوں نے عرض کیا کہ کتنا ہے ؟ آپ نے فرمایا عشر۔ پھر آپ نے ان سے عشر وصول فرمایا اور وہ لے کر حضرت عمر کی خدمت میں پہنچے اور ان کو اس کے بارے میں بتایا، حضرت عمر نے وہ وصول شدہ عشر ان سے لے کر مسلمانوں کے زکوۃ (میں جمع شدہ میں) رکھ لیا۔
(۱۰۱۴۸) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُنِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ ؛ أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی قَوْمِہِ فَقَالَ لَہُم : فِی الْعَسَلِ زَکَاۃٌ ، فَإِنَّہُ لاَ خَیْرَ فِی مَالٍ لاَ یُزَکَّی ، قَالَ : قَالُوا : فَکَمْ تَرَی ؟ قُلْتُ : الْعُشْرُ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْہُمَ الْعُشْرَ ، فَقَدِمَ بِہِ عَلَی عُمَرَ وَأَخْبَرَہُ بِمَا فِیہِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ عُمَرُ وَجَعَلَہُ فِی صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِینَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد میں زکوۃ ہے کہ نہیں ؟
(١٠١٤٩) حضرت امام زہری ارشاد فرماتے ہیں کہ شہد میں عشر ہے۔
(۱۰۱۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : فِی الْعَسَلِ الْعُشْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شہد میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٠) حضرت طاوس ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ جب یمن تشریف لائے تو ان کے پاس لوگ شہد اور بکریوں کے دو فریضوں کے درمیانی عدد کو لے کر آئے (اونٹ پانچ ہوں تو زکوۃ صرف ایک بکری ہے اور جب تک ان کی تعداد دس نہ ہو کوئی اضافہ نہ ہوگا پس پانچ سے دس تک وقص کہلاتا ہے) آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے ان کے (وصول کرنے کے) بارے میں حکم نہیں دیا گیا۔
(۱۰۱۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ؛ أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا أَتَی الْیَمَنَ أُتَیَ بِالْعَسَلِ وَأَوْقَاصِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : لَمْ أُومَر فِیہَا بِشَیْئٍ. (عبدالرزاق ۶۹۶۴۔ بیہقی ۱۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شہد میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥١) حضرت نافع ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز نے یمن بھیجا، میں نے شہد میں عشر لینے کا ارادہ کیا تو مجھے مغیرہ بن حکیم الصنعانی نے منع فرمایا کہ اس میں عشر نہیں ہے۔ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو صورت حال لکھی، آپ نے ارشاد فرمایا انھوں نے ٹھیک کہا ہے وہ عادل ہیں۔
(۱۰۱۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : بَعَثَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَلَی الْیَمَنِ ، فَأَرَدْت أَنْ آخُذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرَ ، قَالَ مُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ الصَّنْعَانِیُّ : لَیْسَ فِیہِ شَیْئٌ ، فَکَتَبْتُ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، وَہُوَ عَدْلٌ رضا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شہد میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٢) حضرت نافع ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھ سے شہد کی زکوۃ کے بارے میں دریافت کیا، میں نے عرض کیا کہ حضرت مغیرہ بن حکیم نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں کچھ نہیں ہے۔ (زکوۃ نہیں ہے) حضرت عمر بن عبد العزیز نے ارشاد فرمایا کہ وہ عادل ہیں ان کی تصدیق کی جائے گی۔
(۱۰۱۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَأَلَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ صَدَقَۃِ الْعَسَلِ ؟ فَقُلْتُ : أَخْبَرَنِی الْمُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ ، أَنَّہُ لَیْسَ فِیہِ صَدَقَۃٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَدْلٌ مُصَدَّقٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٣) حضرت اذینہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ عنبر خزانہ نہیں ہے، بیشک عنبر وہ چیز ہے جس کو سمندر ساحل پہ پھینک دے، اس میں کچھ لازم نہیں۔
(۱۰۱۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أُذَیْنَۃَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَیْسَ الْعَنْبَرُ بِرِکَازٍ ، وَإِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ دَسَرَہُ الْبَحْرُ ، لَیْسَ فِیہِ شَیْئٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٤) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے۔ عنبر وہ ہے جسے سمندر ساحل پر پھینک دے۔
(۱۰۱۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أُذَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْعَنْبَرِ زَکَاۃٌ ، إنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ دَسَرَہُ الْبَحْرُ.
তাহকীক: