মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০০৮ টি
হাদীস নং: ১০১৫৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے۔ یہ تو جو اس کو حاصل کرلے اس کے لیے غنیمت ہے۔
(۱۰۱۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الَعَنَبَرِ زَکَاۃٌ ، إنَّمَا ہُوَ غَنِیمَۃٌ لِمَنْ أَخَذَہُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٦) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن محمد نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ عنبر میں سات سو رطل ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس پر خمس (پانچواں حصہ) لیا جائے گا۔
(۱۰۱۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ؛ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَتَبَ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فِی عَنْبَرَۃٍ فِیہَا سَبْعُمِئَۃِ رِطْلٍ ، قَالَ : فِیہَا الْخُمُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٧) حضرت لیث سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز عنبر پر خمس وصول فرماتے تھے۔
(۱۰۱۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ خَمَّسَ الْعَنْبَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عنبر میں خمس ہے اور ہیروں سے متعلق بھی یہی فرماتے ہیں۔
(۱۰۱۵۸) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : فِی الْعَنْبَرِ الْخُمُسُ ، وَکَذَلِکَ کَانَ یَقُولُ فِی اللُّؤْلُؤِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٥٩) حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن سعد نے حضرت ابن عباس سے عنبر کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر خمس ہے۔
(۱۰۱۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلَ إبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَنْبَرِ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ فِیہِ شَیْئٌ ، فَفِیہِ الْخُمُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٦٠) حضرت طاوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے عنبر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اس میں خمس ہے۔
(۱۰۱۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْعَنْبَرِ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ فِیہِ شَیْئٌ ، فَفِیہِ الْخُمُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے
(١٠١٦١) حضرت سفیان ارشاد فرماتے ہیں کہ عنبر میں، شہد میں اور اوقاص میں (درمیانی عدد میں) زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۱۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : کَانَ سُفْیَانُ یَقُولُ : لَیْسَ فِی الْعَنْبَرِ ، وَلاَ فِی الْعَسَلِ ، وَلاَ فِی الأَوْقَاصِ زَکَاۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٢) حضرت عکرمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہیرے اور زمرد کے پتھر میں زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر تجارت کے لیے ہوں تو پھر ان پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ، عَنْ خُصَیْفٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ: لَیْسَ فِی حَجَرِ اللُّؤْلُؤِ ، وَلاَ حَجَرِ الزُّمُرُّدِ زَکَاۃٌ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَا لِتِجَارَۃٍ ، فَإِنْ کَانَا لِتِجَارَۃٍ فَفِیہِمَا زَکَاۃٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٣) حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ نگینہ اور ہیرے پر زکوۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں (تو پھر زکوۃ ہے) ۔
(۱۰۱۶۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: لَیْسَ فِی الْخَرَزِ وَاللُّؤْلُؤِ زَکَاۃٌ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَا لِتِجَارَۃٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٤) حضرت عکرمہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
(۱۰۱۶۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ مِثْلَہُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٥) حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ نگینہ اور ہیرے پر زکوۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں (تو پھر زکوۃ ہے) ۔
(۱۰۱۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْخَرَزِ وَاللُّؤْلُؤِ زَکَاۃٌ ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لِتِجَارَۃٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٦) حضرت حجاج، حضرت عطائ، حضرت زہری اور حضرت مکحول یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ جواہر پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ وہ تجارت کیلئے نہ ہوں۔
(۱۰۱۶۶) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَالزُّہْرِیِّ ، وَمَکْحُولٍ ، قَالُوا : لَیْسَ فِی الْجَوْہَرِ شَیْئٌ ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لِتِجَارَۃٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٧) حضرت شعبہ سے مروی ہے کہ حضرت حکم زیور پر زکوۃ کو واجب نہیں سمجھتے تھے سوائے سونے اور چاندی کے، اور اس طرح جواہر اور ہیرے پر بھی زکوۃ کو واجب نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۰۱۶۷) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی فِی الْحُلِیِّ زَکَاۃً ، إِلاَّ فِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَلاَ یَرَاہُ فِی الْجَوْہَرِ ، وَاللُّؤْلُؤِ وَہَذَا النَّحْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٨) حضرت ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوۃ ہے خواہ وہ دودھ اور مٹی کا گارا ہی کیوں نہ ہو۔ اور فرماتے ہیں کہ حضرت حکم کی بھی یہی رائے تھی۔
(۱۰۱۶۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ أُرِیدَ بِہِ التِّجَارَۃُ فَفِیہِ الزَّکَاۃُ ، وَإِنْ کَانَ لَبَنٌ ، أَوْ طِینٌ . قَالَ : وَکَانَ الْحَکَمُ یَرَی ذَلِکَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٦٩) حضرت حماد ارشاد فرماتے ہیں کہ جواہر میں زکوۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں۔
(۱۰۱۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الْجَوْہَرِ زَکَاۃٌ ، إِلاَّ أَنْ یُشْتَرَی لِتِجَارَۃٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٧٠) حضرت ابن جریج ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عطاء نے فرمایا کہ ہیرے، زبرجد (قیمتی پتھر) یاقوت، نگینہ اور سامان اور ہر وہ چیز جو گھومتی نہ ہو (تجارت میں) ان پر زکوۃ نہیں ہے اور جو چیز تجارت کیلئے ہو تو اس کو فروخت کرنے کے بعد اس کے ثمن پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۷۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْر ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ لِی عَطَائٌ : لاَ صَدَقَۃَ فِی لُؤْلُؤٍ ، وَلاَ زَبَرْجَدٍ ، وَلاَ یَاقُوتٍ ، وَلاَ فُصُوصٍ ، وَلاَ عَرْضٍ ، وَلاَ شَیْئٍ لاَ یُدَارُ ، وَإِنْ کَانَ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ یُدَارُ فَفِیہِ الصَّدَقَۃُ ، فِی ثَمَنِہِ حِینَ یُبَاعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٧١) حضرت اسامہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے ہیرے کی زکوۃ کے بارے میں دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جو پہنتے ہیں جیسے زیور وغیرہ اور وہ تجارت کیلئے نہ ہو ان پر زکوۃ نہیں ہے۔ اور جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوۃ ہے۔
(۱۰۱۷۱) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ اللُّؤْلُؤِ : ہَلْ فِیہِ زَکَاۃٌ ؟ فَقَالَ : مَا کَانَ مِنْہُ یُلْبَسُ کَالْحُلِیِّ لَیْسَ لِتِجَارَۃٍ ، فَلاَ زَکَاۃَ فِیہِ ، وَمَا کَانَ مِنْ ذَلِکَ لِلتِّجَارَۃِ فَفِیہِ الزَّکَاۃُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیرے اور زمرد کی زکوۃ کا بیان
(١٠١٧٢) حضرت ابو الملیح ہیرے پر زکوۃ کے قائل تھے۔
(۱۰۱۷۲) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ، فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ ؛ کَأَنَّہُ یَرَی فِیہِ الزَّکَاۃَ ، یَعْنِی اللُّؤْلُؤَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٣) حضرت عمروبن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس زمین کو جاری پانی سے سیراب کیا ہو اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں سے پانی نکال کر سیراب کیا ہو اس پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا سُقِیَ سَیْحًا فَفِیہِ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِیَ بِالْغُرْبِ فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ. (دارقطنی ۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
(١٠١٧٤) حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن والوں کو لکھا کہ : جس زمین کو آسمان سیراب کرے یا جاری پانی سیراب کرے، گندم، جو، کشمش اور کھجور ہوں تو اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں کے ذریعہ پانی نکال کر سیراب کیا گیا ہو اس پر نصف عشر ہے۔
(۱۰۱۷۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْیَمَنِ : یُؤْخَذُ مِمَّا سَقَتِ السَّمَائُ ، وَسُقِیَ بِالْغَیْلِ مِنَ الْحِنْطَۃِ ، وَالشَّعِیرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِیبِ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِیَ بِالسَّوَانِی نِصْفُ الْعُشْرِ.
তাহকীক: